- فتوی نمبر: 35-363
- تاریخ: 13 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > میاں بیوی کا طلاق میں اختلاف
استفتاء
مینوں پہلا ں وی ماردا ہوندا سی میرے تے ظلم کردا سی اِک دن فیر انہیں مینو ں ماریا سی تے میں انو کیا سی کہ میری میرے گھر والیاں نال گل کروا دے ، اونے میری گل نئیں کروائی تے اونے آپ گل کیتی سی تے او میرے گھر والیاں نال لڑن لگ پیا اوس تو بعد مینوں مارن لگ پیا تے مینوں کہندا کہ “طلاق ،طلاق ،طلاق “میں تینوں طلاق دیناواں تینوں طلاق دیناواں تینوں طلاق دینا واں فیرمیرا نام لے کے کہندا “شگفتہ تینوں طلاق دیناواں”
ترجمۂ سوال: مجھے پہلے بھی مارتے تھے اور میرے اوپر ظلم کرتے تھے ایک دن پھر اس نے مجھے مارا تو میں نے ان کو کہا کہ میرے گھر والوں سے بات کرا دے تو انہوں نے بات نہیں کروائی اور خود بات چیت شروع کی اور میرے گھر والوں کے ساتھ لڑائی شروع کر دی اس کے بعد مجھے مارنا شروع کیا اور مجھے کہتا ہے کہ” طلاق ،طلاق ،طلاق ،میں تمہیں طلاق دیتا ہوں، تمہیں طلاق دیتا ہوں ، تمہیں طلاق دیتا ہوں ” پھر میرا نام لے کر کہا کہ” شگفتہ تمہیں طلاق دیتا ہوں”
شوہر کا بیان:
شوہر کہہ رہا ہے کہ میں نے صرف دو طلاقیں دی ہیں۔دو مرتبہ سے زیادہ طلاق کے الفاظ نہیں بولے۔
بیوی کا بیان:
بیوی سے رابطہ ہوا تو بیوی کہہ رہی ہے کہ سات آٹھ دفعہ طلاق کے الفاظ شوہر نے بولے ہیں.
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر کے بیان کے مطابق دو طلاقیں ہوئیں ہیں تاہم بیوی کے بیان کے مطابق بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوچکی ہے لہٰذا اب اس کے لیے شوہر کے ساتھ رہنا جائز نہیں۔
توجیہ :طلاق کے معاملے میں بیوی کی حیثیت قاضی کی طرح ہوتی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنے علم کے مطابق عمل کرنے کی پابند ہوتی ہے ۔ مذکورہ صورت میں چونکہ بیوی کے بیان کے مطابق شوہر نے سات آٹھ دفعہ صریح طلاق کے الفاظ بولے ہیں لہٰذا بیوی کے حق میں الصریح یلحق الصریح کے تحت تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔
فتاوی شامی (449/4) میں ہے:
المرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه.
درمختار مع رد المحتار (3/293)میں ہے۔
[فروع] كرر لفظ الطلاق وقع الكل
(قوله كرر لفظ الطلاق) بأن قال للمدخولة: أنت طالق أنت طالق أو قد طلقتك قد طلقتك أو أنت طالق قد طلقتك أو أنت طالق وأنت طالق، وإذا قال: أنت طالق
بدائع الصنائع (3/295)میں ہے ۔
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة؛
فتاوی محمودیہ (13/297)میں ہے ۔
سوال :زید اپنی زوجہ کو تنگ کرتا تھا اس کا باپ اپنے گھر لانے کے لئےلے گیا اور زید پر اپنا ارادہ ظاہر کیا تو زید نے کہا کہ تم اس وقت اگر لے جاؤ گے تو” میں ازاد کر دوں گا” یہ سننے کے بعد زوجہ کے باپ نے کہا پسر سے کہ ان کا جھگڑا چلتا رہے گا یہ سن کر زید نے کہا تین مرتبہ کہ میں طلاق دے چکا ہوں زوجہ کا باپ لڑکی کو اپنے ہمراہ لے گیا زید طلاق سے منکر ہے اور کہتا ہے کہ اس نے صرف یہ کہا تھا کہ اگر تم لے گئے میں طلاق دے دوں گا شہادت جانبین کی موجود ہے زوجہ اپنے باپ کے بیان کی تائید کرتی ہے اور الفاظ مذکورہ سابقہ کا خود سننا ظاہر کرتی ہے صورت مذکورہ میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں ؟اور نکاح کی تجدید کس طرح ممکن ہے؟
جواب :جب عورت نے تین مرتبہ طلاق دینا خود اپنے کان سے سنا ہے تو پھر اس کے لیے زید کو اپنے اوپر قدرت دینا جائز نہیں جو جائز صورت بھی عورت کے قبضے میں زید سے بچنے کی ہو اختیار کیا جائے۔والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل. (عالمگیری 2 /369)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved