• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میاں بیوی کے درمیان طلاق میں اختلاف کی ایک صورت

استفتاء

میری شادی کو نو سال ہو گئے ہیں ۔شادی کے سات ماہ بعد  لڑائی جھگڑا ہوا ۔ میں نے شوہر سے کہا مجھے چھوڑدو جس پر انہوں  نے دو دفعہ کہا “کہ میں تمہیں چھوڑتا ہوں ” اور اس وقت ان کی  طلاق کی  نیت نہیں تھی ۔  اس کے بعد ہم اکٹھے رہتے رہے  پھر اس کے چار سال بعد ایک مرتبہ  غصے میں کہا کہ ” میری طرف سے تم فارغ ہو  “۔اس کے بعد اپنی ماں کو جاکر بھی کہا کہ” میں نے اس کو چھوڑ دیا ہے”  اور وہ مجھے میرے میکے چھوڑ کر آگئے ۔اور اب پھر پچھلے سال اگست کی بات ہے مجھے واضح لفظوں میں کہا کہ” میں تمہیں طلاق دیتا ہوں” چھ سات مرتبہ یہ جملہ کہا ہے ۔بہت سے فتوے لیے گئے ہیں ۔ میں نے اپنے شوہر سے رضامندی سے رجوع کر لیا تھا لیکن اب بھی ہم الگ ہیں وہ اپنے گھر میں ہیں  اور میں اپنے گھر میں ہوں ۔ کیا اس صورت میں واپسی کی گنجائش ہے یا دوسرا نکاح کسی اور مرد سے جائز ہے ؟

دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا تواس  نے درج ذیل  بیان دیا ۔

شوہر کا بیان :

شادی کے بعد پہلے واقعہ میں  بیوی نے کہا تھا : میری جان چھڈ دو ! تو میں نے غصہ میں کہا تھا تو ہے ہی فارغ  ۔ طلاق  کی کوئی نیت نہیں تھی بلکہ یہ جملہ عام محاورہ کے مطابق ہی بولا تھا ۔ جیسے کسی کو کہتے ہیں  کہ تو فارغ انسان ہے ۔ اس کے بعد دوسرا واقعہ آج سے تقریبا چار سال قبل ہوا تھا کہ میں  نے غصہ میں بیوی کوطلاق کی نیت کے بغیر  کہا  تھا کہ ” توں میرے ولوں فارغ اے ” یعنی تو میری طرف سے فارغ  ہے ۔اس کے بعد پچھلے سال اگست میں میرے منہ سے طلاق کے الفاظ  کئی مرتبہ نکلے ہیں “کہ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔” مجھے تو پتا ہی نہیں چلا میرے منہ سے کتنی مرتبہ  یہ نکل گیا تقریبا چار پانچ دفعہ تو ہوگا  ۔ میں نے اہل حدیث سے فتوی  لیا ہے انہوں نے بتایا ہے کہ اس طرح  یعنی ایک مجلس میں اکٹھی طلاقیں دی جائیں تو ایک ہی ہوتی ہے اللہ کے نبی ﷺ کے دور میں  بھی ایسے ہی واقعات ہوئے تھے ۔ آپ حضرات میری راہنمائی فرمائیں ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوچکی ہے، لہٰذا اب رجوع یا صلح کی گنجائش باقی نہیں رہی۔نیز تین طلاقیں اکٹھی دی  جائیں یا الگ الگ دی  جائیں تینوں ہی واقع ہوتی ہیں ۔ یہی موقف جمہور  صحابہ کرام  رضوان اللہ علیہم اجمعین  ،تابعین ؒ  ،تبع تابعین   ؒ، ائمہ اربعہ (امام ابو حنیفہ  ؒ   ،امام مالک     ؒ ،   امام شافعی ؒ   ،  امام ابن حنبل ؒ) اور جمہور( اکثر) امت مسلمہ کا ہے ۔

توجیہ  : طلاق کے معاملہ میں بیوی کی حیثیت قاضی کی طرح  ہے  لہٰذا اگر وہ طلاق کے الفاظ خود سن لے یا اسے معتبر ذریعہ سے اطلاع مل جائے تو وہ اسی کی پابند ہوتی ہے ۔اس لیے   مذکورہ صورت  میں بیوی کے بیان کے مطابق  جب شوہر نے دو مرتبہ کہا ” کہ میں تمہیں چھوڑتا ہوں ” تو  اس سے   بیوی کے حق میں  دو رجعی طلاقیں واقع ہوگئیں۔ اس کے بعد میاں بیوی اکٹھے رہتے رہے  تو رجوع ہوگیا ۔ پھر دوسرے موقع پر جب شوہر نے  غصہ کی حالت میں یہ کہا کہ ” تو میری طرف  سے فارغ ہے” تو چونکہ یہ الفاظ    کنایہ طلاق کی تیسری قسم میں سے ہیں جن سے غصہ کی حالت میں بدون نیت  بھی طلاق ہوجاتی ہے لہٰذا اس جملہ سے بائنہ طلاق واقع ہوگئی ۔ اور پہلی دو طلاقوں کو ملا کر بیوی کے حق میں تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں ۔اور شوہر نے اپنے اس جملہ میں کہ ” توں میرے  ولوں فارغ اے ”   طلاق کی نیت کا انکار کیا ہے اس لیے شوہر کے حق میں اس سے کوئی طلاق واقع  نہیں ہوئی ۔ البتہ ا س کے بعد جو صریح الفاظ میں شوہر نے کئی  طلاقیں دی ہیں   اس سے تینوں طلاقیں واقع  ہوگئیں ۔

صحیح بخاری (2/792) میں ہے :

باب: من قال لامرأته: أنت علي حرام…….وقال الليث، عن نافع: كان ابن عمر إذا سئل عمن طلق ثلاثا قال: لو طلقت مرة أو مرتين، فإن النبي صلى الله عليه وسلم أمرني بهذا، فإن طلقتها ثلاثا حرمت حتى تنكح زوجا غيرك.

ترجمہ :  حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے جب ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا جاتا جس نے تین طلاقیں دی ہوں تو وہ فرماتے کہ اگر تم  ایک یا دو طلاقیں   دے دیتے ( تو پھر وہ حلال ہو سکتی  تھی ) کیونکہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی کا حکم دیا تھا ۔ اگر  تم نے تین طلاقیں دے دی ہیں  تو پھر وہ حرام ہوگئی  ہے جب تک کہ وہ دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرلے۔

سنن  ابی داؤد (رقم الحدیث :2197) میں ہے :

عن مجاهد، قال: كنت عند ابن عباس، فجاءه رجل فقال: إنه طلق امرأته ثلاثا، قال: فسكت حتى ظننت أنه رادها إليه، ثم قال: ينطلق أحدكم فيركب الحموقة ثم يقول: يا ابن عباس، يا ابن عباس، وإن الله قال: {ومن يتق الله يجعل له مخرجا} [الطلاق: 2] وإنك لم تتق الله فلا أجد لك مخرجا، عصيت ربك، وبانت منك امرأتك

ترجمہ :   مجاہد رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ اس نے اپنی بیوی کو (اکٹھی) تین طلاقیں دے دی ہیں تو (کیا کوئی گنجائش ہے  !  اس پر) عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما اتنی دیر تک خاموش رہے کہ مجھے یہ خیال ہونے لگا کہ (حضرت کوئی صورت سوچ کر) اسے اس کی بیوی واپس دلا دیں گے۔ پھر انہوں نے فرمایا کہ تم میں سے ایک شخص شروع ہوتا ہے تو حماقت پر سوار ہو جاتا ہے اور (تین طلاقیں دے بیٹھتا ہے) پھر آ کر کہتا ہے اے ابن عباس   !اے ابن عباس   !( کوئی راہ نکالیے کی دہائی دینے لگتا ہے)اللہ تعالی کا فرمان ہے : ومن يتق الله يجعل له مخرجا ( سورۃ الطلاق ) (جو کوئی اللہ سے ڈرے تو اللہ اس کے لیے خلاصی کا راستہ نکالتے ہیں)۔

تم نے تو اللہ سے خوف نہیں کیا (اور تم نے اکٹھی تین طلاقیں دے دیں جو کہ گناہ کی بات ہے )تو میں تمہارے لیے کوئی راہ نہیں پاتا ۔اکٹھی تینوں طلاقیں دے کر تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اور تمہاری بیوی تم سے جدا ہوگئی۔

عمدۃ القاری (1/232)  میں ہے:

مذهب جماهير العلماء من التابعين ومن بعدهم من الاوزاعي والنخعي والثوري و ابو حنيفه واصحابه ومالك واصحابه والشافعي واصحابه واحمد واصحابه و اسحاق وابو ثور وابو عبيدة وآخرون كثيرون على ان من طلق امراته ثلاثا يقعن ولكنه ياثم.

رد المحتار (4/519) میں ہے

فإذا قال “رهاكردم ” أي سرحتك يقع به الرجعي مع أن أصله كناية أيضا، وما ذاك إلا لأنه غلب في عرف الناس استعماله في الطلاق وقد مر أن الصريح ما لم يستعمل إلا في الطلاق من أي لغة كانت.

شامی(4/531 ) میں ہے:

المرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل لها تمكينه ۔

فتاوی ہندیہ(2/411)میں ہے:

وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية.

احسن الفتاوی (5/188) میں ہے:

الجواب باسم ملہم الصواب:  بندہ کا خیال بھی یہی ہے کہ عرف میں یہ لفظ (تو فارغ ہے۔از  ناقل) صرف جواب ہی کے لیے مستعمل ہے اس لئے عند القرینہ بلانیت بھی اس سے طلاق بائن واقع ہوجائے گی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved