- فتوی نمبر: 35-194
- تاریخ: 29 مئی 2026
- عنوانات: مالی معاملات > مضاربت
استفتاء
ایک مضاربت کے معاہدے میں درج ذیل شرائط رکھی جا رہی ہیں:
ربّ المال (سرمایہ فراہم کرنے والا) دو سال کی مدت مکمل ہونے سے پہلے اپنا سرمایہ واپس لینے کا مطالبہ نہیں کرے گا۔
اگر ربّ المال دو سال سے پہلے مضاربت ختم کر کے نکلنا چاہے تو اس کے اصل سرمایہ میں سے20% رقم کاٹ لی جائے گی۔
براہِ کرم درج ذیل امور کی وضاحت فرمائیں:
1۔کیا پہلی شرط (دو سال تک سرمایہ واپس نہ لینے کی پابندی) مقتضائے عقدِ مضاربت کے مطابق ہے یا اس کے خلاف؟یہ شرط شرعاً باطل ہے یا فاسد؟
2۔دوسری شرط (مدت سے پہلے نکلنے پر اصل سرمایہ سے 20٪ کٹوتی) کی شرعی حیثیت کیا ہے؟
3۔کیا ان شرطوں کی موجودگی میں عقدِ مضاربت صحیح رہے گا یا فاسد ہو جائے گا؟
4۔ کاروبار کو استحکام دینے کے لیے اس کا جائز شرعی متبادل طریقہ کیا ہو سکتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ شرط مقتضائے عقد کے خلاف اور باطل ہے ۔
2۔مذکورہ شرط مالی جرمانے کی ہے اور ناجائز ہے ۔
3۔مذکورہ شرائط باطل ہوں گی اور عقد صحیح رہے گا ۔
4۔فی الحال کوئی متبادل ہماری نظر میں نہیں ۔
ہدایہ (2/258) میں ہے:
وكل شرط يوجب جهالة في الربح يفسده لاختلال مقصوده، وغير ذلك من الشروط الفاسدة لا يفسدها، ويبطل الشرط كاشتراط الوضيعة على المضارب
بدائع الصنائع (6/109) میں ہے:
وأما صفة هذا العقد فهو أنه عقد غير لازم، ولكل واحد منهما أعني رب المال والمضارب الفسخ
شامی (4/61) میں ہے:
والحاصل ان المذهب عدم التعزير بأخذ المال
البحرالرائق (5/41) میں ہے:
وفي شرح الآثار التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved