- فتوی نمبر: 26-331
- تاریخ: 01 جولائی 2026
- عنوانات: عبادات > متفرقات عبادات
استفتاء
جمعہ کی نماز وغیرہ میں بندوں کی رانوں (گوڈوں)کے درمیان سے یا رانوں کے اوپر پسلیوں کے درمیان سے گزر کر ا ٓگے اس احتیاط سے جاناکہ نمازیوں کو پاؤں بھی نہ لگے ۔کیا مسلمانوں کے کندھے پھلانگنے والی وعید میں تو نہیں ا ٓئے گا؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
اگر آگے جگہ موجود ہو اور امام نے خطبہ نہ شروع کیا ہوتو اس صورت میں آگے جانا جائز ہے اگر چہ لوگوں کو اس سے تشویش ہی کیوں نہ ہو کیونکہ آگے جگہ ہوتے ہوئے ان کا پیچھے بیٹھ جانا درست نہ تھا ۔اور اگر جگہ نہ ہو تو پھر اگر لوگوں کو اس کے درمیان سے نکل جانے سے تکلیف و تشویش نہ ہو تب آگے جانا جائز ہے اور اگر امام خطبہ شروع کر چکا ہو تو پھر بس جہاں جگہ ملے بیٹھ جائےآگے جانا جگہ ہو نے کے با وجود جائز نہیں ہے۔
عمدۃ القاری (6/207)میں ہے:
«حَدِيث جَابر بن عبد الله: (أَن رجلا دخل الْمَسْجِد يَوْم الْجُمُعَة وَرَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم يخْطب، فَجعل يتخطى النَّاس فَقَالَ رَسُول الله صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: إجلس فقد آذيت وآنيت) . أخرجه ابْن مَاجَه»
عمدۃ القاری(6/208)میں ہے:
وَعند أَصْحَابنَا الْحَنَفِيَّة لَا بَأْس بالتخطي والدنو من الإِمَام إِذا لم يؤذ النَّاس وقيل: لا بأس به إذا لم يأخذ الإمام في الخطبة، ويكره إن أخذ. وقال الحلواني: الصحيح أن الدنو من الإمام أفضل لا التباعد منه….
كوكب الدری علی جامع الترمذی(1/421)میں ہے:
«قوله [من تخطى رقاب الناس يوم الجمعة اتخذ جسرًا إلى جهنم] وأما تقييد يوم الجمعة فاتفاقي لما أنه سبب كثرة وازدحام…..
فتاوی ہندیہ(1/316)میں ہے:
ولا يتخطى رقاب الناس للدنو من الإمام وذكر الفقيه أبو جعفر عن أصحابنا – رحمهم الله تعالى- أنه لا بأس بالتخطي ما لم يأخذ الإمام في الخطبة ويكره إذا أخذ؛ لأن للمسلم أن يتقدم ويدنو من المحراب إذا لم يكن الإمام في الخطبة ليتسع المكان على من يجيء بعده وينال فضل القرب من الإمام فإذا لم يفعل الأول فقدضيع ذلك المكان من غير عذر فكان للذي جاء بعده أن يأخذ ذلك المكان وأما من جاء والإمام يخطب فعليه أن يستقر في موضعه من المسجد؛ لأن مشيه وتقدمه عمل في حالة الخطبة، كذا في فتاوى قاضي خان۔
عمدۃ الفقہ(2/450)میں ہے:
امام سے قریب ہونے کے واسطے لوگوں کی گردنیں پھلانگ کر جانا خطبہ کے وقت مکروہ تحریمی ہےالبتہ جب تک امام نے خطبہ شروع نہیں کیا تب تک پھلانگنا جائز ہے جبکہ لوگوں کو ایذاء نہ دے مثلا کسی کا کپڑا نہ دبائے یا کسی کے بدن پر پاؤں نہ رکھے۔اس لئے ہرمسلمان کو چاہئےکہ جب تک امام نے خطبہ شروع نہیں کیا آگے بڑھے اور محراب سے قریب ہوتاکہ پیچھے سے آنے والوں کےلئے گنجائش ہو اور امام سے قریب ہونے کی فضیلت حاصل کرے اور جب پہلے لوگوں نے ایسا نہیں کیا تو بلا عذر اپنی جگہ ضائع کی پس جو شخص بعد میں آیا اس کو اس جگہ لینے کا اختیا ر ہے اور مجبورا ً لوگوں کو پھلانگ کر جانا جائز ہے اس لیے کہ قصور ان لوگوں کا ہے کہ انھوں نے جماعت کو پہلے سے نہیں بھرا ۔اور اگر لوگوں کو پھلانگے اور ایذا دئیےبغیر آگے پہنچ سکے تو اگر آگے جگہ نہیں لیکن جانتا ہے کہ لوگ بخوشی جگہ دیں گے تب بھی آگے جانا بہتر ہے ورنہ جہاں جگہ مل جائے وہیں بیٹھ جائے۔اور جو شخص امام کے خطبہ پڑھتے وقت آئے تو اس کو چاہیےکہ مسجد میں اپنی جگہ پر (یعنی پیچھے جہاں بآسانی جگہ مل جائے۔مؤلف)بیٹھ جائے اس واسطہ کہ چلنا اور آگے بڑھنا اور لوگوں کی گردنیں پھلانگنا ایک عمل ہے جو خطبہ کی حالت میں حرام و ممنوع ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved