• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ناپاک روئی کو پاک کرنے کا طریقہ

استفتاء

اگر روئی کے گدے جو چار پائی پر بچھائے جاتے ہیں ناپاک ہو جائیں جیسے بچے پیشاب وغیرہ کر دیتے ہیں تو پنجائی (دھنائی)کرنے سے وہ پاک ہو جاتے ہیں یا ان کو دھونا پڑے گا ہم نے سنا ہے کہ پنچائی( دھنائی )کرنے سے پاک ہو جاتے ہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر گدے کی روئی آدھی یا آدھی سے زیادہ ناپاک ہو گئی ہو تو وہ دھنائی سے پاک نہیں ہوگی بلکہ اسے دھونا ضروری ہوگا اور اگرآدھی سے کم اتنی مقدار میں ناپاک ہوئی ہے جتنی مقدار عموماً دھنائی میں اڑ جاتی ہے تو دھنائی سے بھی پاک ہو جائے گی۔

فتاوی ہندیہ(1/50) میں  ہے :

المحلوج النجس إذا ندف إن كان الكل أو النصف نجسا لا يطهر وإن كان يسيرا بحيث يحتمل أن يذهب بهذا الفعل يحكم بطهارته كالكدس إذا تنجس فقسم بين الدهقان والعامل يحكم بطهارته.

البحر الرائق (1/414) میں ہے:

(قوله: ‌وبتثليث الجفاف فيما لا ينعصر) أي ما لا ينعصر فطهارته غسله ثلاثا وتجفيفه في كل مرة؛ لأن للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة وهو أن يتركه حتى ينقطع التقاطر ولا يشترط فيه اليبس

حاشیۃ الطحطاوی علی الدر (1/158) میں ہے:

وقد انتهيت  في الخزائن المطهرات الى نيف و ثلاثين وغيرت نظم ابن وهبان فقلت:

 وغسل ومسح والجفاف مطهر             ونحت وقلب العين والحفر يذكر

ودبغ وتخليل ذكاة تخلل                          وفرك ودلك والدخول التغور

تصرفه في البعض ندف ونزحها            ونار وغلي غسل بعض تقور.

(قوله وغيرت نظم ابن وهبان) أى في فصل المعاياة حيث قال فيها ملعزا

وآخر دون الفرك والدلك والجفا          ف والنحت قلب العين والغسل يطهر

ولا دبغ تخليل ذكاة تخلل                        ولا المسح والنزح  الدخول التغور

وزاد شارحها بيتا فقال:

اكل و قسم غسل بعض ونحلة             وندف وغلي بيع بعض تقرر

والندف في القطن ان تنجس اقل من نصفه كما في الفتاوى الهندية

امداد الفتاوی(1/339) میں ہے:

سوال: کیا فرماتے ہیں علمائے دین کے گدے رضائی میں نجاست غلیظہ پڑ جاوے تو روئی نکال کر پاک کرنا شرط ہے؟

جواب: روئی نکالنا شرط نہیں بلکہ مع روئی تین بار دھو ڈالنا کافی ہے اور نچوڑنا کچھ ضروری نہیں اگر دشوار ہو بلکہ تین بار پانی بہا دینا اور ہر بار تقاطر موقوف ہو جانا کافی ہے اور اگر نچوڑنا دشوار ہو تو تینوں بار نچوڑنا چاہیے۔

فتاویٰ عثمانی (1/317) میں ہے :

سوال: روئی اگر ناپاک ہو جائے تو اس کے پاک کرنے کا طریقہ کیا ہے؟

جواب: علامہ شامی رحمہ اللہ نے تطہیر کے جو طریقے ابن وہبان رحمہ اللہ سے نقل کیے ہیں،ان میں سے ایک ندف بھی ہے،جس کے معنی ہیں” دھننا” اور یہ طریقہ روئی ہی پر چسپاں ہو سکتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved