• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

نومولود کو دیا گیا تحفہ والدین کی ملکیت شمار ہوگا یا نومولود کی؟

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماءِ دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ   میرے بچپن میں میرے دادا جان نے مجھے بطورِ تحفہ سونے کے بٹن دیے تھے، جن پر قبضہ ہو جانے کے بعد وہ میری ملکیت بن چکے تھے۔ بالغ ہونے کے بعد میں اپنے محترم والدین سے اپنی اس ملکیت (سونے کے بٹن) کا مطالبہ کرتا رہا، لیکن انہوں نے وہ مجھے نہ دیے اور اپنے پاس ہی رکھے۔  اب شادی کے بعد اللہ تعالیٰ نے مجھے بیٹے سے نوازا ہے، تو والدین نے میری اجازت اور مرضی کے بغیر میری وہ ملکیت (سونے کے بٹن) اٹھا کر میرے بیٹے کو بطورِ تحفہ دے دیے ہیں۔ جس پر میں اپنے والدین کو کہتا رہا  کہ یہ میری ملکیت  ہیں  اور آپ اس طرح میری اجازت کے بغیر میرے بیٹے کو نہیں دے سکتے، لیکن انہوں نے میری بات نہ سنی۔میں اس بات کا دل سے اعتراف کرتا ہوں کہ والدین اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہیں اور ان کے احسانات کا شکر کبھی ادا نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن شرعی مسئلہ معلوم کرنے کے لیے درج ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں:

1۔کیا دادا کا بچپن میں دیا ہوا تحفہ شرعاً میری مکمل اور شخصی ملکیت بن چکا تھا؟

2۔کیا والدین کے لیے شرعاً یہ جائز ہے کہ وہ بالغ بیٹے کی ملکیت والی چیز اس کی اجازت اور مرضی کے بغیر کسی اور (خواہ اس کے اپنے بیٹے) کو تحفے میں دے دیں؟

3۔اس صورتِ حال میں شرعی لحاظ سے اس تحفے (سونے کے بٹن) کا کیا حکم ہے اور اب ان کا شرعی مالک کون ہے؟

وضاحت مطلوب ہے: والد کا رابطہ نمبر مہیا کریں۔

جواب وضاحت: *********

دارالافتاء کے نمبر سے والد سے رابطہ کیا گیا تو اس نے درج ذیل بیان دیا۔

والد کا بیان:

میرے خیال کے مطابق تومیرے والدنےمجھے ہی دیے تھے،  پوتامحض عنوان تھا اسی طرح میں نے بھی اپنے بیٹے ہی کودیے ہیں،  پوتامحض عنوان ہے وہ جیسے چاہے اس میں تصرف کرے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ دادا کا دیا ہوا تحفہ آپ کی ملکیت نہیں تھا بلکہ آپ کے والد کی  ملکیت تھا۔

2۔ والدین کے لیے شرعاً یہ جائز نہیں کہ وہ بالغ بیٹے کی ملکیت والی چیز اس کی اجازت اور مرضی کے بغیر کسی اور  کو تحفے میں  دیں، تاہم مذکورہ صورت میں آپ اس تحفے کے مالک نہیں تھے بلکہ آپ کے والد اس کے مالک تھے لہٰذا ان کا  کسی اور کو تحفے میں دینا جائز تھا۔

3 ۔اس صورتِ حال میں شرعی لحاظ سے اس تحفے کے مالک اب آپ ہیں ۔

توجیہ:ہمارے عرف  میں  عام طور نابالغ بچوں کوجو تحفے دیے جاتے ہیں  ان میں والدین کو دینا مقصود ہوتا ہے، بچہ صرف عنوان ہوتا ہے،   لہٰذا مذکورہ تحفہ پہلے تو سائل کے والد کی ملکیت تھا اب جب انہوں   نے یہ تحفہ اپنے پوتے  یعنی سائل کےبیٹے کو دے دیا ہے اور ان  کا مقصود اپنے بیٹے   کو دینا تھا، نہ کہ پوتے کو، پوتا صرف عنوان تھا،تو اس کا مالک سائل ہے  اور وہ اس میں جیسے چاہے تصرف کر سکتا ہے۔نیز اگر مذکورہ صورت میں سائل کے دادا کا اپنے پوتے  کو مالک بنانا مقصود تھا تب بھی سائل ہی اس تحفے کا مالک ہے بس فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے قبضہ سائل کے والد کا تھا اب قبضہ بھی سائل کا ہے۔

درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام (1/473) میں ہے:

‌لأن ‌للإنسان ‌أن ‌يتصرف في ملكه الخاص كما يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره

مسائل بہشتی زیور(2/335) میں ہے:

مسئلہ: کسی تقریب میں نومولود اور چھوٹے بچوں کو جو کچھ دیا جاتا ہے اس سے خاص اس بچہ کو دینا مقصود نہیں ہوتا بلکہ ماں باپ کو دینا مقصود ہوتا ہے اس لیے وہ سب نیوتہ بچہ کی ملک نہیں بلکہ ماں باپ اس کے مالک ہیں جو چاہیں سو کریں۔ البتہ اگر کوئی شخص خاص بچہ ہی کو کوئی چیز دے تو پھر وہی بچہ اس کا مالک ہے اگر بچہ سمجھدار ہے تو خود اسی کا قبضہ کر لینا کافی ہے جب قبضہ کر لیا تو مالک ہو گیا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved