• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

قرض کی واپسی کیسے کی جائے؟

استفتاء

قرض دینے والے کا بیان

میں نے ایک شخص کو سونے کا زیور دیا تھا اور اس کے ساتھ یہ بات طے ہوئی تھی کہ وہ مجھے اس کے بدلے میں سونے کازیور بنواکردے گا ۔اس دوران میرے تعلق والے ایک  حافظ صاحب میرے پاس آئے اور انہوں نے مجھ سے قرض مانگا ۔میں نے ان کوکہا کہ میرے پاس نقد روپے تو نہیں ہیں البتہ میں نے ایک صاحب سے سونا لینا ہے تم ان سے  پیسے لے لو اور مجھے بدلے میں سونا(زيور) بنواکر دے دینا ،چنانچہ حافظ صاحب نے ان سے قرضے کی رقم لے لی (پچاس اسی مجلس میں اور بقیہ ساڑھے چار ہزارکچھ دنوں کے بعد) اور مجھ سے یہ وعدہ کیا کہ وہ دو ماہ بعد مجھے  زیور بنا کردیں گے ۔

چونکہ پہلے بھی میں نے ان کو ایک مرتبہ اسی طرح قرض دیا تھا او ر انہوں نے مجھے پانچ 5 سال بعد زیور بنوا کر دیا تھا ، مجھے اندازہ تھا کہ یہ مجھے زیور بنوا کردے دیں گے ،اس لیے میں نے بھی واپسی   پر زیادہ اصرار نہیں کیا ،اس دوران پانچ سال گذر گئے  ۔اس عرصے میں ،میں ان سے کبھی کبھار کہہ بھی دیتاتھا اور یہ تسلیم کرتے تھے کہ ہاں میں نے تمہیں زیور بناکر دینا ہے ۔ایک مرتبہ میں نے اپنی اہلیہ کو ان کے گھر بھیجا کہ میری بیٹی کی شادی ہے آپ مجھے زیور بنواکردے دیں تو ان کی اہلیہ نے بھی یہی کہا تھا کہ ہماری یہی فکر ہے کہ آپ کو زیور بنواکر دے دیں ۔

ایک موقع پر میری ان (مقروض) کے سالے سے  کسی بات پر لڑائی ہو گئی جس پر حافظ صاحب بگڑ گئے اور باوجودیکہ پہلے اس کا اعتراف  کرتے تھے کہ میں تمہیں سونا(زيور)  بنوا کردوں  گا کہنے لگے کہ میں تمہیں روپے ہی دوں گا سونا نہیں دوں گا ۔ 

قرض لینے والے کا بیان

مجھے قرضہ چاہیے تھا اس لیے میں  زید  صاحب کےپاس گیا انہوں نے کہا کہ میرے پاس تو ابھی پیسے نہیں ہیں لیکن میں نے ایک بندے سے پیسے لینے ہیں ہم اس کے پاس جاکر پیسے لے لیتے ہیں ۔ ہم اس کے پاس گئے اور اس تیسرے بندے نے 50ہزار زید صاحب کو دئیے  اور زید صاحب نے پیسے مجھے دےدیئے اور کہا کہ باقی ساڑھے چارہزار آپ ان سے آکر لے جانا ۔ابھی ہم اس مجلس میں ہی تھے کہ اس تیسرے آدمی نے کہا کہ زید صاحب  آپ نے مجھ سے  پیسے لے لیے جبکہ میں آپ کو زیور بنواکر دےرہا تھا ،اس پر زید صاحب نے کہا کہ وہ تو مجھے حافظ صاحب بنواکردیں گے ،میں نے اس وقت تو کچھ نہیں کہا لیکن گھر آکر میں نے اپنی اہلیہ سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ زید صاحب کے پاس جائیں اور ان سے  پوچھیں کہ ہمیں ان کو زیور بنواکردینا ہوگا یا پیسے دینے ہوں گے ؟انہوں نے کہا کہ جب وقت آئے گا تو دیکھ لیں گے میں نے دوبارہ کہا تو انہوں نے کہا کہ جو آپ کا جی کرے وہ دے دینا ۔اس کے بعد انہوں نے ہم سے کبھی کچھ نہیں کہا ،ایک مرتبہ ہماری ان کے ساتھ کچھ لڑائی ہوگئی تو اس کے بعد وہ کہنے لگے کہ آپ نے ہمیں زیور ہی بنوا کر دینا ہے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں  خالد  صاحب  کے ذمے زید صاحب   کے اتنے ہی روپے لازم ہیں جتنے انہوں نے وصول کیے تھے، البتہ چونکہ وقت کے گذرنے سے  روپے کی قدر کم ہو چکی ہے اس لیے شرعاً مقرض(قرض دینے والے ) کو یہ اختیار ہے کہ  قرض دینے کے وقت اس  رقم کی جتنی چاندی آتی تھی وہ مقروض سے  اتنی چاندی  کا  مطالبہ کرے ،اس صورت میں مقروض کے ذمے اتنی چاندی واپس کرنا ضروری ہوگا ۔

توجیہ:مذکورہ صورت کا خلاصہ یہ ہے کہ زید صاحب(قرض دینے والے) کا کہنا یہ ہے  کہ انہوں نے خالد صاحب(مقروض) سے روپوں کے بدلے میں سونا لینا طے کیا تھا جبکہ خالد صاحب (مقروض)کے مطابق روپوں کی واپسی میں روپے دیناہی طے ہوا تھا ۔شرعی لحاظ سے  یہ صورت دعوٰ ی کی ہے جس میں زید صاحب(قرض دینے والے) مدعی اور خالد صاحب (مقروض)مدعیٰ علیہ ہیں اور ضابطہ یہ ہے کہ جب فریقین میں سے کسی کے پاس ثبوت نہ ہو تو اس صورت میں مدعیٰ علیہ كا قول تسلیم کیا جاتا ہے اورمدعیٰ علیہ  سے اس کے قول پر قسم بھی لی جاتی ہے ۔ اگر وہ قسم دیدے تو اس کے قول کے مطابق فیصلہ کیا جاتاہے ۔مذکورہ صورت میں خالد صاحب (مقروض)چونکہ مدعیٰ علیہ ہیں ا س لیے ان کو تسلیم کیا جائےگا البتہ ان کو  اپنے قول پر قسم دینی ہوگی اور قسم دینے کے بعداصلاً تو  ان کے ذمے اتنے روپے دینا لازم ہونگے جتنے انہوں نے وصول کیے تھے لیکن چونکہ وقت کے گذرنے سے  روپے کی قدر میں کمی آچکی ہے اس لیے شرعا  زید صاحب(قرض دینے والے  ) کو یہ اختیار ہے کہ  قرض دینے کے وقت اس  رقم کی جتنی چاندی آتی تھی اتنی چاندی  کا مقروض سے مطالبہ کرے اس صورت میں مقروض کے ذمے اتنی چاندی واپس کرنا ضروری ہوگا ۔یہ تب ہے کہ  خالد صاحب اپنے قول پر قسم دے دیں  اوراگر  خالد صاحب اپنے قول پر قسم نہ دیں تواس صورت میں زید صاحب کا قول معتبر ہو گا ۔اور زید صاحب کے قول کے مطابق فیصلہ کیا جائے تو اس صورت میں   زید صاحب کے بیان کے مطابق تو  خالد صاحب کے ذمے سونا لازم آتا ہےلیکن    شرعی لحاظ سے اس صورت میں بھی  خالد  صاحب  کے ذمے اتنے ہی روپے لازم آئیں گےجتنے انہوں نے وصول کیے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ زید صاحب کے قول کے مطابق بھی  یہ  صورت زیادہ سے زیادہ بیع سلم یا استصناع کی بن سکتی ہےاور مذکورہ صورت میں یہ بھی نہیں بن رہی ہے اس لیے کہ اول تو سونا چاندی میں بیع سلم ویسے ہی مختلف فیہ ہے اور اگر جواز کے قول کو بھی تسلیم کرلیا جائے تب بھی  زید  صاحب کے بیان کے مطابق  دونوں نے یہ بات طے نہیں کی کہ زیور کس قسم کا بنوانا ہےحالانکہ بیع سلم میں مبیع کے مکمل اوصاف بیان کرنا ضروری ہے نیز اس صورت میں یہ بھی معلوم نہیں ہے کہ سونا کتنے عرصے بعد حوالے کرنا ہے حالانکہ بیع سلم میں مدت طے کرنا شرط ہے لہذا یہ بیع سلم کی صورت نہیں بن سکتی ۔اسی طرح استصناع میں بھی یہ شرط  ہے کہ مستصنَع کے اوصاف کو مکمل طور پر بیان کیا جائےاور یہاں یہ شرط مفقود ہے۔لہذا مذکورہ صورت میں زید صاحب زیادہ سے زیادہ اس بات کا مطالبہ کرسکتے ہیں کہ جس وقت انہوں نے  خالد  صاحب کوقرضہ دیا تھا اس وقت 54ہزار کی جتنی چاندی آتی تھی،وہ ان سے   اتنی چاندی کا مطالبہ کریں۔

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  (7/ 193):

(قوله المدعي ‌من ‌إذا ‌ترك ترك والمدعى عليه بخلافه) أي المدعي من لا يجبر على الخصومة إذا تركها والمدعى عليه من يجبر على الخصومة إذا تركها، ومعرفة الفرق بينهما من أهم ما يبتنى عليه مسائل الدعوى، وقد اختلفت عبارات المشايخ فيه فمنها ما في الكتاب، وهو حد عام صحيح، وقيل المدعي من لا يستحق إلا بحجة كالخارج والمدعى عليه من يكون مستحقا بقوله من غير حجة كذي اليد، وقيل المدعي من يلتمس غير الظاهر والمدعى عليه من يتمسك بالظاهر،

وقال محمد في الأصل المدعى عليه هو المنكر، وهذا صحيح لكن الشأن في معرفته، والترجيح بالفقه عند الحذاق من أصحابنا؛ لأن الاعتبار للمعاني دون الصور

بدائع الصنائع (4/525)میں ہے:

والأصل أن الاختلاف متى وقع بين صاحب الدين وبين المديون ‌في ‌قدر ‌الدين أو في جنسه أو نوعه أو صفته كان القول قول المديون مع يمينه؛ لأن صاحب الدين يدعي عليه زيادة وهو ينكر فكان القول قوله مع يمينه؛ لأنه صاحب الدين، وأيهما أقام البينة قبلت بينته وسقطت اليمين

شامی(53/7)میں ہے:

أما إذا غلت قيمتها أو انتقصت فالبيع على حاله ولا يتخير المشتري، ويطالب بالنقد بذلك العيار الذي كان وقت البيع كذا في فتح القدير. وفي البزازية عن المنتقى غلت الفلوس أو رخصت فعند الإمام الأول والثاني، أولا ليس عليه غيرها، وقال: الثاني ثانيا عليه قيمتها من الدراهم يوم البيع والقبض وعليه الفتوى، وهكذا في الذخيرة والخلاصة عن المنتقى، ونقله في البحر وأقره، فحيث صرح بأن الفتوى عليه في كثير من المعتبرات، فيجب أن يعول عليه إفتاء وقضاء، ولم أر من جعل الفتوى على قول الإمام هذا خلاصة ما ذكره المصنف – رحمه الله تعالى – في رسالته: بذل المجهود في مسألة تغير النقود وفي الذخيرة عن المنتقى إذا غلت الفلوس قبل القبض أو رخصت. قال: أبو يوسف، قولي وقول أبي حنيفة في ذلك سواء وليس له غيرها، ثم رجع أبو يوسف وقال: عليه قيمتها من الدراهم، يوم وقع البيع ويوم وقع القبض. اهـ. وقوله: يوم وقع البيع أي في صورة البيع، وقوله: ويوم وقع القبض أي في صورة القرض كما نبه عليه في النهر في باب الصرف.

وحاصل ما مر: أنه على قول أبي يوسف المفتى به لا فرق بين الكساد والانقطاع والرخص والغلاء في أنه تجب قيمتها يوم وقع البيع أو القرض لا مثلها، وفي دعوى البزازية، من النوع الخامس عشر، عن فوائد الإمام أبي حفص الكبير استقرض منه دانق فلوس حال كونها عشرة بدانق، فصارت ستة بدانق أو رخص وصار عشرون بدانق يأخذ منه عدد ما أعطى ولا يزيد ولا ينقص. اهـ. قلت: هذا مبني على قول الإمام، وهو قول أبي يوسف أولا، وقد علمت أن المفتى به قوله ثانيا بوجوب قيمتها يوم القرض، وهو دانق أي سدس درهم سواء صار الآن ستة فلوس بدانق أو عشرين بدانق تأمل.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved