- فتوی نمبر: 37-72
- تاریخ: 17 اکتوبر 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > حدود و قصاص > قتل کی حد
استفتاء
زید اور عمر ایک خراب اور ویران گاڑی پر بندوق سے گولیاں ماررہے تھےجبکہ ان دونوں کو یقین تھا کہ گاڑی کے اندر کوئی بھی نہیں ہے اور نفس الامر میں بھی اسی طرح تھا کہ گاڑی کے اندر کوئی بندہ نہیں تھا۔لیکن گاڑی کے دوسری طرف ایک بندہ موجود تھا اور زید اور عمر کو اس شخص کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا ۔ ایک گولی جاکر اس شخص پر لگی اور وہ مرگیالیکن یہ نہیں پتہ چلا کہ کس کی گولی اس پر لگی جس سے وہ مرگیا۔سوال یہ ہے کہ:
1۔یہ قتل کی کونسی قسم ہے؟
2۔اگر یہ قتلِ خطا ء ہے تو اس میں دیت کس پر لازم ہوگی؟
نوٹ: سائل ایک امام مسجد ہے جس سے مسئلہ پوچھا گیا ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
1۔مذکورہ صورت قتل خطاء کی ہے۔
2۔مذکورہ صورت میں اگر کسی طریقے سے معلوم ہوجائے کہ مقتول کو کس کی گولی لگی ہے ؟ تو جس کی گولی لگی ہے اسی کے عاقلہ پر دیت آئے گی اور کفارہ بھی واجب ہوگا اور اگر کسی طریقے سے بھی معلوم نہ ہوسکے کہ کس کی گولی مذکورہ شخص کو لگی ہے تو دونوں کے عاقلہ پر آدھی آدھی دیت آئے گی۔ اور دونوں پر کفارہ بھی واجب ہوگا۔
نوٹ: قتل خطاء کا کفارہ یہ ہے کہ ساٹھ روزے مسلسل رکھے اور عاقلہ کی تفصیل احسن الفتاویٰ کے حوالے میں مذکور ہے۔
ہدایہ (4/443) میں ہے:
والخطأ على نوعين: خطأ في القصد، وهو أن يرمي شخصا يظنه صيدا، فإذا هو آدمي، أو يظنه حربيا فإذا هو مسلم وخطأ في الفعل، وهو أن يرمي غرضا فيصيب آدميا، وموجب ذلك الكفارة، والدية على العاقلة
تکملہ فتح القدیر (10/398) میں ہے:
ولو قتل عشرة رجلا خطأ فعلى كل واحد عشر الدية في ثلاث سنين اعتبارا للجزء بالكل إذ هو بدل النفس، وإنما يعتبر مدة ثلاث سنين من وقت القضاء بالدية لأن الواجب الأصلي المثل والتحول إلى القيمة بالقضاء فيعتبر ابتداؤها من وقته
(قوله ولو قتل عشرة رجلا خطأ فعلى كل واحد عشر الدية في ثلاث سنين اعتبارا للجزء بالكل) أقول: قد مر في كتاب الجنايات أنه إذا قتل جماعة واحدا عمدا اقتص من جميعهم، وقالوا في بيان وجهه: إن كل واحد منهم قاتل بوصف الكمال، لأن القتل لا يتجزأ فجاء التماثل بين الواحد والجماعة من هذه الحيثية فوجب القصاص على جميعهم
اللباب فی شرح الکتاب (3/150) میں ہے:
(وإذا قتل جماعة واحداً اقتص من جميعهم) ، لقول عمر رضي الله عنه (ولو تمالأ عليه أهل صنعاء لقتلتهم) ولأن القصاص مزجرة السفاء، فيجب تحقيقا لحكمة الإحياء، وفي التصحيح: قال في الفوائد: وتشترط المباشرة من الكل بأن جرح كل واحد جرحا ساريا، اهـ. وهذا إذا كان القتل عمداً، وأما إذا كان خطأ فالواجب عليهم دية واحدة
فتاویٰ تاتارخانیہ (19/364) میں ہے:
ولو أن عشرة قتلوا رجلا عمدا واحدهم أبوه فإن القصاص سقط عنهم جميعا ويجب على جميعهم دية واحدة وعلى كل واحد عشر الدية وعلى كل واحد كفارة لو كان خطأ.
شامی (6/574) میں ہے:
(وكفارتهما) أي الخطأ وشبه العمد (عتق قن مؤمن فإن عجز عنه صام شهرين ولاء ولا إطعام فيهما) إذ لم يرد به النص والمقادير توقيفية
احسن الفتاویٰ (8/541) میں ہے:
اگر قاتل اہل دیوان سے ہو تو اس کے عاقلہ اہل دیوان ہیں، یعنی وہ عاقل بالغ مرد جن کے نام سرکاری دفتر میں اس لیے درج ہوں کہ وہ کسی خدمت کے عوض یا بوجہ ضرورت سرکاری خزانہ سے وظیفہ پا رہے ہوں، اسی لیے ان کو اہل عطاء بھی کہا جاتا ہے۔ سب سے پہلے اہل دیوان کی اس جماعت سے دیت وصول کی جائے گی جس سے قاتل کا تعلق ہو، دیت وصول کرنے کی آئندہ تفصیل کے مطابق اگر یہ جماعت کافی نہ ہو تو اس سے اوپر کی جماعت کو شامل کیا جائے گا، پھر اس سے اوپر کی جماعت کو۔
عاقلہ کا مدار تناصر پر ہے، اس زمانے میں تناصر کی کئی صورتیں ہیں، مثلاً سیاسی جماعتیں، اہل حرفت، صنعتکاروں، تاجروں اور مزدوروں وغیرہ کی تنظیمیں، لہذا اگر قاتل کسی سیاسی جماعت یا کسی تنظیم کا رکن ہو گا تو اس کی عاقلہ یہ جماعت یا تنظیم ہو گی۔
اگر قاتل اہل دیوان سے نہ ہو اور کسی تنظیم یا سیاسی جماعت کا رکن بھی نہ ہو تو اس کے عاقلہ اس کے عصبات ہیں، اور ان پر وجوب دیت علیٰ ترتیب الارث ہے، پہلے ابناء پھر آباء پھر بھائی پھر بھتیجے پھر چچے پھر چچا زاد۔قاتل سے بھی حصہ دیت وصول کیا جائے گا، خواہ وہ اہل دیوان سے ہو یا نہ ہو۔اگر قاتل کے عاقلہ نہ ہوں تو بیت المال سے تین سالوں میں دیت ادا کی جائے گی، بشرطیکہ قاتل مسلم ہو اور اس کا کوئی وارث معروف نہ ہو، مثلاً لقیط ہو یا کوئی حربی اسلام لے آیا ہو، اگر قاتل ذمی ہو یا اس کا کوئی معروف وارث ہو، خواہ کتنا ہی بعید ہو یا بوجہ رق یا کفر محروم ہی ہو تو دیت بیت المال میں نہیں بلکہ قاتل کے اپنے مال میں سے، اسی طرح بیت المال میں دیت ہونے کی صورت میں اگر بیت المال موجود نہ ہو یا اس میں گنجائش نہ ہو تو دیت قاتل کے مال میں ہو گی، جو تین سالوں میں وصول کی جائے گی۔
دیت تین سالوں میں وصول کی جائے، ایک شخص سے ایک سال میں درہم 4.536 گرام سے زیادہ نہیں لیے جائیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved