- فتوی نمبر: 26-227
- تاریخ: 28 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > سود
استفتاء
زید ایک موبائل یا کوئی اور چیز جو معروف ہے لوگوں کو بذریعہ قرعہ اندازی دیتا ہے ،جس کا طریقہ کار یہ ہے کہ 500لوگوں میں سےہر ایک سے 100 روپے وصول کرتا ہے پھر ایک موبائل بذریعہ قرعہ اندازی کسی ایک شخص کو دے دیتا ہےاور بقیہ رقم اپنے کاروبار میں لگاکر اس سے نفع حاصل کرتاہےتاکہ دفتری اور دیگرضروریات پوری کرسکےپھر تین ماہ بعد باقی لوگوں کے سوسو روپے واپس کردیتا ہے۔ کیا زائد افراد سے مذکورہ رقم لیکر اس سے کاروبار کرنا اور نفع کمانا جائز ہے تاکہ مذکورہ ضروریات کو پورا کیا جاسکے؟
نوٹ: 1-مبیع(موبائل )ظاہر و واضح ہوگی2- زائد افراد سے لی گئی رقم تین ماہ میں واپس کردی جائے گی۔
تنقیح:1- مذکورہ معاملے میں فریقین پابند سمجھے جاتے ہیں یعنی قرعہ اندازی کے بعد قرعہ اندازی کرنے والا شخص موبائل دینے کا پابند ہوگا اور پیسے دینے والا شخص بھی موبائل لینے کا پابند ہوگا۔
2-جس شخص کا قرعہ نکلے اس کو اختیار ہوتا ہے کہ وہ موبائل لے یا اس کے پیسے وصول کرلے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت اختیار کرنا اورزائد رقم سے کاروبار کرنا جائز نہیں ۔
توجیہ:مذکورہ صورت میں چونکہ قرعہ نکلنے والے کو اختیار ہوتا ہے کہ چاہے وہ موبائل لے لے یا اس کی قیمت لے لے اور قیمت لینے کی صورت سود کی بنے گی کہ وہ شخص ایک سو دے کر زیادہ رقم لے رہا ہے اور چونکہ ابتداء سے ہی یہ آفر ہوتی ہے لہذا یہ صورت ناجائز ہوگی نیز مذکورہ صورت میں معاملہ کرتے وقت خریدار بھی مجہول ہوتا ہے کہ اصلا موبائل کی خرید وفروخت کس کے ساتھ ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved