- فتوی نمبر: 36-39
- تاریخ: 09 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > جن لوگوں سے نکاح کرنا ناجائز ہے
استفتاء
زید کی دو بیویاں ( عائشہ اور کلثوم ) ہیں۔ عائشہ وفات پا چکی ہے ان کے دو بچے (ایک بیٹا خالد اور ایک بیٹی زینب ) ہیں، پھر خالد کی دو بیٹیاں ہیں ایک بیٹی( خدیجہ ) ہے اور ایک بیٹی (رقیہ)ہے اور زینب کا بیٹا (عزیز ) ہے ، کلثوم کے ہاں زید کے بچے کی پیدائش ہوئی تو کلثوم کا دودھ اترا تھا اور ان دونوں (رقیہ اور عزیز) کو زید کی دوسری بیوی(کلثوم ) نے دو سال سے کم عمر میں یعنی مدت رضاعت میں دودھ پلایا یہ دونوں زید کے حقیقی پوتے اور نواسے اور رضاعی بچے بن گئے اور کلثوم کے بھی رضاعی بچے بن گئے ۔اب عزیز اپنی رضاعی بہن (رقیہ) کی حقیقی بہن خدیجہ سے نکاح کرسکتا ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں عزیز خدیجہ سے نکاح نہیں کرسکتا۔
توجیہ: زید کی وجہ سے کلثوم کا دودھ اترا ہے اور کلثوم نے یہی دودھ عزیز کو پلایا ہے لہٰذا زید عزیز کا رضاعی باپ ہوا اور خدیجہ زید کے فروع میں سے ہے اور رضاعی باپ کے اصول وفروع سب حرام ہوتے ہیں جیسے نسبی باپ کے اصول وفروع حرام ہوتے ہیں اس لیے عزیز کا نکاح خدیجہ سے جائز نہیں۔
المحیط البرہانی (4/49) میں ہے:
ومن جملة أسباب التحريم: الرضاع، فالرضاع في إيجاب الحرمة كالنسب والصهرية
ہندیہ (1/294) میں ہے:
كل من تحرم بالقرابة والصهرية تحرم بالرضاع على ما عرف في كتاب الرضاع، كذا في محيط السرخسي
ہندیہ (1/365) میں ہے:
يحرم على الرضيع أبواه من الرضاع وأصولهما وفروعهما من النسب والرضاع جميعا حتى أن المرضعة لو ولدت من هذا الرجل أو غيره قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت رضيعا أو ولد لهذا الرجل من غير هذه المرأة قبل هذا الإرضاع أو بعده أو أرضعت امرأة من لبنه رضيعا فالكل إخوة الرضيع وأخواته وأولادهم أولاد إخوته وأخواته وأخو الرجل عمه وأخته عمته وأخو المرضعة خاله وأختها خالته وكذا في الجد والجدة
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved