• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

رضاعی بھائی کے دیگر بہن، بھائیوں سے نکاح کا حکم

استفتاء

میرا نام  زید  ہے اور میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں ، میری دو بہنیں ہیں، میری والدہ اور میرے چچا کی اہلیہ دونوں  سگی بہنیں ہیں میرے چچاکے  تین بیٹے اور ایک بیٹی ہے صورت مسئلہ یہ ہے کہ میری والدہ نے میرے ایک چچا زاد بیٹے کو بچپن میں(جب وہ چالیس دن کا تھا ) دودھ پلایا تھا واضح رہے کہ صرف اسی  ایک چچا زاد نے  میری والدہ کا دودھ پیا ہے نہ تو ہم بہن بھائیوں میں سے کسی نے ان کی والدہ کا دودھ پیا ہے اور نہ ہی  میرے چچا کے باقی بیٹوں یا بیٹی نے میری والدہ کا دودھ پیا  ہے۔ اب درج ذیل امور میں شرعی طور پر رہنمائی مطلوب ہے:

1 ۔ میری بہنوں کا میرے چچا کے باقی بیٹوں کے ساتھ نکاح جائز ہے یا نہیں؟

2۔ میرا نکاح میرے چچا کی بیٹی کے ساتھ جائز ہے یا نہیں  ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1 ۔مذکورہ صورت میں آپ کی بہنوں کا آپ کے چچا کے باقی بیٹوں سے نکاح کرنا درست ہے۔

2 ۔ آپ کے لیے اپنے چچا کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے۔

توجیہ: رضاعت سے  صرف دودھ پینے والے کے حق میں  حرمت ثابت ہوتی ہے اور دودھ پلانے والی عورت کے اصول و فروع اس پر  حرام ہوتے ہیں اس کے باقی بہن بھائیوں کے حق میں حرمت ثابت نہیں ہوتی لہذا مذکورہ صورت میں آپ کی بہنوں کا آپ کے چچا کے باقی بیٹوں سے نکاح درست ہے اور آپ کےلیے اپنی چچا کی بیٹی سے نکاح کرنا  بھی درست ہے۔

ہدایہ (1/218) میں ہے:

ولبن ‌الفحل يتعلق به التحريم وهو أن ترضع المرأة صبية فتحرم هذه الصبية على زوجها وعلى آبائه وأبنائه ويصير الزوج الذي نزل لها منه اللبن أبا للمرضعة

الدر المختار (4/384) میں ہے:

(وتحل أخت أخيه رضاعا) ‌يصح ‌اتصاله بالمضاف كأن يكون له أخ نسبي له أخت رضاعية، وبالمضاف إليه كأن يكون لأخيه رضاعا أخت نسبا وبهما وهو ظاهر.

(و) كذا (نسبا) بأن يكون لأخيه لأبيه أخت لأم، فهو متصل بهما لا بأحدهما للزوم التكرار كما لا يخفى

کفایت المفتی (5/174) میں ہے:

سوال: دودھ شریک بھائی کس کو کہا جاتا ہے؟

جواب :جس عورت کا دودھ کوئی بچہ پی لے اس عورت کی تمام اولاد خواں پہلے کی ہو یا دودھ پلانے کے بعد کی اس بچے کے ساتھ دودھ شریک بھائی بہن ہو جاتی ہے اور اس دودھ پینے والے بچے کی شادی اس عورت کی کسی اولاد سے جائز نہیں ہوتی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved