• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سسر کا بہو سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی صورت میں مصاہرت کا حکم

استفتاء

میرے والد نے میری بیوی سے بہت گھٹیا حرکت کی، صرف اپنا نفس اندر نہیں کر پائے بڑھاپے کی وجہ سے، باقی سب کچھ کر چکے ہیں۔ اس بات کا اقرار میری بیوی نے خود کیا، اور یہ سب 5 مہینوں سے چل رہا ہے۔ 5 مہینوں میں 3 بار ہو چکا ہے۔ والد نے بھی تسلیم کر لیا ہے۔ اس معاملے میں شریعت کیا کہتی ہے؟

وضاحت مطلوب ہے: آپ کے والد کو انزال ہوا تھا یا نہیں؟ اگر ہوا تھا تو ہر مرتبہ ہوا یا ایک آدھی مرتبہ؟

جواب وضاحت: صرف ایک مرتبہ انزال ہوا، وہ بھی 20، 30 سیکنڈ میں، اور وہ بھی اوپر ہی ہوا، اور ایک بار ہوا، ہر بار نہیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں فقہ حنفی  کے عام ضابطے کی ُرو سے بیوی کے حق میں حرمت مصارت ثابت ہو گئی ہے اور بیوی شور پر حرام ہو گئی ہے البتہ بدلے ہوئے حالات کے پیشِ نظر بعض اہل علم کی تحقیق کے مطابق بیوی شوہر پر حرام نہیں ہوئی اس لیے میاں بیوی کے اکٹھےرہنے کی  مجبوری ہو تو اکٹھے رہنے کی بھی گنجائش ہے۔ تفصیل دیکھنی ہو تو حضرت  ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحب رحمہ اللہ کی کتاب “فقہ اسلامی ” میں دیکھ سکتے ہیں۔

ہندیہ (1/274) میں ہے:

وكما تثبت هذه الحرمة بالوطء ‌تثبت ‌بالمس والتقبيل والنظر إلى الفرج بشهوة              

ہندیہ (1/276) میں ہے:

رجل تزوج امرأة على أنها عذراء فلما أراد وقاعها وجدها قد افتضت فقال لها: من افتضك؟ . فقالت: أبوك إن صدقها الزوج؛ بانت منه ‌ولا ‌مهر ‌لها وإن كذبها فهي امرأته، كذا في الظهيرية

فتح القدیر (3/213) میں ہے:

‌وثبوت ‌الحرمة بمسها مشروط بأن يصدقها أو يقع في أكبر رأيه صدقها. وعلى هذا ينبغي أن يقال في مسه إياها: لا تحرم على أبيه وابنه إلا أن يصدقاه أو يغلب على ظنهما صدقه.

ثم رأيت عن أبي يوسف أنه ذكر في الأمالي ما يفيد ذلك، قال: امرأة قبلت ابن زوجها وقالت كان عن شهوة، إن كذبها الزوج لا يفرق بينهما، ولو صدقها وقعت الفرقة

حیلہ ناجزہ (ص:87) میں ہے:

اگر کوئی شخص کسی عورت سے زناکرے یا شہوت کے ساتھ اس کو صرف ہاتھ لگا دے یا شہوت سے بوسہ لے یا شرمگاہ کے اندرونی حصہ کو شہوت سے دیکھ لے   ان سب صورتوں میں حرمت  مصاہرت قائم ہو جاتی ہے یعنی اس مرد پر اس عورت کی بیٹی اور ماں وغیرہ سب اصول و فروع نسبی و رضاعی حرام ہو جاتے ہیں اور اس عورت پر اس مرد کا بیٹا اور باپ سب اصول و فروع نسبی و رضاعی حرام ہو جاتے ہیں ۔اسی طرح عورت کسی مرد کو شہوت سے ہاتھ لگا دے یا شہوت بوسہ لے  یا  مخصوص عضو پر نظر شہوت ڈالے تب بھی  حرمت مصاہرت  کا علاقہ قائم ہو کر مرد پر عورت کے تمام اصول و فروع نسبی و رضاعی اور عورت پر مرد کے تمام اصول و فروع نسبی و رضاعی ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاتے ہیں۔

فقہ اسلامی ،  مؤلفہ حضرت ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحبؒ (ص: 34) میں ہے:

چند اور احکام جو بدلے ہوئے حالات میں فقہ حنفی ہی کی رُو سے معلوم ہوتے ہیں:

…………. 2۔ مرد اگر اپنی بہو سے جماع  یا دواعی جماع کرلے تو وہ بہو کی ماں سے نکاح نہیں کرسکتا، البتہ بہو بیٹے کا نکاح باقی رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved