- فتوی نمبر: 35-272
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز پڑھنے کا طریقہ
استفتاء
چار رکعت سنتِ غیر مؤکدہ کی دوسری رکعت میں بیٹھنے کے بعد تشہد (التحیات) کہاں تک پڑھنا چاہیے؟
کیا صرف«اَشْهَدُ اَنْ لَّا اِلٰهَ اِلَّا الله وَ اَشْهَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُه وَ رَسُوْلُه»تک پڑھ کر کھڑے ہو جانا چاہیے یا پھر
درودِ ابراہیمی اور دعائیں پڑھ کر تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونا چاہیے؟
الجواب: دونوں طرح سے عمل کر سکتے ہیں البتہ دوسرا طریقہ افضل ہے۔اگر دوسرا طریقہ اختیار کریں تو تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے کے بعد ثناء، تعوذ اور تسمیہ بھی پڑھ لے۔
اشکال از مولانا **** صاحب:
مذکورہ بالا جواب میں نفل پڑھنے کے دو طریقے بتائے گئے ہیں اور پھر دوسرے طریقے کے بارے میں کہا گیا کہ اگر دوسرا طریقہ اختیار کریں تو تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہونے کے بعد ثناء و تعوذ بھی پڑھیں۔ تو سوال یہ ہے کہ کیا اگر پہلے قعدہ میں درود شریف اور دعا پڑھے اور تیسری رکعت میں ثناء و تعوذ نہ پڑھے یا اس کا برعکس ہو کہ پہلے قعدہ میں درود شریف اور دعا نہ پڑھے اور تیسری رکعت میں ثناء اور تعوذ پڑھے تو کیا یہ دو صورتیں بھی افضلیت میں آئیں گی؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
یہ دو صورتیں افضلیت میں نہ آئیں گی ۔
توجیہ: دوسرے طریقے کے افضل ہونے کی وجہ یہ ہے کہ ہر دو رکعت علیحدہ نماز ہے اور جب ہر دو رکعت علیحدہ نماز ہے تو اس کا تقاضا یہ ہے کہ ہر دو رکعت میں ثناء و تعوذ بھی ہو اور درود شریف اور دعا بھی ہو۔
شامی (1/459) میں ہے:
(قوله لأن كل شفع منه صلاة) كأنه والله أعلم لتمكنه من الخروج على رأس الركعتين، فإذا قام إلى شفع آخر كان بانيا صلاة على تحريمة صلاة، ومن ثمة صرحوا بأنه لو نوى أربعا لا يجب عليه بتحريمتها سوى الركعتين في المشهور عن أصحابنا، وأن القيام إلى الثالثة بمنزلة تحريمة مبتدأة، حتى أن فساد الشفع الثاني لا يوجب فساد الشفع الأول، وقالوا: يستحب الاستفتاح في الثالثة والتعوذ، وتمامه في الحلية
احسن الفتاویٰ (1/490) میں ہے:
سوال: سنت مؤکدہ یا غیر مؤکدہ کی چار رکعات کی نیت باندھی تو کیا دو رکعت پر بیٹھ کر درود شریف اور دعا بھی پڑھے گا یا نہیں؟ بینوا توجروا
الجواب : سنن غیر مؤکدہ میں دو رکعت پر درود شریف اور دعاء پڑھنا اور تیسری رکعت کے شروع میں ثناء پڑھنا افضل ہے، سنن مؤکدہ میں درود شریف نہ پڑھے ، اگر سہوا پڑھ لیا تو سجدہ سہو واجب ہوگا، البتہ جمعہ کے بعد کی سنتوں کے قعدہ اولیٰ میں درود شریف پڑھنا جائز ہے، اس سے سجدہ سہو نہیں، اس لئے کہ یہ چار رکعات اگرچہ مؤکدہ ہیں، مگر چاروں کو ایک سلام سے پڑھنا موکد نہیں۔
قال في شرح التنوير ولا يصلى على النبي صلى الله عليه وسلم في القعدة الأولى في الاربع قبل الظهر والجمعة وبعدها ولو صلى ناسيا فعليه السهو و قيل لا ، شمنی ولا يستفتح اذا قام الى الثالثة منها لانها لتأكدها اشبهت الفريضة وفي البواقي من ذوات الاربع يصلى على النبي صلى الله عليه وسلم ويستفتح ويتعوذ ولو من نذرا لان كل شفع صلوة وقيل لا يأتى فى الكل وصححه فى القنية، وفي الشامية (قوله ولا يصلي الخ) أقول قال فى البحر فى باب صفة الصلوة ان ما ذكر مسلم فيما قبل الظهر لماصرحوا به من أنه لا تبطل شفعة الشفيع بالانتقال إلى الشفع الثاني منها ولو افسدها قضى اربعا و الاربع قبل الجمعة بمنزلتها وأما الاربع بعد الجمعة فغیر مسلم فانها كغيرها من السنن فانهم لم يثبتوا لها تلك الاحكام المذكورة اھ ومثله في الحلية وهذا مؤيد لما بحثه الشرنبلالى من جوازها بتسليمتين لعذر (قوله وقيل لا الخ) قال في البحر ولا يخفى ما فيه والظاهر الأول زاد في المنح ومن ثم عولنا عليه وحكينا ما في القنية بقيل،
خیر الفتاویٰ (2/285) میں ہے:
سوال: عصر اور عشاء کی نماز میں سنت غیر مؤکدہ کی دوسری رکعت میں تشہد کے بعد درود شریف دعا پڑھنا کیسا ہے ؟
الجواب: سنن غیر مؤکدہ میں دورکعت پر درود شریف اور دعا پڑھنا اور تیسری رکعت کے شروع میں ثناء پڑھنا افضل ہے ۔
وفى البواقي من ذوات الاربع يصلى على النبي صلى الله عليه وسلم ويستفتح ويتعوذ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
