• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

تاخیر سے آنے پر سکول کے طلبہ کو واپس گھر بھیجنے کا حکم

استفتاء

ہمارا سکول تمام طلبہ کے لیے گیٹ کلوزنگ  پالیسی بنا رہا ہے یعنی جو طلبہ و طالبات سکول لگنےکے 15منٹ  بعد آئیں گے ان کو واپس بھیج دیا جائے گا۔ مسئلہ یہ آرہا ہے کہ معلمین  / معلمات یا دیگر سٹاف کے بچے جو ان ہی کے ساتھ آتے ہیں اگر ان کو بھی واپس کیا جائے تو سکول کے سٹاف کوبھی  ان کے ساتھ جانا پڑے گا، کیونکہ وہ اکیلے نہیں جا سکتے۔ اس طرح وقت پر آئے ہوئے طلبہ و طالبات کا بھی نقصان ہوگا۔

کیا اس پالیسی سے سٹاف کے بچوں کو استثناء دینا اور ان کو تاخیر کے باوجود کلاس میں بٹھانا درست ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں سٹاف کے  بچوں کو استثناء  دینا اور ان کو تاخیر کے باوجود  کلاس میں بٹھانا درست نہیں کیونکہ ایسا  کرنے میں دیگر بچوں کے ساتھ امتیازی سلوک ہے جو عدل وانصاف کے منافی ہے۔ باقی رہی یہ بات کہ سٹاف کے بچوں کو واپس کرنے کے لئے سٹاف کو واپس جانا پڑے گا جس کی وجہ سے وقت پر آئے طلباء وطالبات کا تعلیمی نقصان ہوگا تو اس کا حل یہ ہے کہ سٹاف کے بچوں کو سکول سے واپس نہ کیا جائے بلکہ گیٹ کے اندر ان کے ٹحہرنے کا کوئی نظم بنا لیا  جائے تاہم انہیں کلاس میں نہ بٹھایا  جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved