- فتوی نمبر: 35-116
- تاریخ: 20 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تعلیق طلاق
استفتاء
میری دو بیویاں ہیں اور دونوں کو الگ الگ رہائش اور نان نفقہ دیتا ہوں۔ میری پہلی بیوی دوسری بیوی کو تسلیم نہیں کرتی اور آئے دن اس کے گھر جا کر لڑائی جھگڑا کرتی رہتی ہے، گزشتہ دنوں میری پہلی بیوی دوسری بیوی کے گھر گئی اور لڑائی جھگڑا کیا اور محلے میں شور شرابا کیا مجھے جب اس واقعہ کی اطلاع ملی تو میں وہاں گیا اور اپنی پہلی بیوی کو لیکر اس کے گھر آگیا اور اسے کہا کہ وہاں کیوں جاتی ہو جس پر اس نے کہا کہ میں جاؤں گی، میں نے اسے کہا کہ “اگر تم میری اجازت کے بغیر گئی اور وہاں لڑائی جھگڑا کیا تو مجھ پر حرام ہو اور تمہیں دو طلاق ہوگی”
واضح رہے کہ اس سے قبل میں اسے ایک طلاق دے چکا تھا اور بعد میں رجوع کر لیا تھا ۔میں یہ کہہ کر اپنی دکان پر آگیا میرے جانے کے بعد میری بیوی دوبارہ میری دوسری بیوی کے گھر گئی لیکن وہاں تالا لگا ہوا تھا اور واپس آگئی۔ شریعت کی رو سے طلاق ہو گئی ہے یا نہیں؟ اور اگر طلاق ہوگئی ہے تو رجوع کا کیا طریقہ ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں چونکہ شوہر نے طلاق کو دو شرطوں کے ساتھ معلق کیا ہے اور جب طلاق کو دو شرطوں کے ساتھ معلق کیا جائے تو طلاق کے واقع ہونے کے لیے ضروری ہوتا ہے کہ وہ دونوں شرطیں پائی جائیں جبکہ مذکورہ صورت میں تو ایک شرط بھی نہیں پائی گئی کیونکہ گھر جانے سے مراد گھر میں داخل ہونا ہوتا ہے جبکہ دوسری بیوی پہلی بیوی کے گھر میں داخل نہیں ہوئی لہذا کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی اور آپ کی دونوں طلاقیں ابھی باقی ہیں لیکن اگر آپ کی پہلی بیوی، دوسری بیوی کے گھر گئی اور وہاں جا کر لڑائی کی تو بقیہ دونوں طلاقیں بھی واقع ہوجائیں گی اور یہ شرط اب آپ واپس بھی نہیں کرسکتے۔الا یہ کہ آپ طلاق سے بچنے کے لیے بیوی کو وہاں جانے کی ہمیشہ کے لیے اجازت دیدیں۔ اس کے بعد وہاں جانے سے طلاق نہ ہوگی۔
درمختار مع ردالمحتار (4/613) میں ہے:
(علق) ……….. الطلاق ولو (الثلاث بشيئين حقيقة بتكرر الشرط أو لا) كإن جاء زيد وبكر فأنت كذا (يقع) المعلق (إن وجد) الشرط
(قوله بتكرر الشرط) وذلك بأن عطف شرطا على آخر وأخر الجزاء، نحو: إذا قدم فلان وإذا قدم فلان فأنت طالق فإنه لا يقع حتى يقدما لأنه عطف شرطا محضا على شرط لا حكم له ثم ذكر الجزاء، فيتعلق بهما فصارا شرطا واحدا فلا يقع إلا بوجودهما، فإن نوى الوقوع بأحدهما صحت نيته بتقديم الجزاء على أحدهما وفيه تغليظ.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved