- فتوی نمبر: 26-257
- تاریخ: 29 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > غصب و ضمان
استفتاء
ہم نے مدرسہ میں اعلان کر رکھا ہے کہ کوئی طالبعلم ٹچ موبائل استعمال نہیں کرے گا اور جو طالب علم ٹچ موبائل استعمال کرتا ہوا پکڑا جائے گا اس کا موبائل ضبط کرلیا جائے گا اور پھر سال کے آخر میں واپس کیا جائے گا ۔
سوال یہ ہے کہ ایک طالب علم کا موبائل اسی طرح پکڑا اور ناظم صاحب کے پاس جمع کروادیا ( کیونکہ جو بھی موبائل پکڑا جاتا ہے وہ ناظم صاحب کے پاس دفتر میں جمع ہوتا ہے اور ان کی حفاظت میں ہوتا ہےچنانچہ وہ موبائل بھی جمع کروادیا) لیکن دفتر سےموبائل چوری ہو گیا اور ناظم صاحب کا کہنا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ کیسے چوری ہو ا تو معلوم یہ کرنا ہے کہ اس موبائل کا تاوان کس پر آئے گا مدرسے والوں پر یا ناظم صاحب پر یا پکڑنے والے پر ؟
وضاحت مطلوب ہے کہ: موبائل کیسے چوری ہوا اس کی پوری تفصیل آنی چاہئے۔
جواب وضاحت: دراصل دفتر میں دو تین ساتھیوں کی ڈیوٹی ہے اور یہ نہیں معلوم کہ جس وقت موبائل چوری ہوا اس وقت دفتر میں کون موجود تھا اور یہ بات بھی بعد میں معلوم ہوئی کہ موبائلوں میں سے ایک موبائل چوری ہوچکا ہے۔
موبائل تو الماری میں ہوتے ہیں اور تالا بھی لگا ہوتا ہے اور چابی بھی ان لوگوں کے پاس ہوتی ہے جو دفتر میں ہوتے ہیں لیکن کبھی کوئی سامان چوری نہیں ہوا البتہ بعض اوقات الماری کھولتے بھی ہیں جیسے کوئی داخلہ وغیرہ کرنا ہو لیکن اس وقت وہاں دفتر والوں میں سے کوئی نہ کوئی موجود ہوتا ہے ،جیسا کہ عمومی طور پر دفاتر میں ہوتا ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اصل تاوان موبائل پکڑنے والے پر آئے گا اور وہ ناظم سے لے گا اور ناظم اپنی جیب سے دے یا مدرسے کی پوری انتظامیہ مل ملاکر دے یہ ان کا آپس کا مسئلہ ہے تاہم یہ ضمان مدرسے کے فنڈ سے نہیں دیا جائے گا ۔
توجیہ:مذکورہ صورت تعزیربالمال کی ہے جو اکثر علماء کے نزدیک جائز نہیں ہے لہذا تعزیر کے طور پر جو مال لیا جائے گا وہ مضمون ہو گا اور لینے والا اس کا ضامن ہوگا ۔اور جن بعض علماء کے نزدیک تعزیر بالمال کی مذکورہ صورت کی گنجائش ہے ان کے نزدیک بھی مذکورہ موبائل ودیعت شمار ہوگا اور چونکہ مذکورہ صورت میں موبائل ایسی الماری میں رکھا گیا تھا جس کی چابی کئی لوگوں کے پاس تھی اس لیے یہ حفاظت میں کوتاہی شمارہوگی اور حفاظت میں کوتاہی کی وجہ سے اگر ودیعت ضائع ہو جائے تو اس کا بھی ضمان آتاہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved