- فتوی نمبر: 36-75
- تاریخ: 21 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تین طلاقوں کا حکم
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید اپنی زوجہ کے ساتھ تقریباً دو سال سے گھریلو ناچاقی، نزاعات اور باہمی کشمکش میں مبتلا ہے۔ ان کے چھ بچے ہیں۔ چھ دن قبل میاں بیوی کے درمیان ایک شدید جھگڑا پیش آیا جس کے دوران طلاق کا معاملہ سامنے آیا۔
واقعہ کی تفصیل یہ ہے کہ شوہر کا کہنا ہے کہ اس کی بیوی ناشزہ ہے اور اکثر شوہر کے جائز حقوقِ زوجیت کی ادائیگی میں کوتاہی کرتی ہے۔ چنانچہ مذکورہ دن عصر کے وقت شوہر نے اپنی بیوی سے کہا کہ وہ رات میں اس کی جائز جسمانی ضرورت پوری کرے۔عشاء کے بعد شوہر اپنی بیوی کے بستر پر لیٹ گیا اور جلد سو گیا، لیکن بیوی اس کے پاس آنے کے بجائے الگ جگہ پر جا کر لیٹ گئی۔ تقریباً دو یا ڈھائی گھنٹے بعد شوہر کی آنکھ کھلی تو اس نے بیوی کو اپنے پاس نہ پایا، بلکہ دیکھا کہ وہ دوسری جگہ لیٹی ہوئی ہے۔ اس پر شوہر نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: ’’تم مجھے ایذا اور تکلیف دیتی ہو۔‘‘ اس کے بعد وہ دوبارہ سو گیا۔تقریباً آدھے گھنٹے بعد جب دوبارہ بیدار ہوا تو دیکھا کہ بیوی بدستور اپنی جگہ پر موجود ہے اور اس کے پاس نہیں آئی۔ اس پر شوہر بیوی کی اس روش سے سخت رنجیدہ اور غضب ناک ہوگیا، چنانچہ اس نے اسے ڈانٹا، جھڑکا اور کہا: ’’اٹھو! میرے گھر سے نکل جاؤ۔‘‘پھر شدید غصے کی حالت میں اس نے بیوی کی مچھر دانی کھینچ کر پھاڑ دی، اور اسی دوران اس کی زبان سے یہ الفاظ صادر ہوئے کہ ” تجھے ایک طلاق، دو طلاق، تین طلاق”
اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ صورتِ مسئولہ میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟ اگر واقع ہوئی ہے تو کتنی طلاقیں واقع ہوئی ہیں؟ نیز رجوع یا تجدیدِ نکاح کی کیا صورت ہوگی؟
شوہر کے مطابق طلاق دینے کا سبب بیوی کا شوہر کے مطالبہ اور حکم کی مخالفت کرنا اور حقوقِ زوجیت کی ادائیگی میں کوتاہی برتنا تھا۔طلاق کے الفاظ ادا کرتے وقت شوہر شدید غصے کی حالت میں تھا، یہاں تک کہ اس سے خلافِ معمول یہ عمل بھی سرزد ہوا کہ اس نے بیوی کی مچھر دانی کھینچ کر پھاڑ دی۔
طلاق کے الفاظ ادا کرتے وقت شوہر بیدار تھا، البتہ چونکہ وہ نیند سے اچانک بیدار ہوا تھا، اس لیے اس پر نیند کے کچھ آثار بھی موجود تھے اور وہ یکایک اس معاملہ میں الجھ گیا تھا۔
نوٹ: مسئلہ پوچھنے والے ایک مولانا صاحب ہیں جن کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے انہوں نے اصل سائل کا نمبر دیا تھا لیکن سائل اردو بول اور سمجھ نہیں سکتا اس لیے اس سے معاملہ کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
وضاحت مطلوب ہے:1۔ طلاق دیتے وقت شوہر کی نیت طلاق کی تھی ؟ اور اسے معلوم تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے؟ 2۔مچھر دانی پھاڑنے کے علاوہ کوئی اور خلاف عادت کام کیا تھا؟
جواب وضاحت:1۔ جی ہاں شوہر اقرار کرتا ہے کہ وہ ہوش میں تھا اور اس کو معلوم تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور طلاق دینے کا ارادہ بھی تھا البتہ وہ کہتا ہے کہ نیت دو طلاق دینے کی تھی۔2۔ اس کے علاوہ کوئی خلاف عادت کام نہیں کیا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تینوں طلاقیں واقع ہو گئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہو گئی ہے لہذا اب نہ رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی دوبارہ نکاح ہو سکتا ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں اگرچہ شوہر نے غصے میں طلاق دی ہے لیکن چونکہ غصے کی کیفیت ایسی نہیں تھی کہ اسے علم ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے اور نہ ہی اس سے خلاف عادت کوئی کام سرزد ہوا ہے اور غصے کی ایسی حالت میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے لہذا مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہو گئی ہیں، باقی شوہر کا مچھر دانی پھاڑنا خلاف عادت فعل نہیں کیونکہ غصہ بیوی پر تھا اس لیے اس کی مچھردانی پھاڑنا عین ممکن ہے ۔ نیز شوہر کا یہ کہنا کہ میری نیت دو طلاق دینے کی تھی اس کا اعتبار نہیں کیونکہ اس نے صریح الفاظ سے طلاق دی ہے اور صریح الفاظ سے طلاق دینے میں نیت کا اعتبار نہیں ہوتا۔
در مختار (4/442)میں ہے :
(صريحة ما لم يستعمل الا فيه) ولو بالفارسية ( كطلقتك و أنت طالق و مطلقة )
شامی (4/509) میں ہے :
كرر لفظ الطلاق وقع الكل، وإن نوى التأكيد دين
(قوله وإن نوى التأكيد دين) أي ووقع الكل قضاء
ہندیہ(1/ 355) میں ہے:
وإذا قال لامرأته أنت طالق وطالق وطالق ولم يعلقه بالشرط إن كانت مدخولة طلقت ثلاثا
ہندیہ (1/ 473)میں ہے :
“وإن کان الطلاق ثلاثاً في الحرة وثنتین في الأمة لم تحل له حتی تنکح زوجًا غیره نکاحًا صحیحًا ویدخل بها، ثم یطلقها أو یموت عنها
شامی (439/4) میں ہے:
وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اه
(وبعد أسطر) فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved