• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ٹڈی اور وھیل کھانے کا حکم

استفتاء

1۔ کیا مری ہوئی یا زندہ ٹڈی کھانا حلال ہے؟

2۔ وھیل (Whale) سمندری جانور ہے۔بعض لوگ اسے مچھلی میں سے شمار کرتے ہیں۔ لیکن سائنسی اعتبار سے وہ میمل (Mammal) ہے۔ انسان بھی میمل گروپ میں شمار ہوتا ہے۔

وھیل کے حلال ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں فتویٰ ارسال فرما دیں۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔ احناف کے نزدیک مری ہوئی یا زندہ ٹڈی کھانا جائز ہے۔ (البتہ ٹڈی سے مراد وہ کیڑا ہے  جسے عربی میں’’الجراد‘‘ اور انگریزی میں ’’Locust‘‘کہتے ہیں اس کے مثل دیگر حشرات بھی ہوتے ہیں لیکن سوائے ٹڈی کے کوئی حلال نہیں۔)

2۔ وھیل کو عربی زبان میں بال اور عنبر کہتے ہیں۔ حدیث میں حضور اکرم ﷺ اور صحابہ کرام سے اس کا کھانا ثابت ہےاس لیے اس کا کھانا جائز ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری ص: 1910 ج: 3 (مکتبۃ البشریٰ طبع:1440/2019) میں ہے:

عن عمرو بن دينار قال سمعت جابر بن عبد الله يقول بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم ثلاث مائة راكب أميرنا أبو عبيدة بن الجراح نرصد عير قريش فأقمنا بالساحل نصف شهر فأصابنا جوع شديد حتى أكلنا الخبط فسمي ذلك الجيش جيش الخبط فألقى لنا البحر دابة يقال لها العنبر فأكلنا منه نصف شهر وادهنا من ودكه حتى ثابت إلينا أجسامنا فأخذ أبو عبيدة ضلعا من أضلاعه فنصبه فعمد إلى أطول رجل معه قال سفيان مرة ضلعا من أضلاعه فنصبه وأخذ رجلا وبعيرا فمر تحته  — و في رواية  فلما قدمنا المدينة ذكرنا ذلك للنبي صلى الله عليه وسلم فقال كلوا رزقا أخرجه الله أطعمونا إن كان معكم فأتاه بعضهم فأكله

(ترجمہ):عمرو بن دینارؒ کہتے ہیں: ’’میں نے جابر بن عبد اللہؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہم تین سو سواروں کو قریش کے (تجارتی) قافلہ کی گھات میں بھیجا۔ ہمارے امیرحضرت ابوعبیدہ بن الجراح ؓ تھے۔ ہم ساحل پر پندرہ دن سے کچھ زائد ٹھہرے۔ (کھانے پینے کی چیزیں ختم ہوگئیں)۔ تو ہم سخت بھوک میں مبتلا ہوئے یہاں تک کہ (مجبور ہو کر) ہم نے گرے ہوئے پتے تک کھائے اور اسی کی وجہ سے وہ لشکر جیشِ خبط (یعنی پتے کھانے والے) کے نام سے مشہور ہوا۔  اس دوران سمندر نے ایک بہت بڑی مچھلی ہماری طرف ڈال دی جس کا نام عنبر تھا۔ ہم نے پندرہ دن اس کا گوشت کھایا اور اس کی چربی جسم پر ملی جس سے ہمارے جسم (جو  نڈھال ہوگئے تھے) بحال ہوگئے۔ حضرت ابو عبیدہ ؓ اس کی پسلیوں میں سے ایک پسلی لی اور اس کو کھڑا کیا اور کجاوہ  اونٹ پر کسااور (اس پر بیٹھ کر) اس پسلی کے نیچے سے گزر گئے۔ جب ہم مدینہ (منورہ) آئے تو ہم نے اس کا ذکر نبیﷺ سے کیا۔ آپ نے فرمایا جو رزق اللہ تعالی نے تمہارے لیے نکالا تم اس کو کھاؤ اور اگر تمہارے پاس کچھ موجود ہو تو ہمیں بھی (اس میں سے) کھلاؤ۔ ایک صاحب (کے پاس کچھ بچا ہوا گوشت تھا تو وہ)اس کو نبیﷺ کے پاس لائے اور آپ نے اس کو تناول فرمایا۔‘‘

رہا یہ مسئلہ کہ آج کل ماہرین حیوانات وھیل کو Fish (مچھلی) کی قبیل سے نہیں بلکہ Mammal (ممالیہ) جانوروں میں سے گردانتے ہیں تو اس کی تفصیل یہ ہے کہ کسی حیوان کا شرعاً مچھلی ہونے یا نہ ہونے میں اعتبار نئی سائنسی تحقیقات  پر نہیں ہے کہ وہ حیوان آج کل کے ماہرین کی بیان کردہ مچھلی کی تعریف پر صادق آتا ہے یا نہیں، بلکہ اس کا مدار اس بات پر ہے کہ عرفِ عام میں اس کو مچھلی سمجھا جاتا ہے یا نہیں۔ وھیل کو چونکہ عرف عام میں مچھلی ہی سمجھا جاتا ہے اس لئے اس کا کھانا حلال ہے۔

در مختار(512/10) میں ہے:

( وحل الجراد ) وإن مات حتف أنفه

فاکہۃ البستان (ص: 155) میں ہے:

وحل الجراد بأنواعه—-و ان مات حتف أنفه يعني أن الجراد لا يشترط فيه الذكاة  كالسمك يتفرع على ذلك أنه لو صاد مجوسی جراداً أو ترك مسلم التسمية عند أخذه عمداً حل أكله كما في جامع الرموز

تنویر الابصار (516/9) میں ہے:

المنفصل من الحي  كميتته

شامی میں ہے:

قوله ( المنفصل من الحي ) أي غير السمك والجراد والمراد المنفصل عن اللحم

کفایت المفتی (137/9) میں ہے:

۔۔۔اس حدیث سے صراحتاً ثابت ہوگیا کہ آنحضرت ﷺ نے اس عظیم الجثہ سمندری جانور کو حوت اور عنبر یعنی عنبر نام کی مچھلی بتایا اور اس کا گوشت کھایا اور آنحضرت ﷺ نے ان کے اس فعل کی تصویب فرمائی اور اس کو رزق أخرجه الله لكم فرمایا اور خود بھی تناول فرمایا۔ پس عنبر کے مچھلی ہونے اور اس کے حلال ہونے کی یہ مخصوص صریح دلیل ہے اور اوپر ہم ثابت کر چکے ہیں کہ عنبر اور بال ہم معنیٰ یا عنبر اور بال کی ایک قسم ہے اور بال اور وھیل ہم معنیٰ اور ایک ہی جانور کے نام ہیں لہٰذا وھیل کے حلال ہونے میں کوئی شبہ نہ رہا۔  (تفصیل کے لیے دیکھیے کفایت المفتی ج:9، صفحہ نمبر:134 تا 137)

امداد الفتاویٰ (103/4) میں ہے:

الجواب: اس پر تو سب کا اتفاق ہے کہ  سمک بجمیع انواعہ حلال ہے، اب صرف شبہ اس میں ہے کہ یہ  سمک ہے یا نہیں، سو سمک کے کچھ خواص لازمہ کسی دلیل سے ثابت نہیں ہوئے کہ ان کے انتفاء سے سمکیت منتفی ہوجائے، اب مدار صرف عدول مبصرین کی معرفت پر رہ گیا ہے اور اگر مبصرین میں اختلاف ہوگا تو حکم میں بھی اختلاف ہوگا، چنانچہ اسی وجہ سے جریث میں امام محمدؒ مخالف ہیں کما نقله الشامي۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved