• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

زلزلہ کے وقت نماز توڑنے کا حکم اور زلزلہ کے وقت کے احکام

استفتاء

درج ذیل مسئلہ کی تحقیق مطلوب ہے

1۔مفتیان کرام اگر زلزلہ آجائے اور کسی شخص نے نما زکی نیت باندھی ہوئی ہو  تو اس کیلئے کیا حکم ہے؟

اور اسی طرح اگر نیت باندھنے والا مسجد میں نماز پڑ ھ رہا ہو یا باجماعت پڑھ رہا ہو؟یعنی نماز توڑ کر باہر بھاگے گا یا کیا کرے گا؟

2۔اگر مسجد میں تلاوت کررہا ہو یا گھر کے اندر کمرے  میں تلاوت کررہا ہو تو  زلزلہ کی صورت میں تلاوت  چھوڑ کر باہر آئے گا یا کیا کرے گا؟

3۔اگر مسجد میں ویسے  بیٹھا ہوا ہے یا گھر کے کمرے میں بیٹھا ہے تو زلزلہ کی صورت میں باہر جائے گا ؟یا کیا کرے گا؟

مزید آگاہ فرمادیں کہ  زلزلہ کے وقت یا اس کے بعد کیا کیا اعمال کرنے چاہیےاور کون کون سے کلمات ادا کرنے چاہیے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔مذکورہ صورتوں میں اگر زلزلہ کی وجہ  عمارت کے گرنے کا اندیشہ ہو تو وہاں سے باہر نکلنا  ضروری ہے۔لہذا نماز  والی صورت میں نمازکو توڑنا بھی واجب ہوگا چاہے اکیلے نماز پڑھ رہا ہو یا جماعت سے۔تاہم اگر   عمارت کے گرنے کا اندیشہ نہ ہو یا نماز  عمارت سے باہر کسی کھلی جگہ میں پڑھ رہا ہو اور کسی نقصان کا اندیشہ بھی نہ ہوتو اس صورت میں نماز کو جاری رکھے گا۔

2۔تلاوت کا بھی  یہی حکم ہے لیکن اس صورت میں تلاوت موقوف کرنا ضروری نہیں ،نکلتے نکلتے بھی پڑھ سکتے ہیں اور باہر جاکر بھی تلاوت کو جاری رکھ  سکتے ہیں۔

3۔اوپر والا حکم ہے۔

ایسے موقع کا کوئی  خاص عمل یا ذکر مسنون نہیں ہے البتہ چونکہ  زلزلہ کا  ایک ممکنہ سبب  انسانوں کے گناہ ہوسکتے ہیں اس لیے اس  وقت دل سے اللہ تعالی کی طرف متوجہ ہونا چاہیےاور اپنے گناہوں کی  معافی مانگنی چاہیے۔

اور اگر سہولت کے ساتھ ممکن ہو تو انفردی طور پر نوافل میں مشغول ہوجانا چاہیے۔

شامی (1/610)میں ہے:

[تتمة] نقل عن خط صاحب البحر على هامشه أن القطع يكون حراما ومباحا ومستحبا وواجبا، فالحرام لغير عذر والمباح إذا خاف فوت مال، والمستحب القطع للإكمال، والواجب لإحياء نفس.

درمختار (3/79)میں ہے:

(‌صلى ‌الناس ‌فرادى) في منازلهم تحرزا عن الفتنة (كالخسوف) للقمر (والريح) الشديدة (والظلمة) القوية نهاراوالضوء القوي ليلا (والفزع) الغالب، ونحو ذلك من الآيات المخفوفة كالزلازل……

احسن الفتاوی(10/327)میں ہے:

سوال:مسجد میں دوران نماز اگر زلزلہ آجائےیا منفردا گھر یا مسجد میں نماز پڑھتے ہوئے اگر زلزلہ آجائےتو امام و منفرد کو نماز توڑ کر باہر نکلنا جائز ہے یا نماز پوری  کرنا لازم ہے؟بینوا     توجروا۔

الجواب:اگر  عمارت گرنے کا اندیشہ ہو  تو نماز توڑنا جائز ،بلکہ واجب ہے۔

قال االعلامة الحصكفي رحمه الله تعالى: ويجب القطع لنحو إنجاء غريق أو حريق.

و قال العلامة ابن عابدين رحمه الله تعالى تحت قوله و يجب القطع الخ: [تتمة] نقل عن خط صاحب البحر على هامشه أن القطع يكون حراما ومباحا ومستحبا وواجبا، فالحرام لغير عذر والمباح إذا خاف فوت مال، والمستحب القطع للإكمال، والواجب لإحياء نفس.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved