- فتوی نمبر: 36-01
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > ہبہ و ہدیہ
استفتاء
میری عمر تقریبا 72 سال ہے اور میری ایک بیٹی اور ایک دوسری بیوی ہے اور میری ملکیت میں ایک مکان سات مرلہ پر مشتمل ہے اور ایک مکان پونے دو مرلہ کا دوسری جگہ ہے جو فی الحال استعمال کے لیے ایک دینی ادارہ کو دیا ہوا ہے اور ایک عمارت چار مرلہ کی تین منزلہ ہے جو کرایہ پر دے رکھی ہے اسی عمارت کے کرائے پر گزر بسر ہے اور اس میں سے 1/4 میں نے اپنی بیٹی کے نام کی ہوئی ہے جس کی وہ میری وفات کے بعد مالک ہوگی۔ اب سوال طلب امر یہ ہے کہ میری بیوی بھی تنہا ہے اور کوئی اولاد اس سے نہیں ہے میں اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہتا ہوں تو کس قدر اپنی بیٹی کو دوں اور اپنی بیوی کو کیا دوں اور عمارت میں تقسیم کی کیا صورت اختیار کروں؟
مکان کی تقسیم کے بارے میں تجویز یہ ہے کہ3/1سے کچھ زائد میری بیوی کے نام ہو جائے باقی بیٹی کے نام ہو جائے اور عمارت کے 4/3 میں سے 3/2 مزید بیٹی کے نام کر دوں اور 3/1 اہلیہ کے نام ہو جائے اور چھوٹا مکان مدرسہ کے لیے وقف کر دوں۔
وضاحت مطلوب ہے: 1۔آپ کے اور بھائی یا بہنیں بھی ہیں ؟2۔زندگی میں تقسیم کرنے کی وجہ اور نیت کیا ہے؟ 3۔عمارت کے 4/1 حصے کے بارے میں کاغذات میں ایسے ہی لکھا ہے جیسے سوال میں لکھا ہے؟
جواب وضاحت : 1۔بہنیں سب فوت ہو چکی ہیں اور ایک بھائی زندہ ہے جو کہ مالی لحاظ سے بھی مضبوط ہے ۔ 2۔زندگی میں تقسیم کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بیوی اور بیٹی کو بعد میں مشکلات نا ہوں اور ان کی مالی معاونت بھی ہو جائے، نیز بھائی کو محروم کرنے کی نیت نہیں ہے ۔3۔ جی ایسے ہی لکھا ہے کہ “میری وفات کے بعد مالک ہوگی”
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ اپنی جائیداد اپنے تجویز کردہ طریقہ سے تقسیم کر سکتے ہیں اور وقف بھی کر سکتے ہیں۔
توجیہ :مذکورہ صورت میں چونکہ کسی وارث کو محروم کرنا مقصود نہیں ہے لہذا مالک اپنی مرضی کے مطابق تقسیم اور وقف کر سکتا ہے ۔
نوٹ: جس عمارت کے بارے میں آپ نے یہ لکھا ہے کہ”4/1بیٹی کے نام کر دی ہے جس کی وہ میرے مرنے کے بعد مالک ہوگی ” عمارت کا وہ حصہ ہبہ نہیں ہوا بلکہ یہ وارث کے حق میں وصیت ہے، لہذا آپ کی وفات کے بعد آپ کی بیٹی اس کی مالک نہیں بنے گی بلکہ تمام ورثاء کی مرضی پر موقوف ہو گا وہ چاہیں تو عمارت کا وہ حصہ بیٹی کو دے دیں اور چاہیں تو بیٹی کو نہ دیں بلکہ سب ورثاء میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کر دیں کیونکہ کسی وارث کے بارے میں وصیت کی جائے تو وہ باقی ورثاء کی مرضی پر موقوف ہوتی ہے ، لہذا اگر آپ چاہتے ہیں کہ یہ صورت پیش نہ آئے تو آپ عمارت کا یہ حصہ اپنی زندگی میں ہی بیٹی کی ملکیت میں دے دیں۔
مشکوۃ (2/925) میں ہے:
عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن الرجل ليعمل والمرأة بطاعة الله ستين سنة ثم يحضرهما الموت فيضاران في الوصية فتجب لهما النار» ثم قرأ أبو هريرة (من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار) إلى قوله (وذلك الفوز العظيم)
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 2039) میں ہے :
«فيضاران في الوصية» ) من المضارة أي: يوصلان الضرر إلى الوارث بسبب الوصية للأجنبي بأكثر من الثلث، أو بأن يهب جميع ماله لواحد من الورثة كيلا يرث وارث آخر من ماله شيئا، فهذا مكروه وفرار عن حكم الله تعالى، ذكره ابن الملك، وفيه: أنه لا يحصل بهما ضرر لأحد، اللهم إلا أن يقال معناه فيقصدان الضرر، وقال بعضهم: كان يوصي لغير أهل الوصية أو يوصي بعدم إمضاء ما أوصى به حقا بأن ندم من وصيته أو ينقض بعض الوصية ( «فتجب لهما النار» ) أي: فتثبت والمعنى يستحقان العقوبة، ولكنهما تحت المشيئة
فتاوی قاضی خان ( علی ہامش الہندیۃ) (3/279) میں ہے:
ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة وأراد تفضيل البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا وروي عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف رحمه الله تعالى أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى
بدائع الصنائع 264 /6 میں ہے :
للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء.
ہندیہ (6/90) میں ہے :
ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved