- فتوی نمبر: 26-281
- تاریخ: 30 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > ہبہ و ہدیہ
استفتاء
میرا سوال یہ ہےکہ اگر کوئی شخص اپنی زندگی میں ہی اپنی مکمل وراثت تقسیم کرنا چاہے اور اس میں برابری نہ رکھے کسی کو زیادہ دے اور کسی کو بالکل نہ دے ۔ تو کیاایسا کرنا صحیح ہےیا نہیں ؟
وضاحت مطلوب :مسئلہ کی صورت حال کیا ہے؟
جواب وضاحت : میراسوال کسی خاص صورت کے بارے میں نہیں ہے البتہ عام طورپر یہ بات مشہور ہے کہ زندگی میں اگر کوئی شخص اپنی میراث تقسیم کرنا چاہے تو اس کے لیے سارے اولادکو دینا اور ان میں برابری کرنا ضروری ہے برابری کےبغیر تقسیم جائز نہیں۔تو میرے ذہن میں یہ بات آئی کہ باپ کی زندگی میں بعض اولاد غریب ہوتی ہیں اور بعض مالدار،اور غریب کی ضرورت مالدار سے زیادہ ہوتی ہیں لہٰذ ا میراث میں سے ان کو زیادہ دینے چاہیئے بنسبت دوسری اولاد کی ۔شریعت کاحکم اس بارے میں واضح کریں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
زندگی میں اپنی اولاد میں وراثت تقسیم کرنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ لڑکے لڑکیوں کو برابر دیں اور ایک دو کی نسبت سے بھی دینے کی گنجائش ہے اس سے کم دینا جائز نہیں البتہ اگر کسی معقول وجہ سے بعض کوکم دیں اور بعض کو زیادہ دیں تو یہ بھی جائز ہے ۔
رد المحتار(8/583) میں ہے:
ولاباس بتفضیل بعض الاولاد فی المحبة لانها عمل القلب وکذا فی العطایا ان لم یقصد به الاضرار وان قصده یسوی بینهم یعطی البنت کالابن عندالثانی وعلیه الفتوی ولو وهب کل المال للولد جازواثم ۔
بخاری شریف (رقم الحدیث:2587)میں ہے:
عن عامر قال سمعت النعمان بن بشير رضي الله عنهما وهو على المنبر يقول أعطاني أبي عطية فقالت عمرة بنت رواحة لا أرضى حتى تشهد رسول الله ﷺفأتى رسول الله ﷺفقال إني أعطيت ابني من عمرة بنت رواحة عطية فأمرتني أن أشهدك يا رسول الله قال أعطيت سائر ولدك مثل هذا قال لا قال فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم قال فرجع فرد عطيته
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved