- فتوی نمبر: 35-111
- تاریخ: 20 اپریل 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز میں قراءت کی غلطیوں کا بیان
استفتاء
سورۃ الفاتحہ میں امام نے لفظ”اَنعَمْتَ” کو صحیح طریقہ کے بجائے “آنعمت ” (ہمزہ کو کھینچ کر) پڑھا یا “اَنْعَمَتَ” (میم پر زبر دے دیا) پڑھا۔کیا ان دونوں صورتوں میں امام اور مقتدیوں کی نماز درست ہوتی ہے یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ دونوں صورتوں میں متقدمین کے نزدیک نماز فاسد ہو جائے گی جبکہ متاخرین کے نزدیک نماز فاسد نہیں ہوتی۔ متقدمین کا قول چونکہ احوط ہے اس لیے اگر نماز کا اعادہ کرنے میں کوئی خاص دشوا ری نہ ہو تو نماز کا اعادہ کر لینا چاہیے اور اگر اعادہ کرنے میں دشواری ہو تو اعادہ نہ کرنے کی بھی گنجائش ہے۔
توجیہ: نماز میں ” اَنعَمْتَ ” کی جگہ ” اَنْعَمَتَ ” یعنی میم ساکن کی جگہ میم متحرک پڑھنے کی صورت میں یا ” اَنعَمْتَ” کی جگہ “آنْعَمْتَ ” ہمزہ پر زبر کی بجائے ہمزہ کو کھینچ کر کھڑی زبر پڑھنے کی صورت میں متقدمین کے نزدیک نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ امام ابو یوسفؒ کے نزدیک اس لیے فاسد ہوگی کہ “اَنعَمَتَ “اور ” آنْعَمْتَ “قرآن کریم میں موجود نہیں ہے اور ان کے نزدیک نماز درست ہونے کے لیے پڑھے ہوئے کلمہ کا قرآن کریم میں ہونا ضروری ہے اور طرفین کے نزدیک اس لیے فاسد ہوگی کہ ان دونوں صورتوں میں معنی میں تغیر فاحش پیدا ہوتا ہے ” آنْعَمْتَ ” یعنی ہمزہ کو کھینچ کر اس پر کھڑا زبر پڑھنے کی صورت میں تو اس لیے کہ اس میں خبر سے استفہام والا معنی پیدا ہو جاتا ہے جو مقصودِ قرآن کے خلاف ہے اور قرآن کے معنی میں صریح تغیر ہے اور ” اَنعَمَتَ ” یعنی میم ساکن کی جگہ میم متحرک پڑھنے کی صورت میں اس لیے نماز فاسد ہوگی کہ اَنعَمَتَ بے معنی لفظ ہے اور بے معنی لفظ پڑھنا بھی قرآن کے معنی میں تغیر فاحش ہے اس لیے متقدمین احنافؒ کے نزدیک نماز نہیں ہوگی اور متاخرین احنافؒ کے نزدیک نماز فاسد نہیں ہوتی کیونکہ دونوں صورتوں میں غلطی کی نوعیت خطا فی الاعراب کی ہے اور خطا فی الاعراب کی صورت میں متاخرین کے نزدیک نماز فاسد نہیں ہوتی اس لیے اگر ایسی کوئی صورت پیش آئے تو بہتر یہ ہے کہ اعادہ کر لیا جائے لیکن اگر اعادہ کرنے میں کوئی خاص دشواری ہو تو اعادہ نہ کرنے کی بھی گنجائش ہے۔
شامی (2/474) میں ہے:
والقاعدة عند المتقدمين أن ما غير المعنى تغييرا يكون اعتقاده كفرا يفسد في جميع ذلك، سواء كان في القرآن أو لا إلا ما كان من تبديل الجمل مفصولا بوقف تام وإن لم يكن التغيير كذلك، فإن لم يكن مثله في القرآن والمعنى بعيد متغير تغيرا فاحشا يفسد أيضا كهذا الغبار مكان هذا الغراب.
وكذا إذا لم يكن مثله في القرآن ولا معنى له كالسرائل باللام مكان السرائر، وإن كان مثله في القرآن والمعنى بعيد ولم يكن متغيرا فاحشا تفسد أيضا عند أبي حنيفة ومحمد، وهو الأحوط. وقال بعض المشايخ: لا تفسد لعموم البلوى، وهو قول أبي يوسف وإن لم يكن مثله في القرآن ولكن لم يتغير به المعنى نحو قيامين مكان قوامين فالخلاف على العكس فالمعتبر في عدم الفساد عند عدم تغير المعنى كثيرا وجود المثل في القرآن عنده والموافقة في المعنى عندهما، فهذه قواعد الأئمة المتقدمين
وأما المتأخرون كابن مقاتل وابن سلام وإسماعيل الزاهد وأبي بكر البلخي والهندواني وابن الفضل والحلواني، فاتفقوا على أن الخطأ في الإعراب لا يفسد مطلقا ولو اعتقاده كفرا لأن أكثر الناس لا يميزون بين وجوه الإعراب. قال قاضي خان: وما قال المتأخرون أوسع، وما قاله المتقدمون أحوط
ہندیہ (1/81) میں ہے:
إذا لحن في الإعراب لحنا لا يغير المعنى بأن قرأ لا ترفعوا أصواتكم برفع التاء لا تفسد صلاته بالإجماع وإن غير المعنى تغييرا فاحشا بأن قرأ وعصى آدم ربه بنصب الميم ورفع الرب وما أشبه ذلك مما لو تعمد به يكفر. إذا قرأ خطأ فسدت صلاته في قول المتقدمين واختلف المتأخرون: قال محمد بن مقاتل وأبو نصر محمد بن سلام ………… لا تفسد صلاته وما قاله المتقدمون أحوط.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved