- فتوی نمبر: 31-390
- تاریخ: 20 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > نکاح کا بیان > مہر کا بیان
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک سال پہلے شادی ہوئی ، لڑکا ایک مہینہ بعد بیرون ملک چلا گیا، باہر جانے کے بعد نہ بیوی سے رابطہ رکھتا ہے اور نہ ہی نفقہ بھیجتا ہے، صحیح طریقے سے بات بھی نہیں کرتا، بہت تنگ کرتا ہے، ہم نے پریشان ہو کر کہا کہ آپ طلاق دے دیں، لڑکے والے کہتے ہیں کہ ہم طلاق دے دیتے ہیں لیکن حق مہر نہیں ديں گے، اگر لڑکی کے تقاضے پر طلاق دی جائے تو کیا لڑکے والوں کے لیے حق مہر کی معافی کا مطالبہ جائز ہے؟ راہنمائی فرمائیں، جزاک اللہ خیرا
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں لڑکے والے اگر مہر کی معافی کا مطالبہ رکھیں اور اس کے بغیر خلع یا طلاق دینے پر آمادہ نہ ہوں تو لڑکی والے لڑکی کی اجازت اور رضامندی سے انہیں مہر معاف کر سکتے ہیں، البتہ اگر خرابی صرف لڑکے کی جانب سے ہے تو لڑکے کے لیے مہر کا معاف کروانا جائز نہ ہو گا، بلکہ حرام ہو گا۔
درمختار مع ردالمحتار(5/95) میں ہے:
(وكره) تحريما (أخذ شيء) ويلحق به الإبراء عما لها عليه (إن نشز وإن نشزت لا) ولو منه نشوز أيضا
(قوله: ولو منه نشوز أيضا) لأن قوله تعالى – {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229]- يدل على الإباحة إذا كان النشوز من الجانبين بعبارة النص، وإذا كان من جانبها فقط بدلالته بالأولى.
بدائع الصنائع(5/95) میں ہے:
(وأما) بيان قدر ما يحل للزوج من أخذ العوض وما لا يحل فجملة الكلام فيه أن النشوز لا يخلو إما أن كان من قبل الزوج وإما إن كان من قبل المرأة فإن كان من قبل الزوج فلا يحل له أخذ شيء من العوض على الخلع لقوله تعالى: {وإن أردتم استبدال زوج مكان زوج وآتيتم إحداهن قنطارا فلا تأخذوا منه شيئا} [النساء: 20] نهى عن أخذ شيء مما آتاها من المهر وأكد النهي بقوله: {أتأخذونه بهتانا وإثما مبينا} [النساء: 20] ، وقوله: {ولا تعضلوهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن} [النساء: 19] أي: لا تضيقوا عليهن لتذهبوا ببعض ما آتيتموهن {إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [النساء: 19] أي: إلا أن ينشزن ……..وإن كان النشوز من قبلها فلا بأس بأن يأخذ منها شيئا قدر المهر لقوله تعالى: {إلا أن يأتين بفاحشة مبينة} [النساء: 19] أي: إلا أن ينشزن، والاستثناء من النهي إباحة من حيث الظاهر، وقوله {فلا جناح عليهما فيما افتدت به} [البقرة: 229] قيل أي: لا جناح على الزوج في الأخذ وعلى المرأة في الإعطاء.
الدرمختار مع ردالمحتار(4/239) میں ہے:
(وصح حطها) لكله أو بعضه (عنه) (قوله وصح حطها) الحط: الإسقاط كما في المغرب، وقيد بحطها لأن حط أبيها غير صحيح لو صغيرة، ولو كبيرة توقف على إجازتها، ولا بد من رضاها.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved