• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

عورت کا بچہ اس کے نیچے دب کر مر جائے تو اس کا کفارہ

استفتاء

میں نے ایک مسئلہ پوچھنا ہے کہ میری چھوٹی بیٹی تھی دو مہینے کی اور میری بیوی رات کو سوئی صبح ہم نے دیکھا تو میری بیٹی فوت ہوئی پڑی تھی اب واللہ اعلم کہ وہ بیٹی  میری اہلیہ  کے نیچے دب کر فوت ہو گئی ہے یاویسے خود طبعی  طور پر فوت ہوئی  ہے  میری بیٹی بیمار وغیرہ بھی نہیں تھی ۔ ہمیں اب اس کا کنفرم علم نہیں  ہے  کیسے فوت ہوئی  ہے   لیکن مرنے کے بعد جب ہم نے غسل دیا  تو  اس کے ناک سے خون بھی بہہ رہا تھا اور جسم کے ایک طرف  کے حصہ کی رنگت  بھی بدلی ہوئی تھی  دوسرا حصہ جسم کا بالکل صحیح تھا اور میری بیوی کہہ رہی ہے کہ میں تو سوئی ہوئی تھی مجھے اس کا علم بھی نہیں کہ کیا ہوا ہے لیکن مجھے اتنا علم ہے کہ میں جب اٹھی تو میرا ایک طرف والا  پستان دودھ پلانے  کے لیے قمیص سے باہر تھا اب کیا حکم  ہے  کہ کفارہ کے طور پر ساٹھ روزے رکھنے ہوں گے یا نہیں ؟ مکمل طور پر شرعی اعتبار سے رہنمائی فرمادیں میری گھر والی اس وقت کافی پریشان ہے ۔

فوت شدہ بچی کی ماں کا بیان :

ہمارے ہاں ایسا ہوتا ہے کہ جب ماں بچی کو اپنے ساتھ سلاتی ہے تو اس کے لیے اپنے بستر پر ایک چھوٹا بستر الگ سے لگا دیتی ہے اور درمیان میں حائل بھی رکھ دیتی ہے تو ایسے ہی میں نے بھی اپنے بستر پر بچی کے لیے الگ سے چھوٹا بستر لگا دیا اور اپنے اور اس کے درمیان حائل بھی رکھ دیا لیکن چونکہ میری نیند بھاری ہے جس میں مجھے کچھ نہیں پتا چلتا کہ کیا ہو رہا ہے رات کو بچی جب بھی روتی تو میرے شوہر مجھے جگاتے  ہیں۔ اس رات کو ایسا ہوا کہ جب میں سوئی تو مجھے نیند میں ایسے لگ رہا تھا کہ میں نے اس بچی کو دودھ پلانے کے لیے اٹھایا اور دودھ پلانے لگ گئی لیکن یہ سب کچھ نیند میں ہو رہا تھا حقیقت میں مجھے کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا صبح کو جب اٹھی تو دیکھا کہ بچی حائل کراس کرکے  میری طرف پڑی تھی اور میرا پستان بھی دودھ پلانے کے لیے میرے قمیص سے باہر تھا اور بچی کے ناک میں جھاگ وغیرہ بھی تھی  اور بعد میں جب غسل دیا تھا تو جسم کے ایک طرف کی رنگت بھی بدلی ہوئی تھی اب مجھے یہی لگ رہا ہے اور میرا غالب گمان بھی یہی ہے کہ یہ بچی میرے نیچے دب کر فوت ہوئی ہوگی۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر  غالب گمان کے مطابق  ً بچی ماں کے نیچے دب کر فوت ہوئی ہو تو یہ قتل قائم مقام خطا ہے جس کا حکم یہ ہے کہ یہ عورت غفلت کی مرتکب ہونے کی وجہ سے  توبہ و استغفار کرے اور کفارے میں دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے ۔  نیز عورت کی برادری مل کر (جس میں عورتیں اور نابالغ بچے شامل نہ ہوں گے) بچی کے ورثا ء کو دیت کے طور پر دوہزار دوسو پچیس تولے چاندی یا اس کی قیمت ادا کریں اور ماں کو اس میں سے اور بچی کی دیگر میراث میں سے حصہ نہیں ملے گا اور اگر ورثاء سب بالغ ہوں  یا  وارث صرف بچی کا باپ ہو تو وہ اپنی رضامندی سے یہ دیت معاف بھی کر سکتے ہیں یا کچھ روپوں کے بدلے میں صلح بھی کر سکتے ہیں۔

رد لمحتار علی الدر المحتار(10 /163) میں  ہے:

“( و ) الرابع ( ما جرى مجراه ) مجرى الخطأ ( كنائم انقلب على رجل فقتله ) ؛ لأنه معذور كالمخطئ ( وموجبه ) أي موجب هذا النوع من الفعل وهو الخطأ وما جرى مجراه ( الكفارة والدية على العاقلة ) والإثم دون إثم القاتل إذ الكفارة تؤذن بالإثم لترك العزيمة۔

قال ابن عابدین: ( قوله والرابع ما جرى مجراه إلخ ) فحكمه حكم الخطأ في الشرع ، لكنه دون الخطأ حقيقة فإن النائم ليس من أهل القصد أصلا ، وإنما وجبت الكفارة لترك التحرز عن نومه في موضع يتوهم أن يصير قاتلا ، والكفارة في قتل الخطأ إنما تجب لترك التحرز أيضا ، وحرمان الميراث لمباشرة القتل وتوهم أن يكون متناعسا لم يكن نائما قصدا منه إلى استعجال الإرث”

رد لمحتار علی الدر المحتار(10 /237) میں  ہے:

“(وكفارتهما) أي الخطأ وشبه العمد (عتق قن مؤمن فإن عجز عنه صام شهرين ولاء ولا إطعام فيهما)”

امداد المفتیین(ص:749) میں ہے:

“(سوال ۸۱۱) ایک عورت اپنے چھوٹے بچہ کو ہمراہ لے کر علیحدہ اپنے خاوند سے سوئی، نیند کی غشی میں بچہ ماں کے پہلو کے نیچے آ کر مر گیا اب اس ماں کے لئے شرعا کیا سزا ہے یعنی دیت ہو گی یا روزے یا کچھ اور۔؟

(الجواب) اس عورت پر کفارہ واجب ہے اور اس کے عاقلہ پر دیت واجب ہےنیز یہ عورت گناہ گار بھی ہوئی توبہ و استغفار کرنی چاہیے۔”

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved