• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کنائی الفاظ سے طلاق دینے میں شوہر اور گواہوں میں اختلاف کی ایک صورت

استفتاء

ام محمد کی شادی کو 13 سال ہوگئے ہیں، شوہر  کی ناجائز حرکات، غیر محرم عورتوں سے غلط اقدام، ناجائز تعلقات  کی وجہ سے گھریلو ناچاقیوں  نے پونے دو سال  ام محمد کو بہت پریشان کیا، ام محمد  کے تین بچے (دو بیٹے اور ایک بیٹی) ہے۔ ایک بیٹا (محمد)  کی عمر 10 سال ہے، بیٹی کی عمر 8 سال ہے اور اس سے چھوٹے بیٹے (عبدالرحمٰن) کی عمر5 سال  ہے، ام محمد کے شوہر نے اس کو حد سے زیادہ پریشان کیا کہ غیر محرم کے کہنے پر 2025-01-05 کو تینوں بچوں کی موجودگی میں صریح الفاظ میں ایک طلاق دیدی جس کے الفاظ یہ تھے کہ ” میں نے آپ کو ایک طلاق دی” اگلی صبح ام محمد  کے والدین گھر لے گئے، خاندان کے کچھ لوگ اور محلے کے کچھ سنجیدہ لوگوں نے ابو  محمد کو سمجھایا اور  03 فروری 2025 کو رجوع کروایا، ام محمد کو شوہر کے گھر چھوڑ آئے، ان سنجیدہ لوگوں کے سامنے ابومحمد نے اقرار کیا کہ میں غلطی پر تھا، طلاق رجعی تھی، ٹھیک ہے میں رجوع کرتا ہوں اور اپنی غلطی کی معافی مانگتا ہوں، وہ سب مرد ام محمد کو شوہر کے گھر چھوڑ  آئے ان کے جانے کے بعد شوہر نے کہا میں  نے رجوع نہیں کرنا ، صرف مردوں کو نکالنا تھا، صبح بعد از نمازِ فجر ام محمد کو شوہر نے کہا  کہ آپ ادھر سے چلی جاؤ، ام محمد کو بہت مجبور کیا وہ شوہر کی منت سماجت کرتی  رہی، شوہر نے کہا کہ فی الحال چلی جاؤ 6 ماہ بعد لے آؤں گا لیکن ام محمد نہ مانی جب شوہر نے دیکھا کہ یہ نہیں مان رہی تو خود گھر چھوڑ کر بھاگ گیا، شوہر کے والدین  نے اپنے بیٹے کے گھر سے بھاگنے پر ام محمد کو گھر سے نکال دیا، ام محمد والدین کے گھر آگئی، والدین کے گھر آنے کے بعد انہی سنجیدہ لوگوں نے شوہر کو سمجھا یا کہ  رجوع کا اقرار آپ نے ہمارے سامنے کیا تھا لہٰذا بچوں کو پریشان نہ کرو اور گھر لے آؤ ، ان مردوں میں سے ایک کا کہنا ہے کہ شوہر نے کہا کہ آپ مجھے تنگ نہ کریں، آج بھی فارغ اور کل بھی۔ لیکن آج 31 اگست ہے8 ماہ گزرنے کے بعد ام محمد  کے شوہر کہہ رہے ہیں میں نے تو ڈرانے دھمکانے کے لیے اس طرح کے الفاظ کہے تھے، میری طلاق کی نیت نہیں لہٰذا طلاق نہیں ہوئی، میں نے تو 03 فروری کو رجوع کرلیا تھا، اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے کچھ گواہ ام محمد  کے پاس بھیج رہے ہیں کہ ان گواہوں سے پوچھ لیں میں  ان کو کہتا تھا  کہ میں نے طلاق نہیں دینی، گواہ بھی گواہی دے رہے ہیں، اور شوہر بھی  قسمِ قرآن اٹھا ر ہا ہے کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی۔

اب ام محمد کا مفتی حضرات سے یہ فتویٰ مطلوب ہے کہ آیا طلاق ہوئی یا نہیں؟ ان کے دل اور دماغ  ، ان کی نیت کااللہ کو یا خود ان کو پتہ ہے  کہ ان کی نیت کیا تھی، گواہ بھی قسم اٹھا کر کہہ رہے ہیں کہ شوہر کہتا ہے کہ میری طلاق کی نیت نہیں تھی، اگر ابو محمد سے کہو کہ آپ نے ام محمد کو کہا تھا میں نے رجوع نہیں کرنا لیکن وہ دلیل دے دیتے ہیں میں نے مردوں کے سامنے تو اقرار کیا تھا، جب مرد گواہی دے رہے ہیں تو دو مردوں کی گواہی بھی معتبر ہے لیکن میں نے تو 12 مردوں کے سامنے اقرار کیا تھا۔

اب ام محمد پوچھنا یہ چاہتی ہیں کہ طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر طلاق ہوگئی ہے تو ایک طلاق ہوئی یا تینوں طلاقیں؟

وضاحت مطلوب ہے: 1۔سائل کون ہے؟ خود امِّ محمد یا کوئی اور؟2۔شوہر کا رابطہ نمبر مہیا کیا جائے3۔گواہوں کے رابطہ نمبر مہیا کیے جائیں۔4۔امِّ محمد کے والد کا رابطہ نمبر مہیا کیا جائے۔

جواب وضاحت :1۔جی سائل ام محمد کابھائی ہے ۔2۔  ام محمدکے شوہرکانمبریہ ہے***** 3۔بھائی کانمبر ****۔گواہوں میں ایک خالوہیں جن کے سامنےکہتے رہےکہ ہم نےایک طلاق اس تاریخ کودی ہےاگلی تاریخ کودوسری ہوجاےگی ہم سے وہ فارغ ہے۔یہ الفاظ شوہر اور والدنے دہرائےجبکہ دونوں ایک مسجد کےامام اورخطیب ہیں۔ انکےان الفاظ پرخالو نےان سے کہاکہ بچے رل جائیں گے ۔ وہ نہ مانےپھرخالو نےشوہرکے والد سےکہاکہ آپ بچے اپنےپاس اپنی نگرانی میں رکھ لیں پھر  بھی نہ مانے وغیرہ وغیرہ خالو کا نمبر  ***۔اورایک ہمارے اورانکے معزز انہوں نےبھی کوشش کی ملانے کی انکوبھی یہ بات بتاکرکہ آپ مجھےتنگ نہ کریں وہ میرے طرف سےآج بھی فارغ ہےکل بھی فارغ ہےانکا نمبر**** ۔ ایک اورانکے ساتھ ہی تھےانکانمبر**** ہے۔4۔ ام محمد کے والدضعیف ہیں وہ موبائل رکھتے نہیں۔ بھائیوں کےپاس ہوتے ہیں موبائل ۔

شوہر ابو محمد کا بیان :

شوہر سے رابطہ کیا گیا  تو وہ   دارالافتاء آئے اور انہوں نے یہ بیان دیا  کہ  ایک    صریح طلاق تو انہوں نے دی تھی ۔ لیکن دوسری مرتبہ جو الفاظ بولے تھے وہ یہ تھے کہ  “اسے فارغ کردوں گا یہ نہیں کہا تھا کہ فارغ  کردیا ہے  “۔

گواہ کا بیان :

ایک گواہ ( جن کا نمبر یہ ہے****) سے رابطہ ہوا  انہوں نے بتایا کہ شوہر نے کہا تھا کہ سمجھو یہ فارغ ہے  ۔

دوسرے گواہ ( لڑکی کے خالو )کا بیان :

لڑکی کے خالو  نے فون پر یہ بیان دیا کہ میں صلح  کروانے کے لیے گیا تھا  تو لڑکے کے والد نے لڑکے کی موجودگی میں یہ کہا کہ آپ صلح کروانے آئے ہیں حالانکہ  ہم نے  تو اس  کو فارغ کردیا ہے طلاق  دے دی ہے۔ 4 یا 5 تاریخ               کو اس بات کو مہینہ پورا ہورہا ہے   ۔اس موقع پر لڑکا خاموش تھا  اس نے کوئی بات نہیں کی۔

ایک گواہ  خالد صاحب کا بیان :

ہم جس وقت صلح کے لیے گئے تو اس موقع پر دو تین لوگ اور بھی  گئےتھے  قاری صاحب  ( شوہر ) نے کہا کہ ایک طلاق دے چکا ہوں دوسری اس مہینہ ہوجائے گی اور تیسری اگلے مہینہ ہوجائے گی ۔ وہ عالم ہیں ہمیں  اس کا مطلب نہیں معلوم کہ دوسری اور تیسری خود بخود کیسے ہوجائے گی ۔لیکن انہوں نے یہ الفاظ نہیں  بولے کہ آج بھی  فارغ ہے اور کل بھی فارغ ہے ۔

ام محمد کے بھائی کا بیان :

 سائل جو کہ بیوی کا بھائی ہے ا سے جب گواہوں  کا یہ بیان بتایا گیا تو اس کا کہنا تھا کہ مجھے  خالد  صاحب اور ان کے ساتھ گئے گواہوں نے  الگ الگ فون پر یہی الفاظ بتائے تھے  کہ  ہمارے بہنوئی نے کہا ہے کہ “وہ میری طرف سے آج بھی فارغ ہے اور کل بھی فارغ ہے  “اب یہ نہیں یاد کہ ان میں سے کس نے یہ الفاظ بتائے  ۔ وہی  الفاظ میں نے لکھ کر آپ کو بھیجے ہیں ۔ میں یہ بات حلفاً کہہ رہا ہوں ۔ اب گواہوں نے اپنا بیان بدل لیا ہے ۔ گواہوں نے ہی مجھے  بتایا تھا  البتہ بیوی نے نہ خود سنا تھا نہ وہ اس مجلس میں تھی ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں ایک رجعی   طلاق  تو واقع   ہوگئی ہے جس کے بعد شوہر نے رجوع کرلیا تھا  ۔  البتہ دوسری طلاق کے بارے میں   شوہر کو اس بات پر  کم ازکم بیوی کے سامنے قسم دینی ہوگی کہ  صلح کے موقع پر یہ الفاظ  کہ ”  وہ میری طرف سے آج بھی فارغ ہے اور کل بھی فارغ ہے  ” اس نے نہیں کہے یا اگر کہے ہیں تو طلاق کی نیت سے نہیں کہے اگر شوہر بیوی کے سامنے قسم دیدے تو ایک رجعی طلاق کے علاوہ کوئی اور طلاق نہیں ہوئی   اور اگر شوہر اس بات پر قسم نہیں دیتا تو  بیوی کے حق میں  ایک رجعی طلاق کے علاوہ ایک بائنہ طلاق  بھی واقع ہوجائے گی جس کی وجہ سے نکاح ٹوٹ جائے گا اور دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نئے مہر کے ساتھ کم از کم دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرنا ہوگا۔

توجیہ : مذکورہ صورت میں  ایک رجعی طلاق  کا تو شوہر بھی اقرار کرتا ہے لہٰذا اس کے واقع ہونے میں تو کوئی شک نہیں باقی دوسری طلاق کے الفاظ کہنے سے انکاری ہے لہٰذا اگر بیوی  کو اپنے بھائی کے اس بیان پر یقین بھی ہو کہ  گواہوں نے یہ بتایا تھا کہ شوہر نے صلح کے موقع پر یہ الفاظ کہے ہیں کہ :”  وہ میری طرف سے آج بھی فارغ ہے اور کل بھی فارغ ہے  ” تب بھی ان الفاظ  سےبیوی کے حق میں  مزید  کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی بشرطیکہ شوہر ان الفاظ کے نہ کہنے پر یا ان الفاظ سے طلاق کی نیت نہ ہونے پر کم از کم بیوی کے سامنے قسم دیدے اور اگر شوہر اس بات پر قسم نہیں دیتا تو ان الفاظ سے  بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق واقع ہوجائے گی اس لیے کہ  یہ  الفاظ   طلاق کے کنائی  الفاظ کی تیسری قسم   میں سے ہیں،  اور جب یہ الفاظ حالت اعتدال میں کہے جائیں تو ان الفاظ سے  طلاق کا واقع ہونا شوہر کی نیت پر موقوف ہوتا ہے یعنی اگر شوہر کی نیت ہو  تو طلاق واقع ہوتی ہے اور نیت نہ ہو تو طلاق واقع نہیں ہوتی  البتہ نیت نہ ہونے پر شوہر کو کم از کم بیوی کے سامنے قسم دینا ضروری ہے ورنہ بیوی اپنے حق میں ایک بائنہ طلاق سمجھنے کی پابند ہے۔ مذکورہ صورت میں   بیوی کے بھائی کے مطابق جس موقع پر شوہر نے  یہ الفاظ کہے ہیں وہ موقع  حالت اعتدال کا  تھا  کیونکہ  اس وقت نہ مذاکرہ طلاق تھا اور نہ حالت غضب کی تھی اس لیے طلاق کا وقوع شوہر کی نیت پر موقوف ہوا اور     جب شوہر سرے سے ان الفاظ کا ہی منکر ہے تو نیت   کا بھی منکر ہے لہٰذا اگر وہ مذکورہ الفاظ کے نہ کہنے پر یا کم از کم نیت نہ ہونے پر بیوی کے سامنے قسم دیدے تو مذکورہ صورت میں کوئی طلاق واقع نہ ہوگی اور اگر قسم دینے سے انکار کردے تو بیوی کے حق میں ایک بائنہ طلاق ہوجائے گی جس سے  سابقہ نکاح ختم ہوجائے گا۔

درمختار (4/521) میں ہے:

(ففي حالة الرضا) أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال والقول له بيمينه في عدم النية ويكفي تحليفها له في منزله، فإن أبى رفعته للحاكم فإن نكل فرق بينهما مجتبى.(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا.

و فى الشامية تحته: والحاصل أن الأول يتوقف على النية في حالة الرضا والغضب والمذاكرة، والثاني في حالة الرضا والغضب فقط ويقع في حالة المذاكرة بلا نية، والثالث يتوقف عليها في حالة الرضا فقط، ويقع حالة الغضب والمذاكرة بلا نية.

فتح القدیر (4/65)میں ہے:

(قوله: وفي كل موضع يصدق الزوج في نفي النيةإنمايصدق مع اليمين إلخ) قدمنا بيانه ونقله من الكافي للحاكم ولزوم اليمين لما فيه من الإلزام على الغير بعد ثبوت احتمال نفيه بالكناية فيضعف مجرد نفيه فيقوى باليمين، والأقرب أنه لنفي التهمة أصله حديث تحليف ركانة المتقدم.

مجمع الانہر فی شرح ملتقی الابحر(2/ 188) میں ہے :

‌فإن ‌طلاقه صحيح لإقراره بالطلاق لأن الإقرار خبر محتمل للصدق والكذب ……. و قال في كتاب الشهادات  (و) شرط (لغير ذلك) المذكور من الحدود والقصاص، وما لا يطلع عليه الرجال (رجلان أو رجل؛ وامرأتان مالا كان)الحق (أو غير مال كالنكاح والرضاع والطلاق والوكالة والوصية»

فتاوی شامی ( 3/308) میں ہے :

(لا) يلحق البائن (البائن) إذا أمكن جعله إخباراً عن الأول كأنت بائن بائن أو أبنتك بتطليقة فلا يقع، لأنه إخبار فلا ضرورة في جعله إنشاء، بخلاف أبنتك بأخری أو بأنت طالق أو قال نويت البينونة الكبری لتعذر حمله علی الإخبار فيجعل إنشاء

فتاوی محمودیہ (12/) 469 میں ہے :

ہندہ جن الفاظ کو زید کی طرف منسوب کرتی ہے اور زید اس کا منکر ہے وہ اس امر میں صریح نہیں کہ زید نے تین مرتبہ طلاق دی ہے یا تین کا اقرار کیا ہے لہذا اگر ان الفاظ کے کہنے کا شرعی ثبوت ہو یا کم از کم دو عادل مرد یا ایک مرداور دو عورتیں گواہ موجود ہوں جن کے سامنے یہ الفاظ کہے ہوں تب بھی ان الفاظ سے تین طلاق واقع ہونے کے لیے نیت کی ضرورت ہے اور زید جب ان الفاظ ہی کا منکر ہے تو نیت کا درجہ بہت مؤخر ہے اس کا علم زید ہی کے ذریعے ہو سکتا ہے۔

فتاوی دارالعلوم دیوبند (9/109) میں ہے:

جبکہ زید اس تحریر سے انکار کرتا ہے اور دو عادل گواہ زید کی طلاق دینے یا خط لکھنے کے نہیں ہیں تو انکار زید کا معتبر ہے اور طلاق زید ثابت نہ ہوگی ۔اور علاوہ بریں اس خط میں صریح طلاق کا لفظ بھی نہیں ہے بلکہ کنایہ کا لفظ ہے جس میں نیت کی ضرورت ہے یعنی اگر شوہر کی نیت ان الفاظ سے طلاق کی ہو تو طلاق واقع ہو جاتی ہے ورنہ نہیں پس جبکہ شوہر ان الفاظ کے کہنے اور لکھنے سے ہی منکر ہے تو کسی طرح اس صورت میں طلاق واقعی نہیں ہوئی ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved