- فتوی نمبر: 34-396
- تاریخ: 29 اپریل 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تعلیق طلاق
استفتاء
ایک عورت اپنے شوہر سے کہتی ہے “اگر تم بلخ جاؤ گے تو میں تم پر حرام ہوں” شوہر جواب میں کہتا ہے کہ “درست ہے، میں نہیں جاؤں گا” شوہر کا مطلب “درست ہے” کہنے سے یہ ہوتا ہے کہ میں جوزجان نہیں جاؤں گا، نہ کہ عورت کی بات کو قبول کرنا۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر شوہر بعد میں بلخ چلا جائے یا بلخ کے راستے سے کابل جائے، تو کیا اس کی بیوی اس پر حرام ہو جائے گی (یعنی طلاق واقع ہو جائے گی) یا نہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر شوہر بلخ چلا گیا تو بیوی حرام ہو جائے گی یعنی طلاق بائنہ واقع ہو جائے گی۔
تو جیہ: بیوی نے شوہر سے کہا کہ”اگر تم بلخ گئے تو میں تم پر حرام ہوں”اس کے جواب میں شوہر نے جب یہ کہا کہ “درست ہے میں نہیں جاؤں گا” تو الجواب يتضمن اعادة ما في السؤال کے تحت شوہر کا جواب بیوی کے سوال کو شامل ہے گویا کہ شوہر نے کہا ہے کہ “درست ہے کہ اگر میں بلخ گیا تو تم مجھ پر حرام ہو” لہذا اس تعلیق کے بعد اگر شوہر بلخ گیا تو بائنہ طلاق واقع ہو جائے گی۔ نیز شوہر کی کسی اور شہر (جوزجان) کی نیت بیوی کے حق میں معتبر نہ ہوگی کیونکہ یہ ظاہر کے خلاف ہے اور بیوی ظاہر کی پابند ہے۔
البنایہ شرح الہدایہ (5/ 378) میں ہے:
ولو قال لها اختاري نفسك فقالت قد اخترت يقع واحدة بائنة، لأن كلامه مفسر، وكلامها خرج جوابا له) أي لكلام الزوج (فيتضمن إعادته) أي يتضمن كلام المرأة إعادة كلام الزوج، لأن الجواب يتضمن إعادة ما في السؤال (وكذا) أي وكذا تقع واحدة بائنة
الأشباه والنظائر (ص128) میں ہے:
«لو قال: امرأة زيد طالق وعبده حر وعليه المشي إلى بيت الله تعالى الحرام إن دخل هذه الدار.فقال زيد: نعم. كان زيد حالفا بكله لأن الجواب يتضمن إعادة ما في السؤال»
شامی (3/ 248) میں ہے:
«من الألفاظ المستعملة: الطلاق يلزمني، والحرام يلزمني، وعلي الطلاق، وعلي الحرام، فيقع بلا نية للعرف»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved