- فتوی نمبر: 34-393
- تاریخ: 29 اپریل 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
حج و عمرہ کے مسافر ہوائی سفر میں اپنے سامان میں زمزم کا پانی بھی رکھ کر لاتے ہیں۔ کبھی عملہ اسے سامان سے باہر نکال دیتا ہے اور کبھی جانے دیتا ہے۔ کیا مسافر کے لیے ایئر لائن کمپنی سے زمزم چھپا کر لانا درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مسافروں کے لیے ایئر لائن کمپنی سے چھپا کر سامان میں زمزم لانے کی شرعاً گنجائش ہے۔
تو جیہ: چونکہ سامان میں زمزم لے جانا کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو جہاز کے لیے عموماً نقصان دہ ہو اس لیے طے شدہ وزن کی حد میں رہتے ہوئے فی نفسہٖ زمزم لانے کی گنجائش ہے۔
بدائع الصنائع فی ترتيب الشرائع (4/ 213) میں ہے:
ولو استأجرها ليحمل عليها حنطة فحمل عليها مكيلا آخر ثقله كثقل الحنطة وضرره كضررها فعطبت لا يضمن.
امداد الاحکام (4/422) میں ہے:
سوال: ریلوے کا قانون ہے کہ جو ٹکٹ ایک شخص نے خرید لیا ہو اس کے لیے جائز نہیں کہ اس ٹکٹ کو دوسرے کے ہاتھ فروخت کر کے اس کو اپنی جگہ سوار کر دے شرعاً ایسا کرنا کیسا ہے؟
الجواب: وإن قيد براكب أو لابس فخالف ضمن (لأنه صار متعديا؛ لأن الركوب واللبس مما يتفاوت فيه الناس، فرب خفيف جاهل أضر على الدابة من ثقيل عالم) ومثله في الحكم كل ما يختلف بالمستعمل كالفسطاط (قال في الدرر: حتى لو استأجره فدفعه إلى غيره إجارة أو إعارة فنصبه وسكن فيه ضمن عند أبي يوسف لتفاوت الناس في نصبه واختيار مكانه وضرب أوتاده، وعند محمد لا يضمن؛ لأنه للسكنى فصار كالدار) وفيما لا يختلف فيه بطل تقييده به كما لو شرط سكنى واحد له أن يسكن غيره لما مر أن التقييد غير مفيد (شامی 36/6) اس سے معلوم ہوا کہ شیء مستأجر میں اگر استعمال مختلف نہ ہو تو مستأجر کو جائز ہے کہ دوسرے کو عاریت یا اجارۃ ً دے دے اور مختلف ہو تو جائز نہیں اور ظاہر یہ ہے کہ ریل میں استعمال مستعمل متفاوت نہیں لہذا شرعاً ریل کا ٹکٹ دوسرے کو فروخت کر کے اس کو اپنی جگہ بھیج دینا جائز ہے مگر زیادہ داموں میں فروخت نہ کرے بلکہ اجر مسمی یا اس سے کم میں فروخت کرے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved