• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

توجہ سے علاج کرنے کا حکم

استفتاء

مفتی صاحب ایک مسئلہ معلوم کرنا تھا کہ دم بالتصور کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟

ہمارے علاقے میں ایک مفتی صاحب ہیں جو باقاعدہ دم کرتے ہیں  جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ  ایک پرچی پر  مریض کی تمام بیماریاں لکھی جاتی ہیں  پھر بیمار کو سامنے بٹھا کر اس کی آنکھیں بند کروائی جاتی ہیں  پھر دم  کرنے والے دو بندے آپس  میں بیٹھ کر بیمار پر توجہ ڈالتے ہیں ایک دوسرے کو کہتا ہے کہ اس کے جسم سے فلاں بیماری ختم کر دو تو وہ کہتا ہے میں نے ختم کر دی۔ اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

دم بالتصور مفاسد کثیرہ کی وجہ سے شرعاًً قبیح لغیرہ ہے اور ناجائز ہے ۔

عملیات وتعویذات کے شرعی احکام (ص:129) میں ہے:

توجہ کی حقیقت مسمریزم کی حقیقت ایک ہی ہے۔

بوادر النوادر (ص:92) میں ہے :

اس عمل کے ذریعہ سے واقعات کا انکشاف نہیں ہوتا البتہ بعض خواص اکثر اس پر مرتب ہوسکتے ہیں جیسے سلب امراض اور اصلاح خیالات مگر ان مصالح سے بڑھ کر اس میں دوسرے مفاسد ہیں گو وہ لازم عقلی نہیں مگر لازم عادی ہیں  جن کا بیان زبانی ہو سکتا ہے    اور تجربہ کار مشاہدہ کرتے ہیں  ۔حسب ارشاد ” قل فيهما اثم كبير ومنافع للناس“اس کو منع کیا جاوے گا  گووہ نہی قبح لغیرہ کی سبب ہوگی۔

بوادر النوادر (ص:152) میں ہے :

چونکہ مشاہدہ سے اس پر مفاسد کثیرہ کا ترتب معلوم ہوا ہے جیسے انبیاء و اولیاء کے کمالات کو اسی قبیل سے سمجھنا چنانچہ ایسا ہی توہم اس سوال کا منشا بھی ہوا ہے یا ان کے ساتھ دعوی و زعم مساواۃ و مماثلت کا کرنا اور عامل میں عجب کا پیدا ہوجانا  بعض امور جن کا تجسس حرام ہے ان پر مطلع ہونے کی کوشش کرنا،ان انکشافات پر جو کہ شرعی حجت نہیں ہیں بلا دلیل شرعی بینہ و اقرار ومشاہدہ کے یقین کر لینا  اس بنا پر کسی پر چوری وغیرہ کے سوء ظن کو پختہ کر لینا بعض اغراض مباحہ میں تصرف سے کام لینا یا خود اگر مفاسد سے بچ سکے مگر دوسرے عوام کے لئے اس عامل کا موجب افتنان و اضلال ہوجانا وغیر ذلک من المفاسد العدیدۃ الشدیدۃ اس لئے یہ فن گو بالذات و بعینہ مقتضی قبح کو نہ ہو مگر بوجہ عوارض و مفاسدہ مذکورہ کے عادۃً اس کے لوازم میں سے ہیں قبیح لغیرہ کی قسم میں داخل ہو کر منہی عنہ اور حرام ہے چنانچہ  ماہر اصول و فقہ پر یہ قاعدہ مخفی نہیں ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved