- فتوی نمبر: 35-150
- تاریخ: 04 مئی 2026
- عنوانات: عبادات > حج و عمرہ کا بیان > حج کی شرائط کا بیان
استفتاء
مجھے پچیس ہزار تنخواہ ملتی ہے، اور میں ایک جگہ ٹیوشن پڑھاتا ہوں،جہاں سے مجھے تقریبا 10 ہزار ملتا ہے۔ مسجد کے نمازی کبھی کبھار خدمت کر دیتے ہیں اس کی کوئی مقدار متعین نہیں میں کرائے پر رہتا ہوں مالک مکان 15000 کرایہ لیتا ہے۔ بجلی گیس پانی کے بل ڈال کر مکان کا خرچہ بیس ہزار تک پہنچ جاتا ہے میں شادی شدہ ہوں اور میرے بچے بھی ہیں جن کے دودھ کھانے کا خرچہ بھی ہوتا ہے۔ اب مسئلہ یہ ہوا ہے کہ میں کرایوں سے تنگ آگیا ہوں کئی دفعہ مکان تبدیل کرچکا ہوں کہیں مالک مکان تنگ کرتا ہے تو کہیں مکان ٹھیک نہیں ہوتا ایک مستقل ذہنی کوفت ہے، میں نے اپنا گھر بنانے کی کوشش شروع کی اللہ پاک کی مدد سے میں نے اس سال ایک پلاٹ تین مرلے کا مئی میں لیا جس کی قیمت تقریبا (2000000)بیس لاکھ ہے جو میں ادا کر چکا ہوں اور میں نے اس طرح ادا کی ہے کہ میں نے بڑی ہی مشکل سے کمیٹی ڈالی، کچھ پیسے پہلے سے جمع کرتا رہا اور کچھ پیسے ایک نمازی نے گفٹ کردیئے تقریبا 3 لاکھ اور بیوی نے تقریبا دو لاکھ کا سونا بیچا اور دو لاکھ کسی سے ادھار لیے تو اس طرح میں نے بڑی مشکل سے اور گھر کا کھانا پینا بہت کم کرکے پیسے پورے کیے بلکہ کمیٹی کے تین لاکھ ابھی قسطوں میں جمع کروانے ہیں۔ مجھے کسی نے کہا ہے کہ مجھ پر حج لازم ہوچکا ہے اور پلاٹ بیچو اور حج کرو۔ نہیں تو مسلسل گناہ ملتا رہے گا۔
مفتی صاحب کیا ان حالات میں مجھ پر حج فرض ہوچکا ہے جبکہ مجھے گھر کی بہت ضرورت ہے اور اس کی شروعات کے لیے پلاٹ لیا ہے؟ فی الحال میرے پاس کوئی جمع پونجی نہیں ہے بلکہ مقروض ہوں تو اگر مجھ پر حج فرض ہے تو کیا میں جب تک نہیں کرتا مجھ پر گناہ ہوتا رہے گا اور اگر میں ایسے ہی مر گیا تو مجھ سے حج کے بارے میں پوچھ ہوگی؟
تنقیح:پہلے سے جمع شدہ روپے تقریباً آٹھ لاکھ تھے وہ اس طرح کہ تقریباً جنوری میں ایک مشترکہ زمین بیچی تھی جو والد صاحب کی وراثت میں ملی تھی ،چھ لاکھ روپے اس کے تھے،اور دو لاکھ میں نے جمع کیے تھے اس طرح آٹھ لاکھ ہوگئے اور دو لاکھ کا سونا بیچا تھا جو بیوی نے بطورِ گفٹ دیا تھا۔سات لاکھ اسی ہزار کی کمیٹی نکلی ہے جس کے پانچ لاکھ دے چکا ہوں اور باقی دینے ہیں جو کہ پانچ ہزار ماہانہ ادا کرتا ہوں کل قرض بقیہ کمیٹی کا ہے اور پچاس ہزار کسی اور سے کاغذات وغیرہ کے لیے لیا تھا ،یہ تین لاکھ اسی ہزار ہے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں آپ پر حج فرض ہوچکا ہے ،لہذا اب حج کیے بغیر کوئی چارہ نہیں چاہے پلاٹ بیچ کر حج کریں یا کسی سے قرض لے کر کریں البتہ جب تک آپ حج نہیں کرتے اس وقت تک آپ کو گناہ ہوگا یا نہیں ؟تو بعض حضرات کے نزدیک تاخیر کرنے سے گناہ نہیں ہوگا بشرطیکہ موت سے پہلے ادا کرلیا جائے اور بعض حضرات کے نزدیک تاخیر کرنے کی وجہ سے بھی گناہ ہوگا لیکن موت سے پہلے ادا کرنے سے وہ گناہ ختم ہوجائے گا لہذا بلا عذر تاخیر نہ کی جائے۔
توجیہ:جس زمانے میں حج کی درخواستیں جمع ہوتی ہیں اس زمانے میں قرض منہا کرکے اگر کسی کے پاس اتنا مال ہو جس سے حج ہوسکتا ہو تو اس پر حج فرض ہوجاتا ہے،مذکورہ صورت میں چونکہ یہ پلاٹ آپ کی ضرورت سے زائد ہے کیونکہ فی الحال اس میں آپ کی رہائش نہیں ہے اگرچہ رہائش کی نیت سے لیا تھا اور یہ پلاٹ آپ کی ملکیت میں مئی کے مہینے میں آیا ہے اور اس پر آپ کی ملکیت میں ہوتے ہوئے حج کی درخواستوں کا زمانہ بھی آیا ہے اور جو قرض آپ پر ہے اس کو منہا کرکے آپ کی ملکیت میں اتنے پیسے بچتے ہیں جس سے حج ہوسکتا ہے لہذا آپ پر حج فرض ہوچکا ہے۔
البحر الرائق (2/ 337)میں ہے:
وفي قوله وما لا بد منه إشارة إلى أن المسكن لا بد أن يكون محتاجا إليه للسكنى فلا تثبت الاستطاعة بدار يسكنها وعبد يستخدمه وثياب يلبسها ومتاع يحتاج إليه وتثبت الاستطاعة بدار لا يسكنها وعبد لا يستخدمه فعليه أن يبيعه ويحج.
شامی(3/ 528)میں ہے:
(فضلا عما لا بد منه) كما مر في الزكاة ومنه المسكن ومرمته ولو كبيرا يمكنه الاستغناء ببعضه، والحج بالفاضل فإنه لا يلزمه بيع الزائد. نعم هو الأفضل.
في الشامية: (قوله ومنه المسكن) أي الذي يسكنه هو أو من يجب عليه مسكنه بخلاف الفاضل عنه من مسكن أو عبد أو متاع أو كتب شرعية أو آلية كعربية أما نحو الطب والنجوم وأمثالها من الكتب الرياضية فتثبت بها الاستطاعة وإن احتاج إليها كما في شرح اللباب عن التتارخانية.
غنیۃ الناسک(ص:38)میں ہے:
ومن لا مسكن له ولا خادم وهو محتاج إليهما وله مال يكفيه لقوت عياله من وقت ذهابه إلى حين إيابه وله مال يبلغه فليس له صرفه إليهما إن حضر وقت خروج أهل بلده بخلاف من له مسكن يسكنه وخادم يخدمه لا يلزمه بيعهما؛ لأنه لا يتضرّر بترك شراء المسكن والخادم بخلاف بيع المسكن والخادم؛ فإنه يتضرر به (لباب) وغيره.
شامی (2/ 456)میں ہے:
(على الفور) في العام الأول عند الثاني وأصح الروايتين عن الإمام ومالك وأحمد فيفسق وترد شهادته بتأخيره أي سنينا لأن تأخيره صغيرة وبارتكابه مرة لا يفسق إلا بالإصرار بحر ووجهه أن الفورية ظنية لأن دليل الاحتياط ظني، ولذا أجمعوا أنه لو تراخى كان أداء وإن أثم بموته قبله وقالوا لو لم يحج حتى أتلف ماله وسعه أن يستقرض ويحج ولو غير قادر على وفائه ويرجى أن لا يؤاخذه الله بذلك، أي لو ناويا وفاء إذا قدر كما قيده في الظهيرية.
فى الشامية: (قوله كان أداء) أي ويسقط عنه الإثم اتفاقا كما في البحر قيل: المراد إثم تفويت الحج لا إثم التأخير.
قلت: لا يخفى ما فيه بل الظاهر أن الصواب إثم التأخير إذ بعد الأداء لا تفويت وفي الفتح: ويأثم بالتأخير عن أول سني الإمكان فلو حج بعده ارتفع الإثم اهـ وفي القهستاني: فيأثم عند الشيخين بالتأخير إلى غيره بلا عذر إلا إذا أدى ولو في آخر عمره فإنه رافع للإثم بلا خلاف.
غنیۃ الناسک(ص:219) میں ہے:
هل يجب الحج على الفور أم على التراخي ؟
على الفور في أول سني الوجوب، وهو أول سني الإمكان على القول الأصح عندنا وهو قول أبي يوسف وأصح الروايتين عن أبي حنيفة رضي الله عنه فيُقدم على الحوائج الأصلية كمسكنه وخادمه والتزوج وإن لم يجب بها كما سيأتي، وقال محمد و الشافعي رضي الله عنهما: إنه فرض على التراحي لأن الأمر لا دلالة له على الفور ولا على التراخي، فبقي على الإباحة الأصلية إلا أن التعجيل أفضل فلا يأتم بالتأخير عندهما، لكن بشرط الأداء قبل الموت، فإذا مات قبل الأداء ظهر أنه أثم، وقيل: إن فاجأه الموت فهو غير أثم بالتأخير (فتح).
قلنا: «موجب الفور إنما هو الاحتياط؛ لأن الحج له وقت معين في السنة والموت في سنة غير نادر، فتأخيره بعد التمكن من أدائه في وقته تعريض له على الفوات فلا يجوز»، فيتضيق احتياطا، والأمر لا يعارضه لأنه ساكت عن الوقت.
والخلاف فيما إذا كان غالب ظنه السلامة، أما إذا كان غالب ظنه الموت، إما بسبب الهرم أو المرض فإنه يتضيق عليه الوجوب إجماعا (جوهرة ) وأيضا الخلاف في وجوب الأداء، أما نفس الوجوب فيتحقق من أول سني الإمكان بلا خلاف أفاده ابن عابدين رحمه الله.
والفورية واجبة لا فرض لظنية دليلها وهو الاحتياط والحج مطلقا هو الفرض، فإذا أخره إلى العام الثاني بلا عذر يأثم لترك الواجب، ولو حج بعد ذلك ولو في آخر عمره ارتفع إثم التأخير ووقع أداء اتفاقا؛ لأن القاطع لم يوقته، ولو أخره سنين بلا عذر يصير فاسقا مردود الشهادة؛ لأن التأخير صغيرة لانه مكروه تحريما وبارتكاب الصغيرة مرة لايصير فاسقا بل بالاصرار عليها (بحر).
فتاویٰ محمودیہ(2/290)میں ہے:
سوال: ایک شخص کے پاس اتنا روپیہ تھا کہ وہ حج بیت اللہ کرسکے ،مگرپھر بعض دقتوں کی وجہ اپنی سکونت دوسری جگہ اختیار کرلی، اب وہاں چونکہ مکان بنانا پڑا، اس لئے وہ روپیہ خرچ ہوگیا، اب سوال یہ ہے کہ اس شخص پراس وقت جب کہ اس کے پاس کافی روبیہ موجود تھا، اس وقت اس کے ذمہ حج فرض ہوگیاتھایانہیں؟ بینواوتوجروا۔
الجواب حامداًومصلیاً: اگرمکان کی ضرورت حج سے پہلے ہی پیش آگئی اوراس مجبوری کی وجہ سے مکان بنالیاتواس کے ذمہ حج فرض نہیں ہواتھا، اگر وقت حج یعنی جس وقت کہ لوگ اس کے پاس سے حج کے لئے جارہے تھے، اس وقت تومکان کی ضرورت نہ تھی، بلکہ بعدمیں ضرورت پیش آئی، اوراس میں روپیہ خرچ کرلیا، تواس کے ذمہ حج فرض ہوچکاتھا لولم یکن له مسکن ولاخادم وعنده مال یبلغ ثمن ذلك ولایبقی بعده قدر مایحج به فانه لایجب عليه الحج لان هذا الما ل مشغول بالحاجة الاصلية اليه اشار فی الخلاصة اھ ،ج2؍ص313.هذا محمول على ماقبل حضور الوقت الذی یخرج فيه اهل بلده فلوحضرتعین اداء النسك عليه فلیس له ان یدفعه عنه اليه کماذکره ملاعلی قاری فی شرحه علیٰ لباب المناسك.منحة الخالق
معلم الحجاج(ص:78)میں ہے:
مسئلہ : ایک شخص کے پاس حج کے لائق مال موجود ہے لیکن اس کو مکان کی ضرورت ہے یا غلام کی ضرورت ہے تو اگر حج کے جانیکا وقت ہے یعنی اس وقت عام طور سے وہاں کے لوگ حج کو جاتے ہیں تو اس کو حج کرنا فرض ہے ۔ مکان اور غلام میں صرف کرنا جائز نہیں البتہ اگر حاجیوں کے جانے کا وقت نہیں ہے تو مکان و غلام میں صرف کرنا جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved