• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ساس اور سالی کیساتھ موبائل پر بات کرتے وقت شہوت سے انزال ہونے کی صورت میں حرمت مصاہرت کا حکم

استفتاء

ایک مرد سالی کے ساتھ  موبائل پر بات کرتے کرتے شہوت میں ہوجائے اور اس کا انزال ہوجائے تو کیا بیوی اس مرد پر طلاق ہوگی؟

مجھے ساس کیساتھ موبائل پر بات کرتے ہوئے شہوت آئی اور انزال ہوگیا تو کیا میری بیوی مجھ پر حرام ہوگئی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

ساس یا سالی سے بات کرتے ہوئے انزال ہوجائے تو حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی لہٰذا   آپ کی بیوی آپ پر حرام نہیں ہوئی ۔

توجیہ: گفتگو کرنے سے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوتی کیونکہ  گفتگو کرنا حرمت مصاہرت کے اسباب میں سے نہیں ہے ۔نیز حرمت مصاہرت اصول و فروع میں ثابت ہوتی ہے نہ کہ اطراف میں اور سالی اطراف میں سے ہے۔

شامی (4/113) میں ہے:

(و) حرم أيضا بالصهرية (أصل مزنيته) ….. (و) أصل (ممسوسته بشهوة) ………. (وأصل ماسته وناظرة إلى ذكره والمنظور إلى فرجها) ….. (الداخل) …….. (وفروعهن) مطلقا ….. (‌قبل ‌أم ‌امرأته) …..  (حرمت) عليه (امرأته ما لم يظهر عدم الشهوة) ………. (وفي المس لا) تحرم (ما لم تعلم الشهوة) لأن الأصل في التقبيل الشهوة، بخلاف المس (والمعانقة كالتقبيل) وكذا القرص والعض

وفيه أيضا: قال في البحر: ‌أراد ‌بحرمة ‌المصاهرة الحرمات الأربع حرمة المرأة على أصول الزاني وفروعه نسبا ورضاعا وحرمة أصولها وفروعها على الزاني نسبا ورضاعا كما في الوطء الحلال ويحل لأصول الزاني وفروعه أصول المزني بها وفروعها

وفيه أيضا: ‌أن ‌الكلام ‌في ‌الحرمة وعدمها بالنسبة إلى أصولها وفروعها

وفيه أيضا: وفي الخلاصة: وطئ أخت امرأته ‌لا ‌تحرم ‌عليه ‌امرأته …… ووجهه ‌أنه ‌لا ‌اعتبار لماء الزاني

قال في البحر: لو وطئ أخت امرأة بشبهة تحرم امرأته ‌ما ‌لم ‌تنقض ‌عدة ذات الشبهة

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved