- فتوی نمبر: 35-289
- تاریخ: 01 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > تعلیق طلاق
استفتاء
میری بیوی اور میری کسی بات پر لڑائی ہوئی اور لڑائی بہت زیادہ ہو گئی اسکے گھر والے دوسرے شہر میں رہتے ہیں تو لڑائی زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ صلح کروانے آئے ،تلخ کلامی زیادہ ہونے کی وجہ سے وہ میری بیوی کو گھر لیکر جانے لگے تو میں نے انکو کہا کہ” یا تو آپ میری بیوی کو میرے گھر سے ہی لیکر جائيں یا ایک اسکی خالہ کے گھر کے علاوہ جو ہمارے رشتے دار ہیں انکے گھر سے لے جائيں” شاید اسکے گھر والوں نے یہ نہیں سنا ہو کیونکہ انکے رشتے دار صرف انکی ایک خالہ ہی ہے اور وہ ہمارے گھر آنے سے پہلے میری بیوی کی خالہ کے ہی گھر آئے تھے شاید سامان وغیرہ بھی انکے گھر ہو تو وہ میری بیوی کو لیکر اسی گھر چلے گئے جبکہ جاتے ہوئے میں نے اپنی بیوی کو کہا “تو اگر اپنی خالہ کے گھر گئی تو تجھے ڈائریکٹ 3 طلاق” کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ ایسے طلاق ہوجاتی ہے۔ تو میری بیوی اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے امی ابو کے گھر جانے کیلئے اپنی خالہ کے گھر چلی گئی ۔
نوٹ: میرے ساتھ یہ مسئلہ ہے کہ جب میں اداس ہوتا ہوں یا میری کسی کے ساتھ لڑائی ہوتی ہے تو میرے آدھے سر میں درد ہوتا ہے جو بہت زیادہ ہوتا ہے۔ کبھی بائیں سائڈ تو کبھی دائیں سائیڈ پر۔ جسکی میں دوائی بھی کھاتا رہا ہوں اور ڈاکٹر کا یہ مشورہ تھا کہ نہ اداس ہو نا ،نہ کسی سے لڑائی کرنا ورنہ یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا تو جس وقت لڑائی ہوئی تو اس وقت پہلے بھی میرے سر میں درد ہو رہا تھا اور جب لڑائی ہوئی تو اور زیادہ ہو گیا تھا۔ میرا طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا لیکن کب کیسے یہ کہہ گیا پتا نہیں چلا۔ کیا اس سے طلاق ہو گئی؟ اور اگر طلاق ہو گئی ہے تو کتنی طلاقیں ہوئی ہیں؟ اور اب رجوع کیسے کیا جاسکتا ہے؟
وضاحت مطلوب ہے: 1۔بیوی کا رابطہ نمبر مہیا کریں۔2۔آپ جو دوائی استعمال کرتے ہیں اس کا نام بتائیں۔ اور اگر ڈاکٹر کا نسخہ موجود ہے تو اس کی تصویر بھیجیں۔
جواب وضاحت:1۔ بیوی اپنے گھر گئی ہوئی ہے جو کہ جھنگ میں ہے اور میں سرگودھا میں ہوں اور لڑائی کی وجہ سے ہمارے گھر والوں کی آپس میں تقریباً 22یا23 دن سے بالکل کوئی بات چیت نہیں ہے۔ اور ابھی نہ ہی کوئی صلح کے آثار نظر آرہے ہیں کیونکہ اسکی والدہ بہت زیادہ سکھانے والی ہے اور انہی کی وجہ سے آج ہمارا یہ معاملہ یہاں تک پہنچا ہے انکے گھر کا نمبر ہے لیکن لڑائی کی وجہ سے انکے گھر کا نمبر نہیں دیا جا سکتا کیونکہ انکی والدہ نے پہلے ہی مجھے بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ ی۔ اگر آپ رابطہ کریں گے تو اسکی ماں کو اور موقع مل جائے گا۔ برادری والوں نے کہا ہے کہ آپ پہلے معلومات لیں اسکے بعد پھر برادری کے طور پر صلح کی کوشش کی جا سکتی ہے۔اس لیے معلومات لینے کے لیے آپ سے سوال کیا گیا ہے ۔2۔ ڈاکٹر کا نسخہ موجود نہیں ہےکیونکہ کافی عرصہ سے دوائی کھانے کی ضرورت نہیں محسوس ہوئی درد ہوتا تھا لیکن برداشت والا ہوتا تھا اس لیے نسخہ موجود نہیں ہے اور دوائی کا نام بھی یاد نہیں ہے، مجھے رمضان میں دوبارہ آدھے سر کا تیز درد ہوتا رہا ہے ساتھ میں چکرتو بہت زیادہ رہے ہیں تقریباً پورا رمضان ہی لیکن رمضان کے بعد جب لڑائی ہوئی تھی اس ٹائم آدھے سر کا درد زیادہ تھا۔
کیونکہ میں سرگودھا سے ہوں اور جب پہلے سرگودھا سے دوائی لی تھی تو آرام نہیں آیا تھا تو میں جھنگ شہر سے دوائی لایا تھا جس سے فرق پڑا تھا تو اب میرا عید کے بعد جب دوبارہ جھنگ چکر لگنا تھا تو میں نے دوبارہ چیک اپ کروا کر دوائی لانی تھی۔
تنقیح: دارالافتاء کے نمبر سے شوہر سے رابطہ کیا گیا تو اس نے بتایا کہ لڑائی کے دوران جو کچھ میں نے کہا مجھے اس کا علم تھا کہ میں کیا کہہ رہا ہوں لیکن میرا طلاق دینے کا ارادہ نہیں تھا۔ لڑائی کے وقت مجھ سے کوئی خلاف عادت قول یا فعل صادر نہیں ہوا۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں جن کی وجہ سے بیوی شوہر پر حرام ہوگئی ہے لہٰذا اب نہ رجوع ہوسکتا ہے اور نہ صلح کی گنجائش ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں شوہر نے اگرچہ غصہ کی حالت میں طلاق دی لیکن غصہ کی حالت ایسی نہیں تھی جس میں شوہر کو پتہ ہی نہ ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے کیا کر رہا ہے اور نہ ہی خلاف عادت کوئی اقوال و افعال صادر ہوئے لہذا صورتِ مسئولہ میں شوہر کے ان الفاظ سے کہ ” تو اگر اپنی خالہ کے گھر گئی تو تجھے ڈائریکٹ 3 طلاق ” تین طلاقیں خالہ کے گھر جانے پر معلق ہوگئیں پھر جب بیوی خالہ کے گھر چلی گئی تو تینوں طلاقیں واقع ہوگئیں۔
ہندیہ (2/317) میں ہے:
إذا أضاف الطلاق إلى النكاح وقع عقيب النكاح نحو أن يقول لامرأة: إن تزوجتك فأنت طالق أو كل امرأة أتزوجها فهي طالق وكذا إذا قال: إذا أو متى وسواء خص مصرا أو قبيلة أو وقتا أو لم يخص وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق
ہندیہ (1/473) میں ہے:
وإن كان الطلاق ثلاثا في الحرة وثنتين في الأمة لم تحل له حتى تنكح زوجا غيره نكاحا صحيحا ويدخل بها ثم يطلقها أو يموت عنها كذا في الهداية.
در مختار مع رد المحتار(439/4) میں ہے:
وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اه
(وبعد أسطر) فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن إدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved
