• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

کمیشن ایجنٹ صرف اپنے موکل سے کمیشن لے سکتا ہے۔

استفتاء

فریق اول کا  موقف

میرا نام زید ولد خالد ہے اور میرا DHA, Phase6Lahore میں “****” کے نام سے پراپرٹی کا آفس  ہے۔ محترم میری ایک گھر کی ڈیل  عمر  صاحب سے ہوئی جو کہ ان کی زوجہ محترمہ کے نام تھا جبکہ تمام تر تفصیلات بیعانہ میں تحریر ہیں۔ میری کمیشن 335000 (تین لاکھ پینتیس ہزار) روپے بنتی تھی مگر باہمی رضامندی سے 230000 (دو لاکھ تیس  ہزار) روپے طے پائی جس میں سے 100000(ایک لاکھ) روپے مجھے عمر صاحب نے ادا کردیا، بقایا 130000(ایک لاکھ تیس ہزار) روپے ڈیل مکمل ہونے / ٹرانسفر کے بعد ادا کرنا طے  پائی۔

مندرجہ ذیل شرائط بیعانہ میں طے پائیں/ منہ  زبانی وغیرہ

ٹوٹل گھر کی ڈیل بمعہ تمام تر سامان  جوکہ گھر  میں لگا  ہوا اور پڑا ہوا تھا مبلغ 33,500,000(تین کروڑ پینتیس لاکھ) روپے میں طے پایا۔

بیعانہ/ ایڈوانس رقم بذریعہ پے آرڈر 8500,000(پچاسی لاکھ) روپے عرصہ 3 ماہ میں  ادا کرنا  طے پائی ۔ Completion Certificate  کے بعد بقایا رقم ادا کرنا  طے پائی۔

مگر تمام تر کوششوں کے  باوجود جس میں گھر کا  بقایا  کام اور DHA کی طرف سے Objection لگتے  رہے۔ اس عرصہ میں تمام کام مکمل ہونے تک 9 ماہ لیٹ ہوگئے۔

اس تمام تر عرصہ 9 ماہ میں، میں نے ایک کروڑ روپے اور ادا کردیئے مگر ٹرانسفر تب ہی ہونی تھی جب ہمیں DHA کی طرف سے Completion Certificate ملتا۔

تمام تر مشکلات کے بعد الحمد للہ مؤرخہ 22 جون 2022ء  کو بقایا رقم کا پے  آرڈر مبلغ ایک کروڑ پچاس لاکھ ادا کرکے  عمر  صاحب نے گھر ٹرانسفر کروادیا۔

تمام تر معاملات اللہ نے حل کردیئے اب میری بقایا کمیشن رہ گئی ہے جو میں نے عمر  صاحب سے عرصہ  دو سال کے بعد مانگی تو عمر  صاحب نے کہا کہ آپ کی بقایا کمیشن نہیں بنتی جو کہ طے شدہ تھی۔

درخوات کےساتھ بیعانہ کی کاپی لف ہے۔جس کے مندرجات درج ذیل ہیں:

  • بائعہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے کہ وہ اس مکان کی تنہا مالکہ ہے۔
  • بائعہ اس بات کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ مذکورہ مکان ہر قسم کے بار سے آزاد ہے۔
  • یہ کہ بائعہ اس مکان کو 33500000 کے عوض فروخت اور خریدار خرید رہے ہیں جن میں سے 8500000 بذریعہ پے آرڈر خریدار کی طرف سے ادا کردیئے گئے ہیں اور بقیہ 25000000 روپے تین ماہ بعد یا DHA کی طرف سے تکمیل کے سرٹیفکیٹ کے بعد ادا کیے  جائیں۔
  • یہ کہ بائعہ مذکورہ مکان کے انتقال کے حوالے سے تمام تر دستاویزات پر دستخط کرنے کے لیے خود کو دستیاب رکھے گی۔
  • یہ کہ بائع نے اس معاہدے سے پہلے کسی بھی شخص سے مذکورہ مکان کا بیعانہ نہیں لیا۔
  • یہ کہ بائعہ اس مکان کے اوپر انتقال تک واجب ہونے والے تمام خرچے ادا کرنے کی پابند ہوگی۔
  • یہ کہ انتقال پر ہونے والے تمام اخراجات کا ذمہ دار خریدار ہوگا۔
  • یہ کہ بائع اور مشتری اپنے اپنے پراپرٹی مشیر کو حتمی رقم کے ایک ایک فیصد حصہ بطور سروس دینے کے پابند ہوں گے۔
  • یہ کہ خریدار کو اس بات کا اختیار ہوگا کہ وہ مذکورہ پراپرٹی کو بیعانہ کی مدت کے دوران اپنی پسند کے کسی شخص کی اپنی پسند کی قیمت پر فروخت کرے اور بائع کو اس مقصد کے لیے کسی بھی کاغذ  پر دستخط کرنے سے انکار کا  حق نہ ہوگا۔
  • یہ کہ اگر خریدار مقررہ مدت میں ادائیگی نہ کرسکا تو اس کی بیعانہ کی رقم ضبط کرلی جائے گی اور اگر بائع مذکورہ مکان ٹرانسفر کرنے سے انکار کرے تو خریدار بذریعہ عدالت اپنی رقم کی دوگنی رقم لینے کا حقدار ہوگا۔
  • یہ کہ کسی بھی قسم کے تنازعے کی صورت میں DHA کی مصالحتی کونسل کے پاس تنازعہ لے جایا جائے گا اور وہ قانون کے مطابق اس تنازع کا فیصلہ کرے گی جوکہ فریقین پر لازم ہوگا۔
  • اگر سوسائٹی کو کسی بھی اضافی رقبے کا خرچہ دیدنا ہوگا تو بائع کے ذمے ہوگا ۔
  • یہ کہ مذکورہ بالا بائع اور مشتری کو اپنے ورثاء، نمائندگان، قانونی نمائندگان اور نامزد افراد کو معاہدے میں شامل کرنے کاحق حاصل ہے۔

تنقیح: زید   نے فون پر زبانی بات کرتےہوئے یہ بھی کہا کہ میں نے یہ گھر اپنے کلائنٹ کے لیے خریدا تھا اور کلائنٹ کے ساتھ میں نے یہ   طے کیا تھا کہ میں آپ کی انویسٹمنٹ سے یہ گھر خرید لیتا ہوں اور جب ہم یہ گھر فروخت کریں گے  تو نفع میں سے 30 فیصد نفع میں رکھوں گا اور نفع کی بقیہ رقم  انویسٹر (کلائنٹ)  کو ملے گی۔ اس لیے خریدار کی طرف سے  زید  صاحب نے ہی عقد کیا تھا اور ڈیل کے وقت خریدار (انویسٹر) موجود نہیں تھا البتہ بعد میں اس کو مکمل تفصیلات سچائی کے ساتھ بتادی گئی تھیں اور انہوں نے ڈیل کے کاغذات پر دستخط بھی کیے ہیں جیساکہ ساتھ لف ہے۔

فریق دوم کا موقف

ایک دوست کے ذریعے زید  صاحب کو ایک عدد مکان  بیچنےکے لیے رابطہ کیا  جو کہ میری معلومات کے مطابق ایک کمیشن ڈیلر ہیں۔ میں نے زید  صاحب کو اپنے گھر( جو کہ فروخت کرنا تھا  اس)  کی مکمل تفصیل فراہم کی کہ اس وقت تک جیسا تھا ویسا ہے  کی بنیاد پر بغیر کمپلیشن سرٹیفکیٹ کے رضامندی سے ان کے جاننے والے کو  سیل(فروخت) کردیا۔ زید صاحب نے جن کو سیل (فروخت) کیا ہمارے سامنے نہیں کیا اور ہم سے بیعانہ طے کرکے رقم بیعانہ ادا کی اور اپنی کمیشن جو کہ طے کرلی تھی ا س میں سے تقریبا آدھی  رقم سے زیادہ کمیشن لے لی اور ہمیں وقت پر بقایا  رقم دینے  کا ہر طرح سے تسلی سے وعدہ کیا جوکہ ایک بیعانہ میں لکھا جاتا ہے لیکن انہوں نے کسی طور پر مقرر وقت میں  رقم ادا نہ کی اور تقریبا 6 یا 8 مہینے بعد دباؤ ڈالنے پر بقایا رقم میں سے کچھ ہمیں دلوادی جبکہ مکمل رقم کی ادائیگی 1 سال بعد ہوئی۔

اب دوسرا پہلو یہ ہے کہ مجھے بعد میں پتہ چلا کہ زید صاحب   نے جس پارٹی کو یہ مکان دلوایا ہے اس سے اپنی ڈیل طے کی ہوئی ہے کہ وہ یہ مکان بیعانہ پر ہی بیچ کر منافع میں اپنا طے شدہ حصہ لے لیں گے  لیکن ان کی یہ خواہش پوری نہ ہوسکی اور گھر  بیچنے میں  اپنی ذات کے نفع کی لالچ میں گھر کی ٹرانسفر   جوکہ  کمیشن کے لیے ضروری تھی اس میں  بھی 6 مہینے تک تاخیر کرتے رہے ، میرے اور دوسری پارٹی کے دباؤ ڈالنے کے بعد انہوں  نےآخر8 یا 9 ماہ بعد جا کر اس کا م کو انجام دینے کا ارادہ کیا۔ جناب زید صاحب نے مجھے یہ  کہا کہ آپ مجھے بقایا کمیشن دیں کیونکہ دوسری طرف والوں نے بھی زید صاحب کو کچھ ادا کرنے سے معذرت کی ہے حتیٰ کہ  نقصان تو مجھے اٹھانا پڑا ہے انہوں نے  اپنے کام کو ٹھیک ادا  نہیں کیا اور مجھے رقم توڑ کر دی اور  مارکیٹ ریٹ بڑھنے سے دوسری پارٹی کو فائدہ ہوا  جب میں دباؤ ڈال رہا تھا تو میں پریشان تھا اور کہہ رہا تھا کہ آپ کی کمیشن کا حق اب باقی نہیں رہا۔

اس تمام واقعہ کو تقریباً4سے 5 سال ہونے کو آئے ہیں اب 4 سال بعد زید صاحب  کو دوبارہ گڑھے مردے کھودنا یاد آرہا ہے، 4 سال انہوں نے مجھ سے  کوئی مطالبہ یا رابطہ نہیں کیا اگر  کبھی ملنے  پر کچھ  عرصہ پہلے کیا ہو تو میرا  جواب ان کو انکار تھا کہ آپ کے لالچ اور غلط بیانی کی وجہ سے نقصان مجھے ہوا ہے لہذا اب میرا مطالبہ ہے کہ جورقم زید صاحب نے مجھ سے کمیشن کی  صورت میں لی ہے وہ بھی واپس کریں۔ میں اور زید صاحب ایک دوست کے ذریعے ایک دوسرے کا احترام بھی کرتے ہیں اور اخلاق سے پیش بھی آتے ہیں ، دونوں صاحب حیثیت ہیں ۔

ایک اور  بات آپ کے گوش گزار کرنی تھی کہ ٹرانسفر کے وقت  تک کی جو بھی تاخیر ہوئی وہ صرف اور صرف زید صاحب کی وجہ سے  تھی ، نہ ہی میری اور نہ ہی دوسری پارٹی کی وجہ سے ہوئی اگر پارٹی کی وجہ سے تاخیر ہوتی بھی تو زید صاحب ذمہ دار تھے اور پارٹی ڈیفالٹ کرتی تو کچھ ذمہ دار  بھی زید صاحب بن سکتے تھے مگر یہ سب خود انہی کی وجہ سے موخر (Dely) ہوا ۔

گزارش یہ ہے کہ یہ ڈیلر  کوئی رشتہ کروانے  والوں کی طرح نہیں  کہ صرف  ملوادیا بعد میں چاہے طلاق ہوجائے بلکہ  ان کے ذمہ ہوتا ہے کہ معاہدے کو بروقت اور مکمل ذمہ داری سے آخر تک رجسٹر کروائیں اگر ایسا نہیں ہے تو صرف  ملاقات یا بیعانہ پر اپنی ساری کمیشن کیوں نہیں لے جاتے ۔ اگر بیعانہ پر ہی بات منسوخ  ہوجائے تو کیا یہ کمیشن کے حقدار ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں عمر صاحب کے ذمے زید صاحب کے حق میں کمیشن کی بقیہ کوئی رقم نہیں بنتی بلکہ زید صاحب کے ذمے ہے کہ وہ وصول شدہ کمیشن کی  رقم مبلغ ایک لاکھ روپے عمر صاحب کو واپس کریں۔ کیونکہ مذکورہ صورت  میں زید   صاحب اپنے   کلائنٹ (فاطمہ صاحبہ) کے وکیل بالشراء/ کمیشن ایجنٹ  ہیں اور انہوں نے عمر صاحب سے  اپنے کلائنٹ کے وکیل کے طور پر مکان خریدا تھا  اور ڈیلر جس کی نمائندگی کرتا ہے  اسی سے کمیشن / اجرت کا حقدار ہوتا ہے۔اگلے فریق سے نہیں۔

شامی (7/93) میں ہے:

وان سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف فتجب الدلالة على البائع او المشترى او عليهما بحسب العرف

وفيه ايضا: الدلال ان باع العين بنفسه باذن ربها فاجرتها على البائع وليس له أخذ شيء من المشترى لانه هو العاقد حقيقة وظاهره انه لا يعتبر العرف هنا لانه لا وجه له.

مسائل بہشتی زیور (2/326) میں ہے:

اگر یہ دلال  مالک کی اجازت سے  شے کو فروخت  کرے تو وہ بائع کا وکیل (یعنی اس کا کمیشن ایجنٹ) بن گیا اور فقط بائع  سے اجرت لے سکے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved