• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

گائے کے ذبح کی منت کے بعد گائے ذبح کرنے کے بجائے بکریاں ذبح کرنے کا حکم

استفتاء

ہم نے ایک منت مانی تھی کہ ہم ایک گائے خیرات کریں گے لیکن ہم نہیں کر سکتے کیونکہ  گائے ذبح  کرنا مشکل ہے اور ہمارے لیے بہت مشکل ہے تو ہم اسی قیمت کے مطابق بکریاں خیرات کر سکتے ہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

اگر گائے کے خیرات کرنے  سے اصل مقصود آپ کا اسے ذبح کرنا تھا اور گوشت صدقہ کرنا  تبعاً تھا تو مذکورہ صورت میں گائے کی جگہ اگر بکریاں ذبح کرنا چاہتے ہیں تو ایسی  سات بکریاں  ذبح کرنا ضروری ہیں جن میں قربانی کی  شرائط پائی جاتی  ہوں۔

اور اگر اصل مقصود ذبح کرنا نہ تھا بلکہ خود گائے کو یااس کے گوشت کو صدقہ کرنا مقصود تھا تو قربانی کے قابل متوسط درجے کی گائے کی قیمت کے برابر  جتنی بکریاں بنتی  ہوں اتنی بکریاں زندہ یا ان کا  گوشت خیرات کرنا بھی کافی ہوگا خواہ وہ بکریاں سات ہوں یا کم وبیش ہوں اور  خواہ ان میں قربانی کی  شرائط پائی جاتی ہوں یا نہ پائی جاتی ہوں۔

درمختار (5/537)میں ہے:

‌ومن ‌نذر ‌نذرا ‌مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب) أي فرض كما سيصرح به تبعا للبحر والدرر (وهو عبادة مقصودة) خرج الوضوء وتكفين الميت (ووجد الشرط) المعلق به (لزم الناذر) لحديث «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى» (كصوم وصلاة وصدقة) ووقف (واعتكاف)

در مختار مع رد محتار(5/545)میں ہے:

ولو قال ‌لله ‌علي ‌أن ‌أذبح جزورا وأتصدق بلحمه فذبح مكانه سبع شياه جاز) كذا في مجموع النوازل ووجهه لا يخفى

قوله :(ووجهه لا يخفى )هو أن السبع تقوم مقامه في الضحايا والهدايا ط

امداد الفتاوی(2/540)میں ہے:

وفی رد المحتار وكذا يظهر منه انه لا يتعين فيه (اي في المعلق) المكان والدرهم والفقير لان التعليق انما اثر فى انعقاد السببية فقط فلذا امتنع فيه التعجيل و تعين فيه الوقت اما المكان والدرهم والفقير فهى باقية على الاصل من عدم التعيين وانما تعين المكان فى نذر الهدى والزمان فى نذر الاضحية لان كلاً منهما اسم خاص معين فالهدى ما يهدى للحرم والاضحية ما يذبح في ايامها حتى لو لم يكن كذلك لم يوجد الاسم. وفى الدر المختار نذر ان يتصدق بعشرة دراهم من الخبز فتصدق بغیره جازان ساوى العشر كتصدقه بثمنه وفيه لو قال لله على ان اذبح جزوراً و اتصدق بلحمه فذبح مكانه سبع شياه جاز كذا في مجمع النوازل ووجهه لا يخفى.

ان روایات سے چند امور معلوم ہوئے ۔ ایک یہ کہ قربانی سے مراد ناذر نے صرف ذبح لیا  ہے یا قربانی بقر عید کے زمانہ میں اگر اول مراد لیا ہے تو جب چاہے نذر ادا کرے اور اگر ثانی ہے تو خاص ایام نحر میں ادا کرنا ہوگا ۔ دوسرے یہ کہ ذبح مقصود ہے اور تصدق اس کے تابع ۔ اول صورت میں گائے بھی شتر کے قائم مقام ہو جاوے گی اور دوسری صورت میں مساوات قیمت کی شرط ہے خواہ ایک گائے اتنی قیمتی مل جائے یا چند گائے مل کر ہوں ۔

امداد الفتاویٰ (2/545)  میں ہے:

سوال: نذر ماننے ذبح حیوان میں اختلاف ہے بعض نے  ماجنسه واجب کو عام رکھ کر کہا ہے نذر منعقد ہوجاتی ہے اور بعض نے کہا ہے واجب سے مراد فرض ہے تو نذر منعقد نہ ہوگی ۔ صاحب درمختار نے قول ثانی اور شامی نے قول اول کی تصحیح کی ہے بناء پر تصحیح شامی آیا صرف ذبح سے ایفاء ہوجائے گا مثل قربانی کے یا کہ تصدق لحم و جلد ضروری ہے۔ظاہر یہ ہے کہ ضرور ہو مگر تصریح نہیں ملتی۔

الجواب: تصریح میں نے بھی دیکھی نہیں لیکن فقہاء نے تصریح کی ہے کہ ذبح کرنا غیر ایام اضحیہ میں قربت مقصودہ نہیں اور یہ بھی تصریح کی ہے منذور بہٖ کا قربت مقصودہ ہونا چاہیے پس اگر نذر بالذبح میں صرف ذبح سے پوری ہوجائے تو لازم آتا ہے کہ منذور بہٖ غیر قربت مقصودہ ہو وہو باطل۔ اس سے معلوم ہوا کہ تصدق کو لازم کیا جائے گا تاکہ اس  کے انضمام سے وہ قربت مقصودہ ہوجائے اس قاعدہ سے یقیناً معلوم ہوتا ہے کہ تصدق واجب ہوگا۔ نیز ناذر کا قصد اس نذر ذبح سے یقیناً تصدق کا ہوتا ہے پس  عرفاً نذر بالذبح کا لفظ مستعمل نذر لمجموع الذبح والتصدق میں ہے اور مجموع کے نذر میں فقہاء نے انعقاد نذر  کی تصریح کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved