- فتوی نمبر: 32-266
- تاریخ: 03 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > خلع و تنسیخ نکاح
استفتاء
دار الافتاء والتحقیق، چوبرجی پارک، لاہور میں خلع سے متعلق ایک سوال جمع کروایا گیا تھا جس کا جواب [فتویٰ نمبر: 26/368] دے دیا گیا۔
پھر یہی سوال دارالعلوم کراچی بھیجا گیا، دارالعلوم کراچی سے جو جواب [32/2373] آیا وہ دار الافتاء والتحقیق، چوبرجی پارک، لاہور کے فتوے سے مختلف تھا۔
دار العلوم کراچی سے فتویٰ لینے کے بعد سائل نے دونوں فتاویٰ دار الافتاء مرکز انوار القرآن کراچی بھیجے، مرکز انوار القرآن سے جو جواب [سیریل نمبر: A0068] آیا اس میں دار العلوم کراچی کے فتویٰ کی تائید کی گئی تھی اور دار الافتاء والتحقیق، لاہور کے فتوی پر اشکال ظاہر کیا گیا تھا [اس کی کاپی ساتھ لف ہے]۔ اس کے بعد سائل نے دوبارہ دار الافتاء والتحقیق لاہور رجوع کیا اور اس اشکال کا جواب طلب کیا۔ سائل نے دوبارہ یہ سوال بھیجا:
سوال یہ ہے کہ آپ کے فتویٰ کو جو تسامح قرار دیا گیا ہے اس کے حوالے سے رائے درکار ہے کہ جو عبارت دارالعلوم کراچی نے پیش کی اور جو عبارت آپ کی ہے دونوں کا حکم الگ الگ ہو رہا ہے۔جس عبارت سے فتویٰ میں استدلال کیا گیا ہے وہ عبارت اس مضمون پر معلوم نہیں ہو رہی لیکن اگر آپ کی رائے یہی ئے تو البائن لا یلحق البائن مذکورہ مسئلے میں فٹ ہو رہی ہے تو سمجھا دیجئے کس طرح یہ فتویٰ شامیہ کی اس عبارت کے مطابق ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
ہمیں اس اصول سے اتفاق ہے کہ بائن صریح بائن طلاق کو لاحق ہوجاتی ہے مگر مذکورہ صورت میں جو بائن طلاق بصورت خلع ہے اس کے بائن صریح ہونے سے ہمیں اتفاق نہیں اور نہ ہی اس کے بائن صریح ہونے کے دلائل مذکورہ فتووں میں ذکر کیے گئے ہیں ۔
ہمارے خیال میں ان الفاظ سے کہ “میں زید ………زینب ……… کو طلاق خلع دیتا ہوں” خلع واقع ہوا ہے نہ کہ طلاق بائن صریح بالخصوص جبکہ عنوان بھی “طلاق بصورت خلع” کا ہے اور میاں بیوی کی غرض بھی خلع ہی ہے اور اسی وجہ سے مہر کو بھی میاں بیوی ساقط سمجھ رہے ہیں حالانکہ طلاق بائن صریح میں مہر ساقط نہیں ہوتا اور خلع طلاق بائن کنائی ہے اور بائن کنائی کے لاحق نہ ہونے کا اصول مسلمہ ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved