• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مس بالحائل سے حرمت مصاہرت کا حکم

استفتاء

مفتی صاحب جو مسئلہ  میں آپ کو بتانے جارہی ہوں یہ تقریباً 17 یا 18 سال پرانا ہے۔ میری عمر تقریباً 14 یا 15 سال تھی، میں اس وقت آٹھویں جماعت میں تھی اور  ساتھ  قرآن پاک بھی حفظ کررہی تھی، جہاں میں حفظ کررہی تھی وہاں  ایک دن استاد نے مجھے گلے لگانے کی کوشش کی ، میں گلے نہیں لگ رہی تھی انہوں نے مجھے اپنے ساتھ زبردستی لگایا تو ان کا عضو حائل کے ساتھ  میرے مثانے کے نیچے ولی جگہ  پر ہلکا سا لگا، کپڑے موٹے تھے یعنی شلوار ، اس کے اوپرقمیص اور چادر تھی اس لیے جسم کی حرارت محسوس نہیں ہوئی اور بغیر حائل کے دونوں کے جسم کا کوئی حصہ دوسرے کو ٹچ نہیں ہوا، میں فوراً پیچھے  ہوگئی اور ان کے ساتھ غصے سے بولی کہ مجھے اپنے ساتھ کیوں لگا رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ بیٹا! ویسے ہی میں نے آپ کو اپنے ساتھ لگایا، اگر بُرا لگا ہو تو معذرت، خیر انہوں نے مجھ سے معافی مانگی اور باقاعدہ قرآن پاک کی قسم کھا کر کہا کہ میرا کوئی ارادہ نہیں تھا بس ویسے ہی آپ کو ساتھ لگایا تھا، اس کے علاوہ کوئی اور Attention (خیال) نہیں تھی، مجھے معاف کردو، دوبارہ ایسی حرکت نہیں کروں گا، مجھے معاف کردو تو میں نے بھی معاف کردیا، اس کے بعد تقریباً میں 6 سال وہاں پڑھتی رہی لیکن اللہ کا شکر ہے  انہوں نے دوبارہ کوئی ایسی حرکت نہیں کی، میں نے بھی اپنے ذہن سے اس بات کو نکال دیا، کچھ عرصہ گزرنے کے بعد جب میری شادی کا وقت آیا تو مجھے انہی کا بیٹا پسند تھا، ہم دونوں کی شادی ہوگئی۔ اب وہ میرے سسر بھی ہیں۔

الحمد للہ میری شادی بہت اچھی چل رہی ہے، میرے دو بچے ہیں اور اب بھی میں حاملہ ہوں۔17 سال پہلے جو ایک چھوٹا سا عمل ہوا وہ  دن اور آج کا دن میرے سسر نے نہ شادی سے پہلے اور نہ ہی شادی کے بعد ایسی کوئی حرکت کی بلکہ ہمیشہ تقدس کا خیال رکھا، الحمد اللہ ایسی کوئی بات نہیں ہے، میری زندگی بہت خوشحال ہے بس اچانک کل میں نے یوٹیوب پر ایک ویڈیو دیکھی جس میں یہ بات تھی کہ  جو عورت اپنے شوہر سے  کوئی بات چھپاتی ہے وہ جنت میں نہیں جائے گی۔یہ بات سن کر میں نے کافی سوچا کہ میں نے تو اپنے شوہر سے کچھ نہیں چھپایا؟

مفتی صاحب میں تو یہ  بات بھول گئی تھی، کافی سوچنے کے بعد مجھے یاد آیا تو میں نے بتادیا جب میں نے اپنے  شوہر کو بتایا تو وہ کہہ رہے  ہیں اس وجہ سے ہمارے نکاح پر کوئی اثر نہ ہو اس لیے مفتی صاحب سے رہنمائی لیتے ہیں۔ مفتی صاحب سوال یہ ہے کہ ہمارے نکاح پر اس کے کیا اثرات ہیں؟

سسر کابیان:

محترم مفتی صاحب میں اللہ تعالیٰ کو حاضر وناظر جان کر یہ بیان دے رہا ہوں کہ ایک دفعہ ایسا ہوا  میں نے بچی کو کوئی بات کہنی تھی اور وہ میری طرف متوجہ نہیں ہورہی تھی تو میں نے اس کے بازو کو پکڑ  کر اپنی طرف کھینچا کہ میرے وجود کا کچھ حصہ اس سے لگ گیا، اس کو لگا کہ میں گلے لگانے لگا ہوں جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں تھا اور نہ ہی میرے وہم وگمان میں ایسی کوئی بات تھی، اس کو میرا اس طرح سے کھینچنے والا عمل برا لگامیں نے اسی وقت اس کو کہہ دیا  کہ بیٹا میرا ایسا کوئی ذہن  نہیں اور میں نے اس عمل پر معذرت بھی کی کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔

تنقیح:سائلہ سے فون پر بات ہوئی تو اس نے کہا کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ اس وقت سسر کو شہوت نہیں تھی،نیزسسر کا بھی یہی کہنا ہے کہ مجھے شہوت نہیں تھی۔ شوہر نے بھی والد کے بیان کی تصدیق کی ہے۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں آپ کا نکاح صحیح ہے اس کی وجہ  سے آپ کے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔

توجیہ: چھونے سے حرمت مصاہرت ثابت ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ درمیان میں کپڑا وغیرہ حائل نہ ہو اور اگر ہو تو اتنا باریک ہو کہ جسم کی گرمائش محسوس ہوتی ہو۔ مذکورہ صورت میں جب مرد نے لڑکی کو چھوا تو درمیان میں ایسا کپڑا تھا جس سے جسم کی گرمائش محسوس نہیں ہوئی اس لیے حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی لہذا مذکورہ نکاح درست اور صحیح ہے۔

شامی(6/116) میں ہے:

(و) أصل (‌ممسوسته بشهوة) ولو لشعر على الرأس بحائل لا يمنع الحرارة

وفى الشامية:(قوله: بحائل لا يمنع الحرارة) أي ولو بحائل إلخ، فلو كان مانعا لا تثبت الحرمة، كذا في أكثر الكتب

ہندیہ (2/22) میں ہے:

‌ثم ‌المس ‌إنما ‌يوجب حرمة المصاهرة إذا لم يكن بينهما ثوب، أما إذا كان بينهما ثوب فإن كان صفيقا لا يجد الماس حرارة الممسوس لا تثبت حرمة المصاهرة وإن انتشرت آلته بذلك وإن كان رقيقا بحيث تصل حرارة الممسوس إلى يده تثبت، كذا في الذخيرة

البحر الرائق (3/177) میں ہے:

وانصرف اللمس إلى ‌أي ‌موضع ‌من ‌البدن بغير حائل، وأما إذا كان بحائل فإن وصلت حرارة البدن إلى يده تثبت الحرمة وإلا فلا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved