• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سسر کا بہو کو بوس وکنار کرنے سے حرمت مصاہرت کا حکم

استفتاء

میری شادی کو 7 ماہ کا عرصہ ہوا ہے۔ میرے شوہر ایک شریف النفس اور نیک  انسان ہیں ۔ میرے ساتھ ان کا رویہ بہترین ہے۔ ہم دونوں ایک اچھی زندگی گزار رہے تھے  لیکن میرے سسر جو کہ 70,80 سال کی عمر کے ہیں اور دل کے مریض ہیں میں ان کی خدمت کرتی ان کی ستر سے اوپر تک صفائی ستھرائی کا خیال رکھتی۔ اس عمل کا سسر صاحب نے غلط استعمال شروع کر دیا ۔ جو کہ درج ذیل ہیں:

مجھے 2 سے 3 مرتبہ منہ(ہونٹوں)، رخسار گردن پر  بوس و  کنار کیا، غیر شرعی چھونا شروع کیا ،ہم جوائنٹ فیملی سسٹم میں رہتے ہیں ۔ساس،سسر جیٹھ،جیٹھانی اور ان کے بالغ  2 لڑکے بھی ساتھ ایک جگہ پر رہتے ہیں ۔ سسر صاحب ان سب سے چھپ کر میرے تعاقب میں رہتے۔ میں جس کمرے میں جاتی  وہاں آ کر مجھے پریشان کرتے ۔میرے لیے صریح الفاظ میں غیر ضروری جملے بولتےمثلاً:

(۱)  ” میری بن کے رہو بڑا خوش رکھوں گا”  ۔

(۲)” میرے ساتھ سیٹ ہو جاؤ، کسی کو بتانا مت”

(۳) ” گھر میں کتنا ہی طوفان آجائے میرے ساتھ بے وفائی نہ کرنا ” وغیرہ وغیرہ ۔

سسر صاحب دماغی لحاظ سے بلکل ٹھیک ہیں ۔ یہ سب انہوں نے اپنے ہوش و حواس میں کہا اور کیا۔ اور وہ اس بات کی تصدیق کرتے  ہوئے یہ بیان دیتے ہیں کہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔یہی وجہ ہے کہ میرے شوہر  بھی مجھے اسی گھر میں آنے پر مجبور کررہے ہیں اور بچھلے ڈیڑھ ماہ سے رابطہ بھی منقطع کیا ہوا ہے۔

میں 3 ماہ سے اپنی عزت بچا کر اپنے میکے آئی ہوں لیکن میرے شوہر بضد ہیں کہ اسی گھر میں آؤ آ ئندہ ایسا نہیں ہو گا۔ مفتی صاحب میرے 2 سوال ہیں :

1۔ سسر صاحب کی ان حرکات سے ہمارا نکاح تو باطل نہیں ہوا؟

2۔ کیا مجھے دوبارہ اس گھر میں جانا چاہیے  جہاں سسر صاحب اور باقی غیر محرم رشتہ دار موجود ہوں؟

میں یہاں یہ بات واضح کرنا چاہوں گی کہ میرے سسر زنا کے مرتکب نہیں ہوئے، سوائے اس کے کہ غیر شرعی چھونا، بوس و کنار اور غیر ضروری جملے کہے ۔

وضاحت مطلوب ہے: کیا شوہر آپ کی اس بات کی تصدیق کرتا ہے؟شوہر کا بیان اور رابطہ نمبر مہیا کیا جائے ۔

جواب وضاحت:****

دارالافتاء کے نمبر سے شوہر  سے رابطہ کیا گیا تو اس نے یہ بیان دیا کہ:

“میرے والد صاحب ان سب باتوں کا انکار کرتے ہیں اور میں حلفاً یہ کہتا ہوں کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ والد صاحب سچے ہیں اور میری بیوی جھوٹی ہے والد نے ایسا کچھ نہیں کیا”

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

(1) مذکورہ صورت میں فقہ حنفی کے عام ضابطے کی رو سے حکم یہ ہے کہ   چونکہ شوہر بیوی کی تصدیق نہیں کرتا اور اس  بات پر قسم بھی دیتا ہے کہ میرا غالب گمان یہ ہے کہ میری بیوی اپنے دعوے میں سچی نہیں اور میرے والد صاحب  سچے ہیں انہوں نے ایسا  کچھ نہیں کیا لہٰذا شوہر کے حق میں حرمت مصاہرت ثابت نہیں ہوئی تاہم اگر بیوی اپنے دعوے میں سچی ہے تو اس کے حق میں حرمت مصاہرت ثابت ہوگئی ہے اور اس کے لیے شوہر کے پاس رہنا اور میاں بیوی والے تعلقات قائم کرنا  جائز نہیں۔

البتہ موجودہ دور میں بعض اہل علم کی رائے یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں بیوی شوہر پر حرام نہ ہوگی اور بیوی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی گنجائش ہے۔ اس کی تفصیل “فقہ اسلامی ” مصنف ڈاکٹر مفتی عبدالواحد صاحبؒ میں ہے۔خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں بیوی کو اپنے شوہر کے ساتھ رہنے کی گنجائش ہے۔

(2)  جوائنٹ فیملی  سسٹم میں اگر شوہر نے آپ کے لیے الگ کمرہ ، کچن، باتھ روم  کا انتظام کیا ہو کہ جس میں اشیاء ضروریہ رکھ کر تالا لگاسکتی ہوں اور اس میں کسی کا عمل دخل نہ ہو تو ایسی صورت میں شوہر کے ذمہ واجب رہائش کی ذمہ داری پوری ہوجاتی ہے اس لیے آپ اس گھر میں جاسکتی  ہیں، اگر انتظام نہیں کیا  ہے تو شرعاً شوہر پر  یہ لازم ہے کہ آپ کے لیے ایسی رہائش کا انتظام کرلے کہ جس میں کسی کا عمل ودخل نہ ہو۔نیز آئندہ سسر کی جسمانی خدمت سے اجتناب کر یں  اور تنہائی کی نوبت بھی نہ آنے دیں جس میں شیطان کو دخل اندازی کا موقع ملے۔

فتح القدیر (3/213)میں ہے:

وثبوت الحرمة بمسها مشروط بأن يصدقها أو يقع في أكبر رأيه صدقها. وعلى هذا ينبغي أن يقال في مسه اياها: لاتحرم على أبيه وإبنه إلا ان يصدقاه أو يغلب على ظنهما صدقه. ثم رأيت عن أبى يوسف أنه ذكر في الامالى ما يفيد ذالك، قال: إمرأة قبلت ابن زوجها وقالت كان عن شهوة، إن كذبها الزوج لايفرق بينهما، ولو صدقها وقعت الفرقة.

ہندیہ(1/276) میں  ہے:

رجل تزوج امرأة على أنها عذراء فلما أراد وقاعها وجدها قد افتضت فقال لها: من افتضك؟ . فقالت: أبوك إن صدقها الزوج؛ بانت منه ولا مهر لها وإن كذبها فهي امرأته، كذا في الظهيرية.

‌رجل ‌قبل امرأة أبيه بشهوة أو قبل الأب امرأة ابنه بشهوة وهي مكرهة وأنكر الزوج أن يكون بشهوة فالقول قول الزوج، وإن صدقه الزوج وقعت الفرقة ويجب المهر على الزوج

درمختارمع ردالمحتار(4/121)میں ہے:

(وإن ادعت الشهوة) في تقبيله أو تقبيلها ابنه (وأنكرها الرجل فهو مصدق) لا هى

وفي الشامية تحت قوله: (فهو مصدق) لأنه ينكر ثبوت الحرمة والقول للمنكر

حیلہ ناجزہ (88) میں ہے:

’’جب عورت دعویٰ کرے کہ میرے اور خاوند کے اصول و فروع  میں سے فلاں مرد کے درمیان یا خاوند اور میرے اصول و فروع میں سے فلاں عورت کے درمیان ایسا ایسا واقعہ پیش آیا ہے جو حرمت مصاہرت کا موجب ہے لہذا مجھ کو میرے خاوند سے الگ کردیا جائے تو قاضی یا اس کا قائم مقام اولا شوہر سے بیان لے، اگر اس نے عورت کے بیان کی تصدیق کر دی تب تو تفریق کا حکم کر دیا جائے اور اگر خاوند نے اس کے دعوی کی تصدیق نہ کی تو عورت سے گواہ طلب کیے جائیں اگر گواہ پیش نہ ہوں یا ان میں شرائط شہادت موجود نہ ہوں تو خاوند سے حلف لیا جائے اگر وہ حلف کرلے تو مقدمہ خارج کر دیا جائے۔

حیلہ ناجزہ(91) میں ہے:

اگر عورت کا دعویٰ صحیح تھا مگر شہادت معتبرہ پیش نہ ہو سکی اور خاوند نے حلف کر لیا اس واسطے قاضی نے مقدمہ خارج کر دیا یعنی نہ تفریق کی اور نہ زوجیت میں رہنے کا حکم دیا تو اس عورت کے لیےجائز نہیں کہ شوہر کو اپنے نفس پر قدرت دے بلکہ خلع وغیرہ کے ذریعہ  اپنے آپ کو اس سے علیحدہ کرنے کی کوشش کرے اور اگر کوئی تدبیر کارگر نہ ہو تو جب تک اپنا بس چلے اس شوہر کو پاس نہ آنے دے ( كما صرح به في الدر المختار و غيره في من سمعت من زوجهاالطلاق الثلاث ولا بينة لها)

فتاوی شامی (449/4) میں ہے:

والمرأة كالقاضي إذا سمعته أو أخبرها عدل لا يحل له تمكينه.

فتاوی شامی (5/324) میں ہے:

(‌وكذا ‌تجب ‌لها السكنى في بيت خال عن أهله)……… (وأهلها)  بقدر حالهما كطعام وكسوة وبيت منفرد من دار له غلق. زاد في الاختيار والعيني: ومرافق، ومراده لزوم كنيف ومطبخ، وينبغي الإفتاء به بحر (كفاها) لحصول المقصود هداية. وفي البحر عن الخانية: يشترط أن لا يكون في الدار أحد  من أحماء الزوج يؤذيها.

(قوله لحصول المقصود) هو أنها على متاعها؛ ‌وعدم ‌ما ‌يمنعها من المعاشرة مع زوجها والاستمتاع (قوله وفي البحر عن الخانية إلخ) عبارة الخانية: فإن كانت دار فيها بيوت وأعطى لها بيتا يغلق ويفتح لم يكن لها أن تطلب بيتا آخر إذا لم يكن ثمة أحد من أحماء الزوج يؤذيها. اهـ.

قال المصنف في شرحه: فهم شيخنا أن قوله ثمة أشار للدار لا البيت؛ لكن في البزازية: أبت أن تسكن مع أحماء الزوج وفي الدار بيوت إن فرغ لها بيتا له غلق على حدة وليس فيه أحد منهم لا تمكن من مطالبته ببيت آخر. اهـ فضمير فيه راجع للبيت لا الدار وهو الظاهر، لكن ينبغي أن يكون الحكم كذلك فيما إذا كان في الدار من الأحماء من يؤذيها وإن لم يدل عليه كلام البزازي. اهـ

قلت: وفي البدائع: ولو أراد أن يسكنها مع ضرتها أو مع أحمائها كأمه وأخته وبنته فأبت فعليه أن يسكنها في منزل منفرد؛ لأن إباءها دليل الأذى والضرر ولأنه محتاج إلى جماعها ومعاشرتها في أي وقت يتفق لا يمكن ذلك مع ثالث؛ حتى لو كان في الدار بيوت وجعل لبيتها غلقا على حدة قالوا ليس لها أن تطالبه بآخر. اهـ فهذا صريح في أن المعتبر عدم وجدان أحد في البيت لا في الدار.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved