- فتوی نمبر: 26-13
- تاریخ: 09 جون 2026
- عنوانات: عبادات > نماز > نماز پڑھنے کا طریقہ
استفتاء
ایک شخص کی عادت ہے کہ قومہ اور جلسہ نماز میں نہیں کرتا ۔ تو کیا اس کی نماز سجدہ سہو سے درست ہوجائے گی؟
وضاحت مطلوب ہے کہ: 1) سائل کا اس کا سوال سے کیا تعلق ہے؟
2)قومہ اور جلسہ نہ کرنے کا کیا مطلب ہے؟
جواب وضاحت: 1)سائل امام مسجد ہے، ہمارے محلے بہت سارے نوجوان اس مرض میں مبتلا ہیں، امام صاحب نے بار بار سمجھایا لیکن وہ کہتے ہیں کسی مستند ادارے کا فتوی لے آؤ کہ اس طرح نماز نہیں ہوتی۔
2)رکوع سے فوراً سجدہ میں جاتے ہیں اور ایک سجدہ سے سر اٹھاتے ہی دوسرے میں چلے جاتے ہیں۔ یہ مستقل عادت ہے۔ تو کیا جو شخص عادتاً اس طرح واجب ترک کرتا ہے تو ا سکی نماز سجدہ سہو سے درست ہوسکتی ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
راجح قول کے مطابق نماز میں قومہ(یعنی رکوع کے بعد سیدھا کھڑا ہونا) اور جلسہ(یعنی دو سجدوں کے درمیا ن میں بیٹھنا) اسی طرح قومہ اور جلسہ میں ایک مرتبہ سبحان اللہ کی مقدار ٹھہرنا واجب ہے۔ لہٰذا اگر کوئی آدمی عمداً (جان بوجھ کر یا مسئلہ معلوم نہ ہونے کی وجہ سے) بالکل قومہ یا جلسہ ہی نہیں کرتا یا قومہ یا جلسہ تو کرتا ہے لیکن ایک مرتبہ سبحان اللہ کی مقدار نہیں ٹھہرتا تو ایسی صورت میں اس کی نماز تو ہوجائے گی لیکن مکروہ تحریمی ہوگی اور اس کا اعادہ واجب ہوگا سجدہ سہو کرنا کافی نہ ہوگا۔ اوراگر قومہ یا جلسہ یا ایک مرتبہ سبحان اللہ کی مقدار ٹھہرنے کو بھول کر چھوڑتا ہے تو اس صورت میں سجدہ سہو واجب ہوگا اور سجدہ سہو کر لینے سے نماز درست ہو جائے گی۔ اور اگر سجدۂ سہو نہ کیا تو نماز کا اعادہ واجب ہوگا۔
فتاوی شامی(2/194-193) میں ہے:
(ولها واجبات… تعديل الارکان) اى تسکين الجوارح قدر تسبيحة فى الرکوع و السجود و کذا في الرفع منهما على ما اختاره الکمال. قال الشامي رحمه الله تحت قوله: (و کذا في الرفع منهما): أي يجب التعديل أىضاً في القومة و الجلسة أيضاً.. قوله: (على ما اختاره الکمال) قال في البحر: و مقتضى الدليل وجوب الطمانية في الاربعة: اي في الرکوع و السجود و في القومة و الجلسة، ووجوب نفس الرفع من الرکوع و الجلوس بين السجدتين للمواظية على ذلک کله، ولأمر في حديث المسئي صلاته، و لما ذکره قاضيخان من لزوم سجود السهو بترک الرفع من الرکوع ساهياً، وکذا في المحيط، فيکون حکم الجلسة بين السجدتين کذلک… والقول بوجوب الکل هو مختار المحقق ابن الهمام و تلميذ ابن الامر حاج، حتى قال: إنه الصواب…الخ
شامی(2/181) میں ہے:
(ولها واجبات) لا تفسد بترکها و تعاد وجوباً في العمد و السهو إن لم يسجد له، وإن لم يعد يکون فاسقاً آثماً……………الخ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved