• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

ایک مدرسے کے لیے کیا ہوا چندہ دوسر ے مدرسے میں استعمال کرنا

استفتاء

میرے گاؤں میں ایک دوسرے بڑے گاؤں کے مدرسہ کے مہتمم صاحب اپنے سالانہ جلسہ کا چندہ کرنے کے لیے آئے تھے ۔تو ہمارے محلے والوں نے چندہ لکھوایا اور مہتمم صاحب لوگوں کو یہ کہہ کر گئے تھے کہ جنہوں نے پیسے لکھوائے ہیں وہ اپنے مولوی صاحب (عبدالوارث ) کو جمع کرادینا ۔مجھے اکثر لوگوں نے پیسے جمع کردیے ان کا  14 فروری کو جلسہ تھا میں  14فروری والے دن جلسہ پر گیا تو جمع شدہ رقم میں نے مہتمم صاحب کو جمع کرادی ۔اب میرے پاس اس سال تقریبا  9 بچیوں نے ناظرہ قرآن مکمل کیا اور  4 نے ماشاءاللہ حفظ کرلیا ہے اور میں نے ان بچیوں کا ذہن بنایا اور ان کے والدین کا بھی کہ ان بچیوں کو عالمہ بناؤ اوران کے والدین مان بھی گئے لیکن ہمارے گاؤں بنات کا مدرسہ نہیں تھا ۔تو یہ صورت نکالی کہ ان بچیوں کے لیے  رکشہ خریدا جائے اور اس بڑے گاؤں والے بنات کے مدرسہ میں (مذکورہ بالا مہتمم کا مدرسہ جن کے لیے چندہ اکھٹا کیاگیاتھا )بچیوں کو بھیجا کریں ۔اب میں نے  رکشے کے لیے چندہ بھی اکھٹا کرنا شروع کر دیا ہے ہمارا گاؤں چونکہ چھوٹا ہے رکشے  کا چندہ مکمل نہیں ہورہا ۔تو   مسئلہ یہ پوچھنا تھا  اس مہتمم صاحب کو بتائے بغیر جو چندہ لکھوایا گیا تھا اس سے بچا ہوا چندہ میں اپنے رکشے  کے چندے میں استعمال کر سکتا ہوں۔اور یہ  رکشہ  میرے مدرسے کے نام ہوگا ۔

یہ بات اچھی طرح ذہن میں رکھنا کہ جس مہتمم صاحب کے مدرسے کےلیے چندہ لکھوایا تھا جسے میں جمع کر رہا ہوں،میں  نے اسی مدرسے میں اپنی طالبات کو بھیجنا ہے ۔یعنی میں جن طالبات کے لیے  رکشے  کا انتظام کر رہا ہوں ان طالبات نے جانااسی چندہ والے مدرسہ میں  ہے ۔یعنی ایک طرح سے وہ طالبات  اسی مدرسہ کی طالبات ہیں ۔

وضاحت مطلوب ہے :(1)کیاجلسے کے بعد آپ نے لوگوں کو اس بارے میں بتادیا تھا کہ میں اپنے مدرسے کے رکشے کے لیےچندہ کررہا ہوں ؟

(2)جن طالبات کو دوسرے مدرسے چھوڑنے کے لیے رکشہ جائے گاان سے کرایہ وغیرہ بھی وصول کیا جائے گا یا نہیں ؟

جواب وضاحت :(1)جی ہاں جب میں بقیہ چندہ وصول کرنے گیا تھا تولوگوں  کواس بارے میں بتادیاتھا کہ اس  چندے سے میں اپنے مدرسے کےلیےرکشہ خریدوں گااوران لوگوں نے اس کی اجازت دے دی تھی۔  اب میں نے رکشہ خرید لیا ہے۔

(2)ان طالبات کے سرپرست سے کرایہ(500روپے ماہانہ) وصول کیا جاتا ہے لیکن اس کرائے سے بمشکل ڈرائیور کی تنخواہ پوری ہوتی ہے باقی سب  خرچہ رکشے کے پیٹرول وغیرہ کاہمیں خود اپنے مدرسے کے چندے سے کرناپڑتا ہے ۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں چونکہ آپ نے چندہ لیتے وقت چندہ دینے والوں سے اس کی اجازت لے لی تھی اور انہوں نے بھی آپ کو یہ چندہ  مدرسے کے رکشے کے پیسوں میں شامل کرنے کی اجازت دیدی تھی لہٰذاآپ  کااس چندے کی رقم کو  رکشے  کی قیمت میں شامل کرنا درست ہے ۔ اوریہ  رکشہ چونکہ آپ نے اپنے مدرسے کے لیے لیا ہے اس میں دوسرے مدرسے کی طالبات کو مارکیٹ سے کم معاوضے میں چھوڑ کرآنا جائز نہیں البتہ اگر چند مخیر حضرات سے چندہ کرکے ان  کی اجازت سے  ان کے دیے ہوئے چندے کو  رکشے  کے اخراجات میں استعمال کیا جائے تواس کی گنجائش ہے ۔

فتاوی شامی (682/6)میں ہے :

انهم صرحوابأن مراعاة غرض الواقفين واجبة.

البحرالرائق(234/5)میں ہے :

ما إذا اختلف الواقف أو اتحد الواقف واختلفت الجهة بأن بنى مدرسة ومسجدا وعين لكل وقفا وفضل من غلة أحدهما لا يبدل شرط الواقف……….وقدعلم انه لا يجوز لمتولى الشيخونية بالقاهرة صرف احد الواقفين للآخر.

الفقہ الاسلامی(218/8)میں ہے :

 وان اختلف احدهما بان بنى رجلان مسجدين او رجل مسجدا ومدرسة ووقف عليهما اوقافالا يجوز للحاكم نقل مخصص احدهما للآخر.

فتاوی دارالعلوم دیوبند (505/13)میں ہے :

سوال :ایک شخص نے برائے تعمیر مسجد لوگوں سے چندہ وصول کیا ،پھر سب اپنے خرچ میں صرف کرلیا،اب وہ چاہتا ہے کہ یہ روپیہ اپنے پاس سے فقراءکو دے دوں اگر بجائے تعمیر مسجد کے بھوکے کو دے دیا جائے تو جائز ہے یا نہیں ؟

جواب :چندہ دینے والوں سے دریافت کرنے سے معلوم ہوسکتا ہے ،اگر وہ اجازت دیں تو غریب کو دیا جاسکتا ہے ……الی آخرہ

فتاوی محمودیہ (197/)میں ہے :

اگر سائبان بنانے کی مصلحت نہیں ہے تو جن لوگوں نے سائبان بنانے کے لیے چندہ دیا ہے،ان کی اجازت ومرضی سے اس روپیہ کو کنوئیں کی مرمت ،نل وغیرہ میں صرف کردیا جائے یا دوستی مسجد میں دے  دیاجائے، اسی طرح اینٹ بالو وغیرہ سامان کا حکم ہے کہ ان کی اجازت کے موافق صرف کرنا درست ہے ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved