• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

سال پورا ہونے سے پہلے مال گم ہو جائے تو زکوۃ واجب ہو گی یا نہیں؟

استفتاء

1۔اگر کسی عورت کے پاس 3 یا 4 تولہ یا اس سے زیادہ سونا ہو اگر اس نے سال میں ایک یا دو دفعہ سونا استعمال کیا تو کیا اس سونے کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی ؟

2۔اگر سال پورا ہونے سے پہلے وہ سونا گم ہو جاتا ہے لیکن اس کو استعمال کرتے رہے ہیں تو اس کی زکوۃ ادا کرنی ہوگی ؟

3۔زکوۃ کی رقم کسی جامعہ کی تعمیر میں دے سکتے ہیں ؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1۔اگر سونے کے ساتھ چاندی،  مال تجارت یا نقدی موجود ہو خواہ ایک روپیہ ہی ہو تو زکوۃ ادا کرنی ہوگی چاہے سونا استعمال میں ہو یا نہ ہو۔

2۔مذکورہ صورت میں اس  سونے کی زکوۃ واجب نہیں ہوگی خواہ استعمال کیا ہو یا نہ کیا ہو ۔

3۔نہیں دے سکتے ۔

شامی (3/278 ) میں ہے :

(وقيمة العرض) للتجارة (تضم إلى الثمنين) لأن الكل للتجارة وضعا وجعلا (و) يضم (الذهب إلى الفضة) وعكسه بجامع الثمنية (قيمة).

(قوله ويضم إلخ) أي عند الاجتماع. أما عند انفراد أحدهما فلا تعتبر القيمة إجماعا بدائع؛ لأن المعتبر وزنه أداء ووجوبا كما مر. وفي البدائع أيضا أن ما ذكر من وجوب الضم إذا لم يكن كل واحد منهما نصابا بأن كان أقل، فلو كان كل منها نصابا تاما بدون زيادة لا يجب الضم بل ينبغي أن يؤدي من كل واحد زكاته، فلو ضم حتى يؤدي كله من الذهب أو الفضة فلا بأس به عندنا، ولكن يجب أن يكون التقويم بما هو أنفع للفقراء رواجا وإلا يؤد من كل منهما ربع عشره.

شامی (3/278 ) میں ہے :

 (وشرط كمال النصاب) ولو سائمة (في طرفي الحول) في الابتداء للانعقاد وفي الانتهاء للوجوب (فلا يضر نقصانه بينهما) فلو هلك كله بطل الحول۔

شامی (3/341) میں ہے :

ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد)۔

فتاویٰ عثمانی (2/ 70) میں ہے:

’’پانچ تولہ سونے کے ساتھ اگر ایک روپیہ کے برابر نقدی بھی ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب ہے اور اتنی نقدی تو ہوتی ہی ہے۔ ہاں اگر واقعتاً ایک روپیہ کے برابر بھی نقدی نہ ہو تو بے شک صرف سونے پر زکوٰۃ اس وقت تک نہ ہو گی جب تک وہ ساڑھے سات تولہ نہ ہو جائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved