- فتوی نمبر: 26-80
- تاریخ: 17 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مساجد کے احکام
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے علاقے میں ایک پرانی مسجد تھی جس کی چھت لکڑیوں سے بنی ہوئی تھی، اب اہل محلہ نے اس مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا اور اس کی چھت گاڈر اور ٹائرن سے بنائی اور جو مسجد کے پرانے شہتیر تھے اس کو ایک جگہ محفوظ رکھا کیونکہ اب وہ مسجد سے فالتو ہیں، اب مسجد کی کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ یہ لکڑی(شہتیر) کرایہ پر دیتے ہیں، جو شخص گھر وغیرہ تعمیر کرتا ہے وہ اس مسجد کی لکڑی کو لاتے ہیں اور فی دن کے حساب سے مسجد کو کرایہ دیتے ہیں اور کرایہ کی رقم مسجد کی ضروریات پر خرچ ہوتی ہے۔
کیا ایسا کرنا(یعنی مسجد کے فالتو لکڑی کرایہ پر دینا) جائز ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مسجد کی انتظامیہ کا شہتیر کرایہ پر دینا اور اس کرایہ کو مسجد کی ضروریات میں خرچ کرنا درست ہے۔
الاسعاف (191)میں ہے:
ولو لم يذكر في صك الوقف إجارته، فرأى الناظر إجارته أو دفعه مزارعة مصلحة، قال الفقيه أبو جعفر رحمه الله تعالى: ما كان أدر على الوقف، وأنفع للفقراء جاز له فعله.
فتاوی قاضی خان(3/332)میں ہے:
قال الفقيه أبو جعفر: إذا لم یذکر الواقف في صک الوقف إجارۃ الوقف، فرأی القیم أن یواجرها ویدفعها مزارعة فما کان أدر علی الوقف وأنفع للفقراء فعل
فتح القدیر(6/224)میں ہے:
وإنما یملک الإجارة المتولي أو القاضي.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved