- فتوی نمبر: 26-117
- تاریخ: 20 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مساجد کے احکام
استفتاء
کیا فر ماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارے گاؤں میں ایک مسجد ہے اس کی مغربی دیوار کی طرف ایک کنال زمین کسی نے مسجد کے لیے وقف کردی لیکن پرانی مسجد اور نئی مسجد کے درمیان پانی کا ایک نالہ ہے تو مسجد کے منتظمین نے اس وقف شدہ زمین پر نئی مسجد بنادی اور پرانی مسجد کو شہید کردیا اور اس پرانی مسجد کو بطور صحن شامل کرتے ہیں لیکن چونکہ نئی مسجد اور پر انی مسجد کے درمیان پانی کا ایک نالہ بھی ہے اور مالک نے اس نالے کو وقف نہیں کیا،صرف یہ اجازت دی ہے کہ اس کے اوپرچھت ڈال کر راستہ بنالیں اور پرانی مسجد کے دائیں جانب ایک برآمدہ بنارہے ہیں جس میں گاؤں کے بچے قرآن کریم پڑھیں گے حفظ وناظرہ وغیر ہ۔تو اب پوچھنا یہ ہےکہ آیا شرعی لحاظ سے اس طرح کر نا جائز ہےیانہیں؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذكوره صور ت میں پرانی مسجد بھی شرعی مسجد ہے جو ختم نہیں ہوسکتی البتہ اس کو مسجد کا صحن بنانا اور نالہ کےاوپر چھت ڈال کرراستہ بنانا درست ہے تاہم وہ راستہ مسجد شرعی نہ ہوگا اور معتکف کے لیے بلاضرورت وہاں آنا درست نہ ہوگا کیونکہ مسجد شرعی کے لیے ضروری ہے کہ وقف ہو اور چونکہ وہ جگہ وقف نہیں اس لیے مسجد شرعی نہیں ہوگی۔
بحر الرائق (5/421) میں ہے :
قوله ( ومن جعل مسجدا تحته سرداب أو فوقه بيت وجعل بابه إلى الطريق وعزله أو اتخذ وسط داره مسجدا وأذن للناس بالدخول فله بيعه ويورث عنه ) لأنه لم يخلص لله تعالى لبقاء حق العبد متعلقا به…….. وحاصله إن شرط كونه مسجدا أن يكون سفله وعلوه مسجدا لينقطع حق العبد عنه لقوله تعالى { وأن المساجد لله } الجن 18بخلاف ما إذا كان السرداب أو العلو موقوفا لمصالح المسجد فإنه يجوز إذ لا ملك فيه لأحد بل هو من تتميم مصالح المسجد فهو كسرداب مسجد بيت المقدس هذا هو ظاهر المذهب.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved