- فتوی نمبر: 26-123
- تاریخ: 20 جون 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > طلاق کا بیان > خلع و تنسیخ نکاح
استفتاء
کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میرا نکاح 17مئی2015ء کو ہوا، اور شادی 22اپریل 2016ء کو انجام پائی اور میرا شوہر صوبہ سرحد کے ضلع صوابی کے ایک میں مجھے لےگیااور میری شادی کے ڈیڑھ مہینے بعد مجھے اپنے گھر والوں کے پاس چھوڑ کر باہر(دبئی) چلا گیا۔ اس کے گھر والوں نے جہیز کم لانے پر طعنے دینے شروع کردیے اس کی ماں بات بات پر میرے جذبات مجروح کرتی۔ اس کے بھائی مجھے میرے گھر والوں کے حوالے سے طعنے دیتا، اس کے علاوہ وہ لوگ میری چھوٹی بہن کا جبراً ہاتھ(رشتہ) مانگتے رہے، میرے شوہر نے مجھ سے کئی بار میری بہن کا ہاتھ(رشتہ) اپنے چھوٹے بھائی کےلیے مانگا۔ اس کے بعد اس کی ہم نے کہیں اور بات طے کردی۔ حالات وہیں خراب ہونے شروع ہوئے اور میرا شوہر اپنے گھر والوں کےکہنے پر میری زندگی کو دوزخ بنانے لگا 14جولائی 2019ءکو میرے شوہر نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا اور اس کے ایک دن بعد اس نے مجھے مزید زدو کوب کیا کئی مرتبہ طلاق دینے کی بات کیا کرتا تھا۔اور مجھے دھمکیاں بھی دیتا کہ میرے گھر آنے کی ضرورت نہیں اٹھاؤ اپنا سامان اور جاؤ ، شادی سے لے کر ابھی تک کئی مرتبہ اس نے مجھ سے کہاکہ اپنے گھر والوں کو بلاؤ اور اپنا سامان اٹھا کر یہاں سے جاؤ، بات بات پر وہ مجھ سے لڑتا اور میرے گھروالوں کو برا بھلا کہتا اورگالم گلوچ بھی کرتا۔ اس کےگھروالے ہر معاملے میں اس کا ساتھ دیتے۔ اس کی حمایت کرکے اسے شہ دیتے۔ وہ میری کوئی بھی ذمہ داری لینے کو تیار نہ تھا جس بنا پر میں نے تعلق کو ختم کردیا اس شادی کا مقصد صرف یہ تھا کہ وہ باہر اپنے گھر والوں کی خواہشات کے حصول کےلیے جائے اور میں اس کی غیر موجودگی میں اس کے گھر والوں کی خدمت کروں۔ اور اس کی ماں، بڑا بھائی (جواس سارے معاملے میں اسے زیادہ شہ دیتا )کی خدمت کروں۔اور یہی بھائی میرے گلے میں دوپٹہ ڈال کراپنے چھوٹے بھائی کے سامنے مجھے گھسیٹتا۔ میں نے کئی بار اس سے اپنا خرچہ مانگا لیکن وہ ساری ذمہ داری اپنے گھروالوں پہ ڈال دیتا کہ وہ تمہاراخرچہ برداشت کررہے ہیں میں کچھ نہیں دیتا۔2 نومبر2017ءکو میری بچی ہوئی جو میرے گھرلاہور میں پیدا ہوئی اس کی پیدائش کا سارا خرچہ میری ماں نے اٹھایا۔ میں نے کیس کے چلنے کے دوران اپنے وکیل کے کہنے پر کئی بار اس سے علیحدہ گھر لے کر دینے کی بات کی، لیکن وہ نہ مانا۔ جس کی بنا پر میں نے اس تعلق کو ابھی حال ہی میں خلع لے کرختم کردیا ہے۔ کیا یہ خلع معتبر ہے؟1۔نکاح نامے کی کاپی ساتھ لف ہے۔2۔خلع نامے کی کاپی ساتھ لف ہے ۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً شوہر بیوی پر تشدد کرتا تھا تو عدالتی خلع کی بنا پر ایک طلاقِ بائنہ واقع ہوچکی ہےجس کی وجہ سے سابقہ نکاح ختم ہوگیا ہے۔ مذکورہ صورت میں عورت پر عدت گزارنا ضروری ہے، عدت کے بعد جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔
توجیہ: مذکورہ صورت میں عورت کی طرف سے فسخِ نکاح کی درخواست میں شوہر کےگھر والوں کا بیوی کو مارنا، اور ذہنی اذیت پہنچانا مذکور ہیں اور بیوی کے بیان میں بھی شوہر اور اس کے گھر والوں کا تشدد کرنا مذکور ہے، اور فقہائے مالکیہ کے نزدیک یہ فسخِ نکاح کی بنیاد بن سکتا ہے۔ چونکہ ضرورت کی وجہ سے فقہاء مالکیہ کے قول کو لینے کی گنجائش ہے۔ لہٰذامذکورہ صورت میں فسخ نکاح شرعاً معتبر ہے۔
مواہب الجلیل شرح مختصر خلیل(228/5) میں ہے:
(ولها التطليق بالضرر) ش:قال ابن فرحون في شرح ابن الحاجب: من الضرر قطع كلامه عنها
وتحويل وجهه في الفراش عنها وايثار امرأة عليها وضربها ضربا مؤ لما.
شرح مختصر الخلیل للخرشی(9/4) میں ہے:
( ص ) ولها التطليق بالضرر ولو لم تشهد البينة بتكرره ( ش ) يعني أنه إذا ثبت بالبينة عند القاضي أن الزوج يضارر زوجته وهي في عصمته ولو كان الضرر مرة واحدة فالمشهور أنه يثبت للزوجة الخيار فإن شاءت أقامت على هذه الحالة وإن شاءت طلقت نفسها بطلقة واحدة بائنة لخبر {لا ضرر ولا ضرار }
حاشیۃ الدسوقی(345/2) میں ہے:
(قوله ولها التطليق بالضرر) أي لها التطليق طلقة واحدة وتكون بائنة كما في عبق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved