- فتوی نمبر: 26-231
- تاریخ: 29 جون 2026
- عنوانات: حظر و اباحت > متفرقات حظر و اباحت
استفتاء
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
(1)کسی غیر محرم لڑکی کے ساتھ لمحات گزارنا باتیں کرنا ،ہاتھوں میں ہاتھ ڈالنا وغیرہ وغیرہ (جائز ہے ؟)یہ میں آپ سے اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ میرا ایک دوست ہے وہ ایسے کام کرتا ہے میں اسے بہت روکتا ہوں ،یار یہ حرام ہے لیکن وہ میری بات نہیں سنتا بلکہ وہ مجھے جواب دیتا ہے کہ لڑکی کے ماں باپ کو پتا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں، میں چاہتا ہوں آپ کوئی فتوی دیں جو میں اسے دکھا سکوں ۔
وہ یہی کہتا ہے کہ ہم نکاح کرلیں گے …حرام ہے، حرام ہے کہاں لکھا ہے؟
(2)اور دوسرا سوال یہ ہے کہ یہ جو شادیوں میں ہم لوگ پیسے دیتے ہیں دلہے کے ہاتھ میں یا جاکے لکھواتے ہیں کیا یہ دے سکتے ہیں ؟ اور شادی کے موقع پر کوئی گفٹ دینا مثلاً گھڑی، کپڑے،جوتا، یا کار وغیرہ دینا درست ہے؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
(1)مذکورہ صورت میں غیر محرم لڑکی کے ساتھ لمحات گذارنا، باتیں کرنا، ہاتھوں میں ہاتھ ڈالنا وغیرہ وغیرہ سب ناجائز اور حرام ہے قرآن پاک میں ازواج مطہرات (جو کہ امت کی مائیں ہیں) ان کے بارے میں یہ ہدایت فرمائی ہے کہ جب مسلمانوں کو ازواج مطہرات سے کچھ سامان وغیرہ بھی مانگنا پڑے تو وہ پردے کے پیچھے سے مانگیں (بے پردہ آمنے سامنے نہ ہوں) چنانچہ سورہ احزاب آیت نمبر(53)میں ہے:
وَإِذَا سَأَلْتُمُوهُنَّ مَتَاعًا فَاسْأَلُوهُنَّ مِنْ وَرَاءِ حِجَابٍ
ترجمہ:جب تمہیں نبیﷺ کی بیویوں سے کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو۔
مذکورہ آیت کے پیش نظر جب ازواج مطہرات سے کوئی بات کرنی ہو یا کچھ مانگنا ہویا کچھ پوچھنا ہو تو پردے میں بات کرنے یا مانگنے یا پوچھنے کا حکم دیاگیا ہے تو ایک عام نوجوان لڑکی کے ساتھ لمحات گذارنا ، باتیں کرنا ،ہاتھوں میں ہاتھ ڈالنا کیسے جائز ہوسکتا ہے؟
نیز حدیث میں بھی غیر محرم عورت کے ہاتھ کے چھونے کو بہت سخت بات قرار دیا ہے۔ چناچہ
معجم کبیر للطبرانی(20/211)میں ہے:
حدثنا موسى بن هارون ثنا اسحاق بن راهويه أنا النضربن شميل ثنا شداد بن سعيد الراسبي قال سمعت يزيد بن عبد الله بن الشخير يقول سمعت معقل بن يسار يقول : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن يطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمس امرأة لا تحل له
ترجمہ:حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسولِ اکرمﷺنے فرمایا:
تم میں سے کسی کے سر پر لوہے کی سوئی گاڑدی جائے یہ بہتر ہے اس سے کہ وہ کسی نامحرم عورت کو چھوئے ۔
(2) شادی کے موقع پر ایک دوسرے کو پیسے دینے میں اگر ان پیسوں کا حساب رکھا جاتا ہو اور قرض کا سا معاملہ کیا جاتا ہو توپیسےدیناجائز نہیں ہے۔اور اگر حساب نہیں رکھا جاتا اور یہ نیت نہیں ہوتی کہ ہمارے موقع پر ہمیں بھی ضرور دے تو جائز ہے۔
رد المحتار(501/8) میں ہے:
وفي الفتاوى الخيريةسئل فيما يرسله الشخص الي غيره في الاعراس ونحوها هل يكون حكمه حكم القرض فيلزمه الوفاءبه ام لا ؟اجاب إن كان العرف بأنهم يدفعونه على وجه البدل يلزم الوفاء به مثليا فبمثله وان قيميا فبقيمته وان كان العرف خلاف ذلك بأن كان يدفعونه على وجه الهبة و لا ينظرون في ذلك الى اعطاء البدل فحكمه حكم الهبة في سائراحكامه فلا رجوع فيه بعد الهلاك أوالاستهلاك والاصل فيه ان المعروف عرفا كالمشروط شرطا قلت والعرف في بلادنا مشترك نعم في بعض القرى يعدونه قرضاحتى انهم في كل وليمةيحضرون الخطيب يكتب لهم مايهدى فاذا جعل المهدى وليمة يراجع المهدى الدفتر فيهدي الاول الى الثانى مثل ما أهدى اليه.
خیر الفتاوی (601/4)میں ہے :
سوال :ہمارے علاقہ میں شادی کے موقع پر نیوتہ( نیندرہ)لیا جاتا ہے یعنی شادی میں شریک ہونے والے لوگ علاقائی رواج کی وجہ سے اس بات کے پابند ہوتے ہیں کہ وہ اس موقع پر مروجہ شرح کے مطابق نیندرہ دیں جس کا باقاعدگی سے رجسٹر پر اندراج بھی کیا جاتا ہے تاکہ ضرورت کے وقت اسے لوٹایا جائے یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس نیوتہ کی شرح وقتافوقتا بڑھائی جاتی ہے ،مثلا اس کی شرح آج سے تقریبا ۲۰سال پہلے ۲روپے بعد ازاں ۵روپے پھر۱۰ روپے اور آج عام آدمی کے لیے۲۰ روپے مقررہے، یعنی جس آدمی نے آج سے ۲۰سال قبل اپنی شادی کے موقع پر۲ روپے نیوتہ لیا ،آج وہ ۲۰روپے کی شرح سے لوٹائےگا،نیز ایک آدمی کا ایک ہی بیٹا ہے جبکہ دوسرے کے چھ بیٹے ہیں ایک بیٹے سے ایک بارہی نیوتہ وصول کرے گا اور چھ بیٹے والے کو چھ مرتبہ ان کی شادیوں کے موقع پر مقررہ شرح سے واپس ادائیگی کرے گا ۔اس بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی مطلوب ہے کیا شریعت نے ہمیں اس طرح (درج بالا)کرنے کی اجازت دی ہے ؟کیا یہ سود تو نہیں ہے؟
جواب (۱)یہ رسم نہایت قبیح ہے، ناجائز اور بدعت ہے،چونکہ یہ رقم بطورہمدردی کے نہیں دی جاتی بلکہ برادری کے دباؤ کی وجہ سے دی جاتی ہے اور نہ دینے والے کو ملامت کی جاتی ہے بلکہ برادری سے بھی نکال دیا جاتا ہے گویا یہ رقم جبرا وصول کی جاتی ہے اور جبرا کسی سے رقم وصول کرنا حرام ہے ۔
قال النبي صلى الله عليه وسلم ألا لا تظلموا ألا لايحل مال امرئ الا بطيب نفس منه او كما قال النبي عليه السلام (الحديث)مشكوة .
(۲)اور یہ رقم قرض بھی ہے جس کو موقع پر واپس کرنا ضروری سمجھا جاتا ہے ،جیسا کہ صورت مسئولہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جس کا باقاعدگی سے اندراج بھی کیا جاتا ہے تاکہ ضرورت کے وقت اسے لوٹایا جا سکے اور شامی کی عبارت سے بھی یہی مفہوم ہوتا ہے :قال في الشامية عن الخيريةسئل فيما يرسله الشخص الي غيره في الاعراس ونحوها هل يكون حكمه حكم القرض فيلزمه الوفاءبه ام لا اجاب إن كان العرف بأنهم يدفعونه على وجه البدل يلزم الوفاء به مثليا فبمثله وان قيميا فبقيمته وان كان العرف خلاف ذلك بأن كان يدفعونه على وجه الهبة (الي قوله) فلا رجوع فيه بعد الهلاك أوالاستهلاك (الي قوله) نعم في بعض القرى يعدونه قرضاحتى انهم في كل وليمةيحضرون الخطيب يكتب لهم مايهدى فاذا جعل المهدى وليمة يراجع المهدى الدفتر فيهدي الاول الى الثانى مثل ما أهدى اليه(شامی۵۱۳/۴کتاب الهبة)
اور بغیر ضرورت کے قرض لینا بھی درست نہیں کیا پتہ کہ ادائیگی کے موقع تک زندگی بھی ہوگی یا نہیں ،خدا نخواستہ قرض ادا کرنے سے پہلے موت آجائے تو پھر وعید شدید کا مستوجب ہوگا ،حدیث میں تو یوں آیا ہے کہ حضور علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا :والذي نفسي بيده لو ان رجلا قتل في سبيل الله ثم احي ثم قتل ثم احي ثم قتل وعليه دين ما دخل الجنة(الحديث،جمع الفوائد) اور پھر استطاعت کے باوجود بھی واپس نہیں کرتے جو کہ مستقل ظلم ہے ،حدیث شریف میں ہے مطل الغني ظلم(الحدیث) غنی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ۔لہذا نیوتہ لینے دینے کی شریعت میں کوئی گنجائش نہیں۔
بہشتی زیور(360) میں ہے :
۔۔۔نیوتے کی رسم میں جو اکثر تقریبوں میں ادا کی جاتی ہے ان خرابیوں کے سوا ایک اور بھی خرابی ہے وہ یہ کہ جو کچھ نیوتا آتا ہے وہ سب اپنی ذمہ قرض ہو جاتا ہے اور قرض کابلاضرورت لینا منع ہےقرض کا حکم یہ ہے کہ جب کبھی اپنے پاس ہو ادا کر دینا ضروری ہے اور یہاں یہ انتظام کرنا پڑتا ہے کہ اس کے یہاں بھی جب کبھی کوئی کام ہو تب ادا کیا جائے ،اور اگر کوئی شخص نیو تے کا بدلہ ایک ہی آدھ دن کے بعد دینے لگے تو ہرگز کوئی قبول نہ کرے یہ دوسرا گناہ ہوا ،اور قرض کا حکم یہ ہے کہ گنجائش ہو تو ادا کرو نہ پاس ہو نہ دو جب ہوگا دے دیا جائے گا یہاں یہ حال ہےکہ پاس ہو یانہ ہوقرض دام لے کر گروی رکھ کر ہزار فکر کرکے لاؤ اورضروردو پس تینوں حکموں میں شریعت کی مخالفت ہوئی اس لئے نیوتے کی رسم جس کا آج کل دستور ہے جائز نہیں ہے نہ کسی کا کچھ لواورنہ دو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved