- فتوی نمبر: 26-248
- تاریخ: 29 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > سود
استفتاء
میں نے تین سال قبل جوبلی لائف انشورنس پالیسی خریدی 36000 روپے سالانہ کے حساب سے اب تک 108000 روپے جمع کروا چکا ہوں اب مجھے احساس ہوا کہ یہ تو سودی کاروبار ہے اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف کھلا اعلان جنگ ہے۔ چنانچہ میں نے اللہ تعالی کے حضور صدق دل سے معافی مانگی توبہ واستغفار کی اور اپنی جمع شدہ رقم کی واپسی کے لیے جوبلی لائف انشورنس کے افسران کو درخواست دی تین روز قبل مجھے آفیسر نے موبائل پر کال کی اور آگاہ کیا کہ کمپنی کےقواعدو ضوابط کے مطابق پانچ سال کے بعد آپ کی جمع شدہ اصل رقم کی واپسی ہوگی اور دو سال آپ کو مزید اقساط جمع کروانی ہوں گی۔ بصورت دیگر آپ کو 50000 روپے ہم ادا کریں گے اور قواعد کے مطابق 58000 روپے معاہدہ توڑنے پر آپ کو جرمانہ ہوگا۔ اب میں پریشان ہوں کہ میری اصل رقم سے کٹوتی ہوگی ۔
براہ مہربانی قرآن و سنت کی روشنی میں میری راہنمائی فرمائیں کہ کیا میں دو سال پالیسی جاری رکھوں تو گناہ تو نہیں ہوگا جبکہ میں صدق دل سے توبہ کر چکا ہوں یا پھر یہ خسارہ برداشت کروں ؟
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مجبوری کی وجہ سے دو سال کی مزید اقساط جمع کروانے کی گنجائش ہے۔لیکن ساتھ توبہ واستغفار بھی کرتےرہیں۔
امداد الاحکام کتاب الربوا و القمار ( صفحہ 474)میں ہے:
سوال: اگر میرے والد صاحب امانت رکھ کر کچھ روپیہ سود پر قرض لیں ، بعد میں سوددے کر کیا وہ مال واپس لے سکتے ہیں یا نہیں ؟ اگر نہ لیں تو مثلا دو روپیہ کے بدلے دس روپیہ کی چیز چلی جاوے۔
الجواب: یہ مجبوری کی صورت ہے کہ سود نہ دینے میں اپنے پاس سے زیادہ قیمت کی چیز جاتی ہے جس کے معنی یہ ہوئے کہ اس وقت چیز کے نہ چھڑانے سے گویا زیادہ سود اس کے پاس جائے گا ، اس لیے اس کو سود دینا اور چیز کو چھڑا لینا جائز ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved