عام آدمی کا فضائیہ کے ملازمین کے لیے مخصوص پلاٹ خریدنا
- فتوی نمبر: 26-268
- تاریخ: 29 جون 2026
- عنوانات: مالی معاملات > خرید و فروخت > پراپرٹی کی خرید و فروخت کے احکام
استفتاء
گوجر انوالہ میں فضائیہ ہاؤسنگ سکیم کے نام سے حکومت نے ائیر فورس کے ملازمین کے لیے ایک سکیم جاری کی تھی جس میں ان کو سستے پلاٹ دیے جانے تھے ۔یہ سکیم اصلا ائیر فورس کے ملازمین کے لیے ہی تھی اس لیے صرف انہیں ہی اس میں پلاٹ لینے کی اجازت تھی بعد میں اس سکیم کے ایک الگ حصے میں عام لوگوں کو بھی پلاٹ لینے کی اجازت دی گئی مگر ان کے لیے قیمت زیادہ مقرر کی گئی ،میرا بھائی ائیر فورس میں تھا جب یہ سکیم جاری ہوئی تو اس نے مجھے کہا کہ میرا ایک دوست ہے اور اس کے پاس پیسے نہیں ہیں اگر تم چاہو تو تم پیسے دے دو وہ تمہارے پیسوں سے پلاٹ اپنے نام سے تمہارے لیے خرید لے گا بعد میں جب وہ پلاٹ بیچے گا تو آپ دونوں نفع آدھا آدھا تقسیم کر لینا اور اس کے بارے میں جو معاہدہ طے ہوا وہ آگے ذکر کیا جارہا ہے ،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا یہ معاہدہ جائز ہے؟
نوٹ : بعد میں ائیر فورس کے ملازمین کو بھی اجازت ہوتی ہے کہ وہ پلاٹ جس کو چاہیں بیچ دیں لیکن ابتداءً ائیر فورس کے ملازمین ہی خرید سکتے ہیں ۔
اقرار نامہ مابین فریقین
فریق اول :زید
فریق ثانی: خالد
- فروری 2015ء میں فریق اول (زید )نے بذریعہ گروپ کیپٹن ضیاء (جو کہ فریق ثانی کا سگا بھائی ہے) فریق ثانی (خالد )سے رابطہ کیا اور بتایا کہ فضائیہ کی ہاؤسنگ سکیم گوجرانوالہ کے لیے منظور ہوئی ہے جس کے لیے پلاٹس کی بکنگ جاری ہے۔ جو مارچ 2015ء کے پہلے عشرہ میں close ہوجائے گی۔ فریق اول نے فریق ثانی کو مزید بتایا کہ فریق اول کے پاس چونکہ پلاٹ کی بکنگ کے لیے درکار (ڈاؤن پیمنٹ)Down Payment دستیاب نہیں ہے۔ اس لیے فریق ثانی Down Payment کی رقم جمع کروا کر فریق اول کے نام پر پلاٹ بک کروا کر گوجرانوالہ کی فضائیہ ہاؤسنگ سکیم سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔
- فریق ثانی نے فریق اول کی پیشکش کو شکریہ سے قبول کرتے ہوئے فریق اول کی درخواست پر بکنگ ختم ہونے سے پہلے بروز 16فروری 2015ء میں 500Sqyds کے مندرجہ بالا پلاٹ کے لیے نقد رقم پانچ لاکھ روپے (500,000/-) ڈاؤن پیمنٹ کے لیے، نقد پندرہ ہزار روپے (Rs.15,000/-) ممبر شپ فیس Application Processing Fee کے لیے یعنی کل رقم 515,000/- روپے فریق اول کے HBL اکاؤنٹ Acct No. 22997000168403 اسلام آباد برانچ میں بذریعہ(ایچ بی ایل بینک) HBL Remittance Application جمع / Transfer کروادیئے تاکہ فریق اول اپنے نام پر درخواست PAF کے دفتر، ڈایکٹریٹ آف اسٹیٹ پر اجکٹس، ایئر ہیڈ کوارٹرز، E-9 اسلام آباد میں جمع کروادے۔
- یہ کہ فریق اول نے فریق ثانی کی مندرجہ بالا رقم کو زیر استعمال لاتے ہوئے yds کے پلاٹ کے لیے فضائیہ کی گوجرانوالہ کی ہاوسنگ سکیم میں PAF کے دفتر میں اپنے نام پر درخواست جمع کروائی۔
معاہدہ: اب مندرجہ بالا پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے فریق اول اور فریق ثانی مندرجہ ذیل شرائط و ضوابط پر باہمی رضا مندی سے یہ معاہدہ قبول کرتے ہیں کہ:
- یہ کہ پلاٹ کی کل قیمت جو Dte of Estate Project PAF کو ادا کرنا ہے فی الوقت وہ 25,00,000 روپے بنتی ہے۔ بشمول ترقیاتی اخراجات کے۔ Dte of Estate Project PAF اس میں کمی بیشی کر سکتی ہے۔ جس کا فائدہ یا نقصان فریق دوئم کو ہوگا۔
- یہ کہ فریق ثانی نے فریق اول کو 515,000/- روپے ادا کر دیئے ہیں۔ اس رقم کی ادائیگی سے فریق اول نے yds کے Size کا پلاٹ مذکورہ بالا فضائیہ کی ہاؤسنگ میں پلاٹ اپنے نام پر بک کروانے کے لیے Application جمع کروادی ہے۔ Application کی کاپی اس معاہدہ کے ساتھ لف ہے۔
- یہ کہ مذکورہ بالا ہاؤسنگ سکیم کی Plotting ہوگئی ہے اور فریق اول کے نام پر پلاٹ جس کا سائز yds نکل آیا ہے۔ بفضل خدا
- یہ کہ Yds کا پلاٹ فریق اول جو کہ PAF(پاکستان ایئرفورس) میں گروپ کیپٹن کے عہدے پر فائز ہیں او رملازم ہیں کے نام پر رجسٹرڈ اور Allotted ہو گیا ہے۔ Allotment Letter کی کاپی اس معاہدہ کے ساتھ لف ہے۔
- یہ کہ فریق ثانی بقیہ اقساط instalments/ کی رقم PAF کے شیڈیول کے مطابق ضرورت پڑنے پر فریق اول اس رقم کو PAF کے دفتر میں مذکورہ بالا پلاٹ کی مد میں جمع کروانے کا پابند ہوگا۔ یہاں تک کہ پلاٹ فریقین کی باہمی رضا مندی سے فروخت کر دیا جائے گا Payment Schedule کی کاپی اس معاہدہ کی ساتھ لف ہے۔
- چونکہ تمام investment پلاٹ کے حصول کے لیے فریق ثانی کی ہوگی اس لیے فریق اول فریق ثانی کی درخواست پر مذکورہ بالا پلاٹ مناسب وقت پر فروخت کرنے کا پابند ہوگا۔ Transfer Open ہونے کی صورت میں یا اس کے بعد مناسب وقت پر فریق ثانی فریق اول کو پلاٹ فروخت کرنے کی درخواست کر سکتا ہے اور فریق اول فریق ثانی کی درخواست پر پلاٹ کو مارکیٹ میں فروخت کرنے کا پابند ہوگا اور فریق ثانی سے ہر لحاظ سے مکمل تعاون کرے گا اور یہ کہ پلاٹ کی فروخت کے تمام مراحل میں دونوں فریق ایک دوسرے کو مکمل طور پر شامل کرنے کے پابند ہونگے۔
- پلاٹ کی فروخت سے کل حاصل شدہ رقم میں سے پلاٹ کی اصل ادا شدہ رقم / قیمت(جو کہ PAF کو ادا کی جاچکی ہوگی) فریق ثانی کو واپس ملے گی اور منافع کو دونوں فریق آپس میں برابر(یعنی 50/50فیصد) تقسیم کریں گے۔
- یہ کہ مذکورہ بالا پلاٹ کی خرید میں کوئی تیسرا فریق شامل نہیں ہے اور نہ آئندہ کیا جائے گا۔
- یہ کہ پلاٹ کے سلسلے میں فریق اول اور PAF کے دفتر کے مابین تمام Documentationاور Correspondence(نمائندگی) کی نقول فریق اول فریق ثانی کو باقاعدگی سے مہیا کرتا رہے گا۔
- فریقین نے اس معاہدہ کی تمام عبارت، مضمون اور شقوں کو پڑھ کر اچھی طرح سمجھ لیا ہے اور دونوں فریق برضاء و رغبت باہمی رضا مندی کے ساتھ گواہان ذیل کی موجودگی میں آج بروز ہفتہ مورخہ 3اکتوبر 2015ء کو اپنے اپنے دستخط ثبت کرتے ہوئے معاہدہ قبول کرتے ہیں۔
جواب از جامعہ اشرفیہ
الجواب حامدا و مصلیاً
منسلکہ معاہدہ کا مطالعہ کیا گیا، جس کا حاصل یہ ہے کہ فریق اول زید نے اپنے نام پر آپ کے لیے فضائیہ اسکیم گوجرانوالہ میں ایک پلاٹ خریدا جس کی ساری رقم فریقِ ثانی یعنی آپ کے ذمہ ادا کرنا طے ہوئی اور یہ طے ہوا کہ پلاٹ کی خریداری کے بعد فریق اول اس کو فروخت کرے گا اور حاصل ہونے والا نفع آدھا آدھا تقسیم کیا جائے گا اور شق نمبر(F) کے مطابق دونوں فریق ایک دوسرے کو فروختگی کے معاملہ میں مکمل طور پر شامل کرنے کے پابند ہوں گے۔
اس معاملہ کا شرعی حکم یہ ہے کہ مذکورہ صورت میں فریق ِ اول پلاٹ کی خریداری میں فریقِ ثانی کا وکیل ہے، فریقِ اول جب پلاٹ خرید لے گا تو فریق ثانی اس کا مالک بن جائے گا، اس کے بعد فریق اول، فریق ثانی کا وکیل بالبیع بن کر اس پلاٹ کو آگے فروخت کرے گا، یہاں تک تو معاملہ درست ہے، لیکن اس وکیل بالبیع(فریق اول) کی جو اجرت طے کی گئی ہے یعنی حاصل ہونے والے نفع کا آدھا حصہ، وہ درست نہیں، کیونکہ نفع کا ہونا موہوم ہے اور اجرت کے لیے معلوم اور متعین ہونا ضروری ہے۔ لہٰذا اجرت مقرر کرنے کی جائز صورت یہ ہے کہ پلاٹ فروخت کرنے پر فریق اول کی کوئی متعین لم سم اجرت طے کی جائے، چاہے وہ کم ہو اور اس کے ساتھ ساتھ حاصل ہونے والے نفع کا کوئی حصہ بھی طے کر لیا جائے، تو یہ صورت جائز ہوجائے گی کیونکہ اس صورت میں اجرت کا ایک جزو معلوم اور متعین ہوگیا ہے اور دوسرا جزو (یعنی نفع کا فیصدی حصہ) اگرچہ مجہول ہے لیکن یہ جہالت یسیرہ ہے جو نزاع کا باعث نہیں ہے۔
البتہ واضح رہے کہ اگر فریق اول کو اپنے محکمہ کی طرف سے کسی اور کے لیے پلاٹ خریدنے کی اجازت نہ ہو تو اس صورت میں فریقین کو محکمہ کے قوانین کی خلاف ورزی کا گناہ ہوا ہے، جس پر توبہ کرنی چاہیئے اور آئندہ کے لیے ادارے کے قواعدو ضوابط کی خلاف ورزی سے بچنا چاہیے۔
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں اس پلاٹ کے نفع میں دونوں فریق نصف نصف حصہ کے شریک ہوں گے ۔
توجیہ: مذکورہ صورت وکالت بالاستثمار(بالاجرۃ) کی ہے جس کی تفصیل یہ ہے کہ فریق دوم (خالد ) نے فریق اول (زید ) کو اس بات کا وکیل بنایا کہ وہ اس کی طرف سے فضائیہ کا پلاٹ خریدےاور پھر نفع پر بیچے اور فریق اول (زید )کی اجرت نصف نفع طے کرلی ۔شرعی لحاظ سے اجیر کی اجرت کو فیصد میں طے کرنا اگرچہ حنفیہ کے نزدیک جائز نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ بات یقینی نہیں ہوتی کہ نفع ہوگا یا نہیں ہوگا ،اوراگر ہو گا تو کتنا ہو گا حالانکہ اجرت کا معلوم ہونا ضروری ہے ، لیکن حنابلہ کے نزدیک(قیاسا علی المضاربۃ) اس کی گنجائش ہے اور آج کل چونکہ اس کی طرح کی صورتوں کا رواج ہے اس لیے ان کے قول کو لینے کی گنجائش ہے ۔لہذا مذکورہ صورت میں فریقین کو حاصل ہونے والے نفع کا 50/50 حصہ ملے گا، اورچونکہ مذکورہ صورت میں ابتدا میں ہی یہ طے ہوگیا تھا کہ فریق اول اس پلاٹ کو خریدے گا بھی اور بعد میں مناسب موقع ملنے پر بیچ بھی دے گا اور اس کی اجرت بھی اس کل کام پر ہی طے تھی اس لیے یہ کل معاملہ ایک ہی شمار ہوگا دونوں الگ الگ معاملے شمار نہیں ہوں گے۔
تنبیہ:جیسا کہ سوال میں واضح ہے کہ ابتدائی طور پر صرف فضائیہ کے ملازمین کو پلاٹ خریدنے کی اجازت ہوتی ہے اس لیے عقد صحیح ہونے کے باوجود ،غلط بیانی کرنے کی وجہ سے فریقین گنہگار ہوئے ہیں لہذا فریقین کو چاہیےکہ اس پر استغفار کریں۔
شرح مجلہ(2/ 662)میں ہے:
دفع الی رجل ثوبا وقال بعه بعشرة فما زاد فهو بینی وبینک قال ابو یوسف رحمه الله ان باعه بعشرة او لم یبعه فلا اجر له وان تعب فی ذلک
صحيح البخاری- طوق النجاة (3/ 92)میں ہے:
باب أجر السمسرة ولم ير ابن سيرين وعطاء وإبراهيم والحسن بأجر السمسار بأسا وقال ابن عباس لا بأس أن يقول بع هذا الثوب فما زاد على كذا وكذا فهو لك وقال ابن سيرين إذا قال بعه بكذا فما كان من ربح فهو لك أو بيني وبينك فلا بأس به وقال النبي صلى الله عليه وسلم المسلمون عند شروطهم
عمدة القاری شرح صحيح البخاری (18/ 285)میں ہے:
وقال ابن عباس لا بأس أن يقول بع هذا الثوب فما زاد على كذا وكذا فهو لك هذا التعليق وصله ابن أبي شيبة عن هشيم عن عمرو بن دينار عن عطاء عن ابن عباس نحوه وقال ابن سيرين إذا قال بعه بكذا فما كان من ربح فهو لك أو بيني وبينك فلا بأس به هذا التعليق أيضا وصله ابن أبي شيبة عن هشيم عن يونس عن ابن سيرين وفي ( التلويح ) وأما قول ابن عباس وابن سيرين فأكثر العلماء لا يجيزون هذا البيع وممن كرهه الثوري والكوفيون وقال الشافعي ومالك لا يجوز فإن باع فله أجر مثله وأجازه أحمد وإسحاق وقالا هو من باب القراض وقد لا يربح المقارض
فتح الباری – ابن حجر (4/ 451)میں ہے:
قوله وقال ابن عباس لا بأس أن يقول بع هذا الثوب فما زاد على كذا وكذا فهو لك وصله بن أبي شيبة من طريق عطاء نحوه وهذه أجر سمسرة أيضا لكنها مجهولة ولذلك لم يجزها الجمهور وقالوا إن باع له على ذلك فله أجر مثله وحمل بعضهم إجازة ابن عباس على أنه أجراه مجرى المقارض وبذلك أجاب أحمد وإسحاق ونقل ابن التين أن بعضهم شرط في جوازه أن يعلم الناس ذلك الوقت أن ثمن السلعة يساوي أكثر مما سمي له وتعقبه بأن الجهل بمقدار الأجرة باق قوله وقال ابن سيرين إذا قال بعه بكذا فما كان من ربح فلك أو بيني وبينك فلا بأس به وصله ابن أبي شيبة أيضا من طريق يونس عنه وهذا أشبه بصورة المقارض من السمسار
شرح صحيح البخارى ـ لابن بطال (6/ 402)میں ہے:
وأما قول ابن عباس : ( بع هذا الثوب فما زاد على كذا فهو لك ) . وقول ابن سيرين : ( بعه بكذا فما كان من ربح فهو لك ، أو بينى وبينك ) . فإن أكثر العلماء لا يجيزون هذا البيع ، وممن كرهه النخعى والحسن والثورى والكوفيون ، وقال مالك والشافعى : لا يجوز ، فإن باع فله أجر مثله . وأجازه أحمد وإسحاق ، وقالا : هو من باب القراض ، وقد لا يربح المقارض
الفقہ الإسلامی وأدلتہ للزحیلی (5/ 3326)میں ہے:
بيع السمسرة: السمسرة: هي الوساطة بين البائع والمشتري لإجراء البيع. والسمسرة جائزة، والأجر الذي يأخذه السمسار حلال؛ لأنه أجر على عمل وجهد معقول، لكن قال الشافعية: لا يصح استئجار بيّاع على كلمة لا تتعب، وإن روّجت السلعة؛ إذ لا قيمة لها.ولا بأس أن يقول شخص لآخر: بع هذا الشيء بكذا، وما زاد فهو لك، أو بيني وبينك، لما رواه أحمد وأبو داود والحاكم عن أبي هريرة: «المسلمون على شروطهم»
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved