• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

شوہر کے مار پیٹ اور خرچہ نہ دینے کی بنیاد پر خلع لینے کا حکم

استفتاء

کیا فرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری شادی دسمبر 2018ء میں ہوئی انہوں نے کہا کہ لڑکے کے تبلیغ میں 4مہینے لگے ہیں اس 4مہینے کی وجہ سے میرے والدین نے شادی کےلیے ہاں کردی۔شادی ہوگئی پھر ان کے لڑائی جھگڑے شروع ہوگئے مجھے گھر میں چھوڑ کرتالا لگا کر چلےجاتے تھے ۔شوہر شادی کے شروع میں کسی دکان پر بیٹھتا تھا بعد میں وہ بھی سب چھوڑ دیا سسر اپنی ڈیوٹی پر اور ساس مجھے اکیلا بند کرکے روز لاہور آجاتی تھی، میں سب کچھ برداشت کرتی رہی اپنے والدین کو کچھ نہیں بتایا کیونکہ میں مدرسہ سے پڑھی ہوں ۔کہتے ہیں کہ مدرسہ کی لڑکیاں  صحیح     نہیں ہوتیں وہ گھر بسانے والی نہیں ہوتیں،  میں نے پوری کوشش کی تھی کہ گھر خراب نہ ہو لیکن وہ لوگ تو بہن بھائی کے اتنے پیارے اور محترم رشتے  کو بھی خراب کرتے تھے بھائی کیساتھ خراب کرتے تھے اور میں صفائی دیتی تو باپ بیٹا دونوں مجھے دھمکیاں دیتے تھے اور خود وہ میرے سامنے لڑکیوں سے باتیں کرتا تھا اس کی ماں بہنیں خود مجھے اس کی حرکتیں بتاتی تھیں اوروہ  مجھے اپنی اور اپنی گرل فرینڈ کی گندی باتیں اور تصویریں بھی دکھاتا تھا اسی لڑائی جھگڑے میں میری بیٹی ہونے والی تھی ،پانچویں مہینے میں انہوں نے گھر سے نکالا میرے سسر نے کہا کہ میں نے اپنے بیٹے کی شادی کرنی ہے میرے ابو کو میرے شوہر نے میسج کیا کہ آپ کی بیٹی کی طبیعت خراب ہے اس کو لے جاؤ اگر کچھ ہوگیا تو میں ذمہ دار نہ ہوں گا ۔ وہ نشہ بھی کرتا تھا روز رات کو 2،3بجے نشہ کی حالت میں گھر آتا تھا ۔میں پھر اپنے ابو کےگھر آگئی پھر ابو کو فون کرکے دھمکیاں دیتا تھا ،  بد تمیزی کرتا تھا پھر بیٹی کی پیدائش سے پہلے جب ہم نےکہا کہ مل کر مسئلے کا حل نکالتے ہیں تو پھر بھی ان کی وہی بدتمیزی ،گالیاں، دھمکیاں تھیں۔ ایسے ہی کرتے کرتے میری بیٹی ہوئی، ان کو فون کیا تو اس نے وہی بدتمیزی کی ، گالیاں دیں اور کہا کہ میں نے تم کو رکھنا بھی نہیں ہے اور طلاق بھی نہیں دینی تم ایسے ہی اپنے باپ کے گھر بیٹھی ذلیل ورسوا ہوتی رہنا، پھر انہوں نے کہا کہ ہمیں بیٹی سے ملنے دیں انہوں نے خود ہی کوئی معتبر بندہ ڈالااور کہا کہ اس دن آجانا بیٹھ کر مسئلہ حل کریں گے لیکن خود ہی نہیں آئے کچھ مہینے بعد پھر ہم نے کوئی معتبر بندہ ڈالا، کہااس دن آجانا بات کریں گے وہ پھر نہیں آئے، کافی عرصہ بعد میں نے خلع کا ارادہ کیا تو میرے ابو نے خلع کا کیس کیا عدالت میں تقریباً  1 سال کیس چلا پھر یونین کونسل میں بھی 3 مہینے کیس چلا۔کیس کا فیصلہ ہمارے حق میں ہوا وہ نہ تو عدالت میں آئے اور نہ ہی یونین کونسل کے دفترمیں، ان کو نوٹس وصول ہوا لیکن  عدالت نےبیٹی کا خرچہ وغیرہ بھی لکھا ہے لیکن خرچہ کیا دینا ہے اس نے تو ایک نظر بھی نہیں دیکھا۔ میری بیٹی میرے پاس ہے اور وہ 2 سال 2 مہینے کی ہےقانونی طو پر تو میرا خلع ہوگیا ہے میرے والدین مناسب جگہ میری شادی کرنا چاہتے ہیں۔ مہربانی فرماکر اب آپ بتائیں کہ شریعت کی رو سے میرا خلع ہوا یا نہیں؟ جس دن سے انہوں نے مجھے گھر سے نکالا ہے اس دن سے  لےکر آج تک میرا ان سے کسی قسم کا کوئی رابطہ نہیں ہے۔

نوٹ: شوہر نے کئی دفعہ مجھے مارا بھی اور ایک دفعہ مجھے مارکر گھر سے بھی نکالا اس کے بعد میں ڈھائی سال اپنی ماں کے گھر رہی اس دوران اس نے خرچہ بھی نہ دیا۔

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ صورت میں اگر واقعتاً شوہر بیوی پر تشدد کرتا تھا تو عدالتی خلع شرعاً معتبر ہے جس کی وجہ سے  ایک طلاقِ بائنہ واقع ہوچکی ہےاور سابقہ نکاح ختم ہوگیا ہے۔ ، عدت کے بعد  بیوی جہاں چاہے نکاح کرسکتی ہے۔

توجیہ: مذکورہ صورت میں عورت کی طرف سے فسخِ نکاح کی درخواست میں شوہرکا بیوی کو مارنا اور  خرچہ نہ دینا مذکور ہیں اور بیوی کے بیان میں بھی شوہر کا تشدد کرنا مذکور ہے، اور فقہائے مالکیہ کے نزدیک یہ فسخِ نکاح کی بنیاد بن سکتا ہے۔ چونکہ ضرورت کی وجہ سے فقہاء مالکیہ کے قول کو لینے کی گنجائش ہے۔ لہٰذامذکورہ صورت میں فسخ نکاح شرعاً معتبر ہے۔

نوٹ: لڑکی کی والد سے لڑکے کا رابطہ نمبر طلب کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس لڑکے کا رابطہ نمبر نہیں ہے لہٰذا یہ جواب لڑکی کے بیان کے مطابق لکھا گیا ہے۔ اگر واقعی صورتحال اس مختلف ہوئی تو مذکورہ جواب کالعدم ہوگا۔

مواہب الجلیل شرح مختصر خلیل(228/5) میں ہے:

(ولها التطليق بالضرر) ش:قال ابن فرحون في شرح ابن الحاجب: من الضرر قطع كلامه عنها

وتحويل وجهه في الفراش عنها وايثار امرأة عليها وضربها ضربا مؤ لما.

شرح مختصر الخلیل للخرشی(9/4) میں ہے:

( ص ) ولها التطليق بالضرر ولو لم تشهد البينة بتكرره ( ش ) يعني أنه إذا ثبت بالبينة عند القاضي أن الزوج يضارر زوجته وهي في عصمته ولو كان الضرر مرة واحدة فالمشهور أنه يثبت للزوجة الخيار فإن شاءت أقامت على هذه الحالة وإن شاءت طلقت نفسها بطلقة واحدة بائنة لخبر {لا ضرر ولا ضرار }

حاشیۃ الدسوقی(345/2) میں ہے:

 (قوله ولها التطليق بالضرر) أي لها التطليق طلقة واحدة وتكون بائنة كما في عبق.

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved