• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

اکاؤنٹ سے رقم منتقل کرنے پر ملنے والے کیش بیک کا مستحق کون ہے؟

استفتاء

یہاں پر پیسے ٹرانسفر کرنے کا ایک ادارہ ہے جو ابھی نیا کھلا ہے ،اگر کوئی شخص اس ادارہ کے ذریعے پیسے ٹرانسفر کرے تووہ اس کو پانچ فیصد کیش بیک دیتے ہیں ،اس کے لیے اکاؤنٹ میں مخصوص مقدار کے  موجود رہنے یا ایک مخصوص مدت تک  مخصوص رقم رکھنے کی شرط نہیں ہے۔

میرا ایک دوست ہے اس نے اپنے پیسے میرے اکاؤنٹ کے ذریعے بھیجے ہیں جس کی وجہ سے مجھے کیش بیک ملا ہے۔اس کیش بیک کا مستحق میں ہوں یا میرا دوست ہے؟اگر میں اپنے دوست کو اطلاع دیئے بغیر رکھ لوں تو کیا یہ رقم میرے لیے حلال ہو گی؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مذکورہ  کیش بیک کا مستحق آپ کا دوست ہے ،البتہ اگر وہ اپنی مرضی سے آپ کو دیدے  تو آپ لے سکتے ہیں۔

توجیہ:مذکورہ صورت فقہی لحاظ سے وکالت کی ہے،جس میں اکاؤنٹ ہولڈر وکیل ہے جبکہ جس کی رقم بھیجی جا رہی وہ موکل ہے اور وکالت میں وکیل کو  جو سہولت ملتی ہے ،اس کا مستحق موکل ہوتاہے،لہذا اس رقم کا مستحق موکل ہے البتہ وہ وکیل کو دیدے تو اس کی مرضی ہے۔

المحیط البرہانی (15/65) میں ہے:

وإن حط البائع عن الوكيل بعض الثمن فإنه يحط عن المؤكل ذلك، ولو حط البائع عنه جميع الثمن لا يظهر ذلك في حق المؤكل حتى كان للوكيل أن يرجع على المؤكل بجميع الثمن.

والفرق وهو أن حط بعض الثمن يلتحق بأصل العقد، لأن التحاقه لا يوجب فساد العقد، ويصير كأن العقد من الابتداء ورد على ما وراء المحطوط. أما حط كل الثمن لا يلتحق بأصل العقد، لأن التحاقه بأصل العقد يوجب فساد العقد، فاقتصر على الحال، فلا يظهر أن العقد عقد بدون الثمن حتى يظهر ذلك في حق المؤكل، لو وهب البائع بعض الثمن من الوكيل، يظهر ذلك في حق المؤكل، حتى لم يكن للوكيل أن يرجع على المؤكل بذلك القدر، لأن هبة بعض الثمن حط، ولو وهب كل الثمن منه، لا يظهر ذلك في حق المؤكل، حتى كان للوكيل أن يرجع على المؤكل بجميع الثمن

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved