• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

میراث کا ایک مسئلہ

استفتاء

میرے والد صاحب مؤرخہ26/2/2022کو وفات پاگئے ہیں،میری والدہ اور میرااکلوتا بھائی میرے والد کی زندگی میں  ہی فوت ہوگئے تھے۔ میرے والد کاایک بھائی اوردوبہنیں زندہ ہیں، میرے والد اپنی زندگی  میں میرے بھائی کوآدھاگھر دےگئے تھے، اب میرے والد کی وفات کے بعد وراثت میں آدھا گھر اور تقریبا 60لاکھ روپے کیش رہ گیا ہے۔مہربانی فرماکربتادیں کہ (1)شرعی حساب سے مجھےاور باقی تمام لوگوں کو کتنا حصہ ملے گا۔(2)اور بھائی کی وفات کے بعدوالد کو  کتنا حصہ ملےگا اور مجھے کتنا حصہ ملےگاکیونکہ میرے بھائی کی تین بیٹیاں اور ایک بیوہ ہیں بیٹا کوئی نہیں ہے؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

1) مذکورہ صورت میں آپ کےبھائی  کےکل ترکے کو 72حصوں میں تقسیم کیا جائیگا، جس  میں  سے16حصےان کی ہر بیٹی کو 9حصےان کی بیوی کواور15حصے والدصاحب کوملیں گے،اورآپ کوبھائی کے ترکہ میں سے کچھ نہیں ملےگاَ۔

2)اور والد کے کل ترکے (آدھاگھر60لاکھ کیش،اور آپ کے بھائی کی طرف سےجو حصہ ملا ہے اس  سب کو) 36 حصوں میں تقسیم کیا جائیگاجس میں سےآپ کو18حصےاوران کی ہرپوتی  کو2حصےان کےبھائی کو6حصےاوران کی ہر بہن کو3حصے ملیں گے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved