- فتوی نمبر: 26-377
- تاریخ: 01 جولائی 2026
- عنوانات: خاندانی معاملات > وقف کا بیان > مساجد کے احکام
استفتاء
بخدمت جناب مفتیانِ کرام عرض ہے کہ:
محلہ کے چند ساتھیوں کے دل میں اللہ تعالیٰ نے ڈالا کہ محلہ میں ایک مسجد بنائی جائے تاکہ ہمارے بچے نماز، قرآن قریب اور آسانی سے پڑھ سکیں، لہٰذا چندہ اکٹھا کرکے 10 مرلہ پلاٹ دو حصوں میں پانچ پانچ مرلہ کرکے باری باری خرید لیا گیا، پھر تعمیر کی باری آئی تو ایک ٹرسٹ نے حامی بھری مگر یہ کہا کہ پلاٹ ہمارے نام کردیں پھر ہم تعمیر کرائیں گے، لہٰذا پانچ پانچ (کل دس) مرلے کے دونوں پلاٹ النفیس ٹرسٹ کے نام کردیئے گئے (نقول ساتھ لف ہیں) تعمیر شروع ہوئی تو لوگوں نے اپنی چھتوں سے دیکھا کہ محراب بن رہی ہے لہٰذا لوگوں نے پوچھ گچھ شروع کی، ٹھیکیدار نے کچھ غلط بیانی کردی، لوگ انجان مسلک والے تھے، مردوں نے عورتوں کو آگے کردیا، پولیس بلائی، کام رک گیا، ایک خاتون بولی کہ لوگوں کے اٹھنے بیٹھنے (غمی خوشی) کے لیے جگہ بنادیں، ثواب ملے گا۔ دوسری بولی کہ یہاں جماعتیں آئیں گی، مرد آئیں جائیں گے، بے پردگی ہوگی کہ عورتیں باہر اندر آتی جاتی ہیں، مردوں کی بھی ایسی ہی عجیب باتیں تھیں۔ ہم نے بھی لوگوں سے ملاقاتیں کیں، جو ہم ذہن تھے ان سے اسٹامپ پیپر پر بیانات لیے، سیاسی لوگوں کو بھی معاملہ میں ڈالا کیونکہ محلہ داروں نے پہلے کونسلرز/ چیئرمین کو استعمال کیا تھا مگر وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے کیونکہ وہ ووٹروں کو دیکھ کر چل رہے تھے، پھر اعتراض کرنے والوں سے بھی مجلس ہوئی، کچھ مانے مگر بعد میں وہ بھی دباؤ کی وجہ سے ساتھ نہ چلے۔ در پردہ شیعہ بھی تھے، ایک شخص محلہ دار محکمہ پولیس میں ہے وہ بھی انجان اور مخالف ہے۔ وقفہ وقفہ سے تین بار ہلکی پھلکی کوشش کی، ایک دفعہ چند محلہ داروں کے کہنے پر پلاٹ ہموار کرانے کی نیت سے مٹی دلوانے کی کوشش کی مگر پولیس کو کال کردی گئی کہ دہشت گرد آگئے ہیں، ساری گلی کے مرد عورتیں اکٹھے ہوگئے، راقم اس وقت تنہا تھا، گفت وشنید جاری رہی، 1:30 بج گیا، آخر خالی ٹرالی واپس بلا کر وہ مٹی جو گلی میں پلاٹ میں ڈالنے کے واسطے گرائی تھی، واپس اٹھوائی، پولیس کا مؤقف تھا کہ ہم لوگ کاغذی کاروائی مکمل کرلیں تو کوئی نہیں روکے گا۔ کاغذی کاروائی ایک الگ باب ہے، النفیس ٹرسٹ کے وکلاء نے (بقول ان کے ) کاغذات جمع کروائے مگر پیروی نہ ہوسکی۔ راقم نے بذاتِ خود جاکر عدالت عالیہ میں متعلقہ دفتر سے معلومات لیں تو ایک لمبی فہرست محکموں کی بتائی گئی، جہاں کیس چلتا چلتا آخر میں محکمہ کی دیگر مساجد کے آئمہ سے بھی پاس ہونا تھا۔ راقم نے النفیس ٹرسٹ کے وکلاء سے بھی بات چیت جاری رکھی مگر عملی طور پر ادھر سے سست روی تھی، کئی کئی مرتبہ ٹیلی فون وصول نہ کیا جاتا تھا، آخر موافق محلہ داروں نے بھی یہ کہنا شروع کردیا کہ ’’آپ لوگ یہ معاملہ ختم کریں کہ جہاں یہ حال ہے، شاید ان کے مقدر میں خیر ہی نہیں ہے‘‘ حضرات سے حالات سامنے رکھ کر مشاورت کی گئی، آخر اسی بات پر اتفاق ہوا کہ یہ پلاٹ بیچ کر قریب کوئی بنا بنایا گھر لے لیا جائے کیونکہ قریباً نو سال سے زائد ہوگئے ہیں، یہ بیل منڈیر چڑھتی نظر نہیں آتی۔
اسی دوران علاقہ کے ایک مولانا صاحب نے جن سے اکثر راقم صورتِ حال بتا کر مشورہ کیا کرتا تھا، فرمایا کہ ہم نے پلاٹ مذکورہ بالا سے کچھ فاصلہ پر **روڈ پر ایک پلاٹ برائے تعمیر مسجد خریدا ہے اور یہ کہ اس پلاٹ کو بیچ کر اس مسجد کی تعمیر میں روپیہ صرف کردیا جائے۔ چندہ جمع کرنے میں متحرک ساتھیوں میں سے ایک فوت ہو چکے ہیں، دوسرا شخص راقم موجود ہے، تیسرے متحرک بھی موجود ہیں، سو ان سے مشورہ کرکے راقم نے10,00000 دس لاکھ روپے، (جو بینک میں پڑے تھے علاوہ پلاٹ کے) کا چیک مذکورہ بالا مولانا صاحب کو دے دیا جو بقول ان کے پلاٹ کی خرید اری کی ادائیگی میں دیا جاچکا ہے۔ اب اس پلاٹ کو بیچ کر بھی اسی **روڈ والی مسجد میں لگانے کا ارادہ ہے۔ اس سلسلہ میں شریعت کی روشنی میں راہنمائی کی درخواست ہے کہ کیا ہم ایسا کرسکتے ہیں؟
چندہ سے متعلق عرض ہے کہ چندہ سے خریدی گئی جگہ جن احباب کے نام تھی ان میں سے دو نے خود بھی مالی معاونت کی تھی۔ (زید صاحب دوسرے خالد صاحب) جب کہ عمر صاحب کی جانب سے مالی معاونت کچھ نہ تھی۔ عرض ہے کہ ہمیں اس سلسلہ میں راہنمائی کی جلد ضرورت ہے لہٰذا عرض ہے کہ ترجیحی بنیاد پر اس مسئلہ کو لے لیا جائے۔ جزاک اللہ خیرا
الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً
مذکورہ صورت میں مسجد کے لیے خریدے گئے پلاٹ کو بیچ کر اس کی قیمت دوسری مسجد میں لگانا جائز نہیں۔
مسائل بہشتی زیور (187/2) میں ہے:
اگر مسجد کی کمیٹی یا انتظامیہ نے کسی جگہ مسجد بنانے کی نیت سے چندہ کی رقم سے کوئی جگہ خرید کر قبضہ کر لی ہو تو اس کو تبدیل نہیں کر سکتے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم
© Copyright 2024, All Rights Reserved