• جامعة دارالتقوی لاہور، پاکستان
  • دارالافتاء اوقات : ٹیلی فون صبح 08:00 تا عشاء / بالمشافہ و واٹس ایپ 08:00 تا عصر
  • رابطہ: 3082-411-300 (92)+
  • ای میل دارالافتاء:

مکروہ اوقات میں سجدہ دعا کے بارے میں سوال

استفتاء

میرا مسئلہ یہ تھا کہ نمازعصر سے لیکر مغرب تک کوئی سجدہ جائز نہیں اور ضحوہ کبری سے لیکرنماز ظہر تک جائز نہیں لیکن اگر کوئی آدمی اس دوران سجدہ دعاکرے مطلب سجدہ میں دعا مانگے تو جائز ہے یانہیں؟

الجواب :بسم اللہ حامداًومصلیاً

مکروہ اوقات میں سجدہ دعاکرنا جائز ہے،تاہم باجماعت نماز کےبعددعاکےلئےسجدہ کرنا مکروہ ہےخواہ وقت مکروہ ہو یانہ ہو۔

الفتاوی الہندیہ (136/1)میں ہے:

قال في الحجة ولا يمنع العباد من سجدة الشكر لما فيها من الخضوع والتعبد وعليه الفتوى كذا في التتارخانية ويكره أن يسجد شكرا بعد الصلاة في الوقت الذي يكره فيه النفل ولا يكره في غيره كذا في القنية وأما إذا سجد بغير سبب فليس بقربة ولا مكروه وما يفعل عقيب الصلوات مكروه لأن الجهال يعتقدونها سنة أو واجبة وكل مباح يؤدي إليه فمكروه هكذا في الزاهدي

فتاوی محمودیہ(380/5) میں ہے:

سوال:بعد نماز عصروبعد نماز فجر سجدہ دعا یا سجدہ شکر کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب :جائز ہے۔

خیر الفتاوی(445/2)میں ہے:

نماز کے متصل بعدسجدہ کرنا مکروہ ہے،عام حالات میں دعاکے لئےسجدہ جائز ہے مگرالتزام اس کا بھی بدعت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فقط واللہ تعالی اعلم

Share This:

© Copyright 2024, All Rights Reserved